41 وزارتوں کی کارگردگی جانچنے، 1090 اہداف کی نگرانی کیلئے دو سالہ معاہدے پر دستخط

وزارتوں کو رواں سال 426، آئندہ مالی سال میں 488 اہداف مکمل کرنا ہوں گے، 176 اہداف پر کام جاری، وزارتوں اور ڈویژنوں کی کارکردگی سہ ماہی بنیادوں پر جانچی جائے گی، وزیراعظم خود نگرانی کریں گے

258

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے 41 وفاقی وزارتوں کے ساتھ آئندہ دو سالوں کی کارکردگی کے حوالے سے معاہدوں پر دستخط کر دیے، اس سلسلے میں 1090 اقدامات کو حتمی شکل دی گئی ہے جن کی نگرانی کی جائے گی۔

وفاقی حکومت اس معاہدے کے تحت مختلف وزارتوں اور ڈویژنوں کی کارکردگی کو سہ ماہی بنیادوں پر جانچے گی، اس سے تمام اداروں میں شفافیت اور کارکردگی سامنے آئے گی۔

معاہدے کے تحت مختلف وزارتوں اور ڈویژنوں میں 1090 اقدامات اٹھائے جائیں گے جن میں سے مالی سال 2021-22ء کے دوران 426 اور مالی سال 2022-23ء کے دوران 488 اقدامات کئے جائیں گے جبکہ ان میں 176 اقدامات جاری ہیں۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے اسٹیبلشمنٹ شہزاد ارباب اس سارے عمل کی سہ ماہی بنیادوں پر نگرانی و جائزے کا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں۔

معاہدے پر دستخط کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ آئندہ دو سال حکومت کے لئے بہت اہم ہیں، تمام وزارتیں اپنے اہداف مقرر کریں ار ان کے حصول کیلئے محنت کریں۔

وزیراعظم نے کہا کہ آئندہ سال ہمارے لئے بہت اہمیت کا حامل ہے، اگر ہم نے اس دوران اپنے اہداف حاصل کر لئے تو حکومت کے آخری سال میں رہ جانے والے اہداف کو حاصل کرنا بھی آسان ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ ہمیشہ وہ ٹیم کامیاب ہوتی ہے جو اپنا جائزہ لیتی ہے اور اپنی کارکردگی پر نظرثانی کرتی ہے، انہوں نے وزارتوں پر زور دیا کہ انہوں نے اپنے لئے جو اہداف مقرر کئے ہیں ان کو حاصل کریں۔ مشکل میں ہار مان لینے والے کبھی آگے نہیں بڑھتے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جب ہم اپنا کوئی وژن بناتے ہیں تو اس پر سمجھوتا نہیں کرنا چاہیے، مشکل وقت میں انسان کی صلاحیتوں کا امتحان ہوتا ہے اور صبر کرنے والا ہی کامیابی سے ہمکنار ہوتا ہے اور اس کی صلاحیتوں کو جلا ملتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کے پہلے سال بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، ہم ان سب مافیاز کے سامنے کھڑے ہیں جو تبدیلی نہیں چاہتے، وہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین کی مخالفت کر رہے ہیں، ماضی میں ہر الیکشن میں دھاندلی کے الزامات لگے، ای وی ایم سے دھاندلی کا خاتمہ ہو گا، کرپٹ لوگ جو اس سسٹم سے فائدہ اٹھاتے رہے وہ ملک میں تبدیلی نہیں چاہتے۔

