اسلام آباد چیمبر کا شرح سود کم کر کے 4 فیصد تک لانے کا مطالبہ

اس وقت تھائی لینڈ میں شرح سود 0.5 فیصد، ملائشیا 1.5 فیصد، انڈونیشیا 3.5 فیصد، چین 3.85 فیصد، ویتنام اور انڈیا 4 فیصد، بنگلہ دیش 4.75 فیصد اور نیپال میں 5 فیصد ہے لیکن پاکستان میں بڑھا کر 7.25 فیصد کر دی گئی جو کاروبار اور معیشت کو متاثر کرے گی: صدر اسلام آباد چیمبر یاسر الیاس خان

69

اسلام آباد: اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) نے سٹیٹ بینک آف پاکستان کی طرف سے شرح سود کو 7 فیصد سے بڑھا کر 7.25 فیصد کرنے کے فیصلے پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔

ایک بیان میں اسلام آباد چیمبر کے صدر یاسر الیاس خان نے کہا ہے کہ موجودہ مشکل حالات میں شرح سود میں اضافہ کرنا معیشت کیلئے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ اس سے نجی شعبے کیلئے قرضوں کی لاگت میں مزید اضافہ ہو گا جس سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوں گی اور عام آدمی کیلئے مہنگائی مزید بڑھے گی۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ کاروباری سرگرمیوں اور معیشت کو مزید نقصان سے بچانے کیلئے حکومت شرح سود میں اضافہ واپس لے اور اس میں کمی کر کے 5 فیصد سے نیچے لائے۔

صدر اسلام آباد چیمبر نے کہا کہ کورونا وائرس کی پیدا کردہ مشکلات سے نمٹنے کیلئے بزنس کمیونٹی حکومت سے مطالبہ کرتی رہی ہے کہ شرح سود کو کم کر کے 4 فیصد تک لایا جائے تاکہ قرضوں کی لاگت کم ہونے سے بزنس کمیونٹی کاروبار کو وسعت دینے اور نئی سرمایہ کاری کرنے میں سہولت محسوس کرے لیکن اس کے برعکس سٹیٹ بینک نے شرح سود میں مزید اضافہ کر دیا ہے جس سے نجی شعبے کیلئے نئی مشکلات پیدا ہوں گی۔

خطے کے ممالک میں شرح سود کا تقابلی جائزہ پیش کرتے ہوئے یاسر الیاس نے کہا کہ اس وقت تھائی لینڈ میں شرح سود 0.5 فیصد، ملائشیا 1.5 فیصد، انڈونیشیا 3.5 فیصد، چین 3.85 فیصد، ویتنام اور انڈیا 4 فیصد، بنگلہ دیش 4.75 فیصد اور نیپال میں 5 فیصد ہے لیکن سٹیٹ بینک آف پاکستان نے اس کو بڑھا کر 7.25 فیصد کر دیا ہے جو کاروبار اور معیشت کی ترقی کو متاثر کرے گی۔

یاسر الیاس خان نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کو مستحکم کرنے کا بہتر طریقہ صنعتی و تجارتی سرگرمیوں کے فروغ کیلئے سازگار حالات پیدا کرنا ہے، حالات کا تقاضا ہے کہ حکومت ایسے اقدامات اٹھانے کی بجائے نجی شعبے کو پوری طرح اعتماد میں لے تاکہ معیشت کو پائیدار ترقی کے راستے پر ڈالنے کیلئے مشترکہ حکمت عملی وضع کی جائے۔

اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی سینئر نائب صدر فاطمہ عظیم اور نائب صدر عبدالرحمن خان کہا کہ موجودہ مشکل حالات میں حکومت کو نرم زری پالیسی اپنانے پر توجہ دینی چاہیے اور شرح سود کو بڑھانے کی بجائے کم کرنا چاہیے تا کہ نجی شعبہ آسان قرضے کی سہولت سے استفادہ حاصل کر کے کاروباری سرگرمیوں کو مزید وسعت دینے کی کوشش کرے جس سے عوام کیلئے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، بے روزگاری و غربت کم ہو گی، برآمدات و ٹیکس ریونیو میں اضافہ ہو گا اور معیشت بحالی کی طرف گامزن ہو گی۔

واضح رہے کہ 20 ستمبر کو سٹیٹ بینک کی زری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کا اجلاس ہوا جس کے بعد آئندہ دو ماہ کیلئے زری پالیسی کا اعلان کیا گیا اور شرح سود 25 بیسز پوائنٹس اضافے کے بعد 7.25 فیصد مقرر کی گئی۔

مرکزی بینک سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا کہ جولائی میں پچھلے اجلاس کے بعد زری پالیسی کمیٹی نے نوٹ کیا کہ معاشی بحالی کی رفتار توقع سے زیادہ بڑھ گئی ہے، اجناس کی بین الاقوامی قیمتوں کے ہمراہ ملکی طلب کی بھرپور بحالی درآمدات میں تیزی اور جاری کھاتے کے خسارے میں اضافے کی طرف لے جا رہی ہے۔ اگرچہ جون سے سال بہ سال مہنگائی کم ہوئی ہے تاہم بلند درآمدہ مہنگائی کے ساتھ بڑھتا ہوا طلبی دباﺅ مالی سال میں آگے چل کر مہنگائی کے اعدادوشمار میں ظاہر ہونا شروع ہو سکتا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here