وزیراعظم نے کہا کہ آخری دو سال ہمارے لئے بہت اہم ہیں، ہم نے اقتصادی مشکلات پر قابو پایا اور کورونا وائرس کی وبا کی صورت حال میں مشکل فیصلے کئے۔ اپنے لوگوں کی جانیں بھی بچائیں اور معیشت بھی بچا لی۔ اس سال محنت کریں گے تو اپنے اہداف حاصل کر لیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ارکان اسمبلی ترقیاتی فنڈز مانگتے ہیں، ہم ترقیاتی فنڈز سے نہیں، حکومت کی کارکردگی کی بنیاد پر آئندہ الیکشن جیتیں گے، اصل جنگ پنجاب میں ہے، لوگ دیکھیں گے کہ پانچ سال بعد ہم کیا بہتری لائے اور کیا نتائج دیے۔ اس لئے ہم نے اپنے اہداف کے حصول پر توجہ دینی ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ مالی سال 2020-21ء میں وزارتوں کی کارکردگی جانجچنے کا معاہدہ ایک سال کے لئے کیا گیا تھا، اب یہ دو مالی سالوں 2021-23ء کیلئے کیا گیا ہے، یہ ایک لارجر پرفارمنس مینجمنٹ سسٹم کا حصہ ہے جو موجودہ حکومت نے وزارتوں کی کارکردگی بہتر بنانے اور اس کے نتیجے میں خدمات کی موثر فراہمی کے لئے کیا ہے۔

وفاقی حکومت نے اس سلسلے میں ستمبر 2019ء میں پائلٹ پراجیکٹ کی منظوری دی تھی جس میں ابتدائی طور پر 11 وزارتوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا تھا، کارکردگی جانچنے کے لئے مختلف پیمانے وضع کئے گئے تھے، اس کے تحت وزارت ماحولیاتی تبدیلی، تجارت، مواصلات، تعلیم، توانائی، صحت، ہاﺅسنگ اینڈ ورکس، صنعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، قومی غذائی تحفظ اور آبی وسائل کی کارکردگی کو جانچا گیا۔

بعد ازاں اس منصوبے کے تحت وزارتوں کی کارکردگی کا ششماہی اور سہ ماہی بنیادوں پر جائزہ لیا گیا۔ کابینہ نے توثیق کی کہ یہ نظام نہ صرف وزارتوں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لئے موثر ہے بلکہ بین الوزارتی امور کو نمٹانے کے لئے بھی ایک بہتر میکنزم فراہم کرتا ہے۔

حکومت کے اصلاحات کے ایجنڈے پر عملدرآمد کے لئے ”پرفارمنس ایگریمنٹس“ کے اس نظام کو گورننس کے حوالے سے بہت اہم سمجھتے ہوئے مالی سال 2020-21ء میں اسے تمام وزارتوں اور ڈویژنوں کی کارکردگی کو جانچنے کے لئے لاگو کیا گیا۔

مالی سال 2020-21ء میں 40 وزارتوں اور ڈویژنوں نے اس نظام کے تحت اپنے معاہدے تیار کئے اور اصلاحات، پالیسی، ترقی اور انتظامی امور سے متعلق 1300 سے زائد اقدامات کا انتخاب کیا گیا اور سہ ماہی بنیادوں پر چھ ہزار اہداف کی نشاندہی کی گئی۔

تین سالوں کے دوران اس نظام کے کامیابی سے روبہ عمل ہونے کے بعد گورننس کے نظام میں مزید بہتری لانے کے لئے ادارہ جاتی کارکردگی کو جانچنے کے لئے یہ نظام اب آئندہ دو مالی سالوں کے لئے شروع کیا گیا ہے اور جون 2023ء کو ختم ہونے والے مالی سال تک کے لئے وفاقی وزارتوں اور ڈویژنوں کے ساتھ دو سالہ معاہدہ کیا گیا ہے۔

اس سلسلے میں 1090 اقدامات کو حتمی شکل دی گئی ہے، حکومت اس معاہدے کے تحت مختلف وزارتوں اور ڈویژنوں کی کارکردگی کو سہ ماہی بنیادوں پر جانچے گی، تمام متعلقہ وزارتیں اور ڈویژنز باقاعدگی کے ساتھ پریس کانفرنسیں کریں گی، مختلف منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھیں گی اور مختلف پروگراموں اور اقدامات کا آغاز کریں گی۔ اس سے وفاقی حکومت کے تمام اداروں میں شفافیت اور کارکردگی سامنے آئے گی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here