افغانستان کیلئے اقوام متحدہ کو 60 کروڑ ڈالر درکار، نیوزی لینڈ کا 30 لاکھ ڈالر امداد کا اعلان

111
تصویر: گوگل

نیویارک، ویلنگٹن: اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ افغانستان میں تقریباً ایک کروڑ 80 لاکھ افراد یعنی نصف آبادی کو انسانی امداد کی ضرورت ہے اور اس مقصد کے لیے رواں سال کے اختتام تک 60 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کی ضرورت ہے۔

آج سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں اقوام متحدہ کے زیراہتمام افغانستان کے لیے امدادی کانفرنس کا انعقاد ہوا تاکہ انسانی بحران سے دوچار ملک کے لیے مطلوبہ رقم جمع کی جا سکے۔

اس  سے قبل اقوام متحدہ کا ذیلی ادارہ ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) بھی انتباہ جاری کر چکا ہے کہ خشک سالی، مہنگائی اور سیاسی عدم استحکام کے بعد افغانستان کو بھوک کے بحران کا سامنا ہے لہٰذا سال کے اختتام تک ایک کروڑ 80 لاکھ افراد کی مدد کے لیے 20 کروڑ ڈالر فوری طور پر درکار ہوں گے۔

جنیوا میں جاری کانفرنس میں اقوام متحدہ اور امدادی تنظیموں کے عہدیداروں نے خبردار کیا ہے کہ یہ تعداد خشک سالی، خوراک کی کمی اور نقد رقم کی عدم دستیابی کی وجہ سے بڑھتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: 

طالبان کے انتباہ کے باوجود جنوبی کوریا کا 380 ہنرمند افغان شہریوں کو کوریا لانے کا فیصلہ

پاکستان کا افغانستان کیلئے امدادی سامان بھیجنے کا فیصلہ، چین کا 3 کروڑ ڈالر امداد کا اعلان

افغانستان کی مغربی حمایت یافتہ غنی حکومت کے خاتمے اور طالبان کی کابل میں حکومت سازی کے بعد اربوں ڈالر کے غیر ملکی عطیات اور امداد کا اچانک بند ہونا بھی اقوام متحدہ کے پروگراموں پر مزید دباؤ کا باعث بن چکا ہے۔

ڈبلیو ایف پی نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ تین سالوں میں افغانستان میں دوسری خشک سالی نے فصلوں کو تباہ کر دیا ہے اور غذائی عدم تحفظ کو بڑھا دیا ہے، ملک میں رواں سال ملک کی 40 فیصد سے زائد فصلیں خشک سالی سے ضائع ہو گئیں جبکہ کورونا وائرس کی وبا کے سماجی و معاشی اثرات نے ضروری خوراک بہت سے خاندانوں کی پہنچ سے دور کر دی ہے۔

60 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کا تقریباً ایک تہائی حصہ اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام کے ذریعے استعمال کیا جائے گا جس کے مطابق اگست اور ستمبر میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق 16 سو افغانوں میں سے 93 فیصد مناسب خوراک استعمال نہیں کر رہے تھے کیونکہ ان کے پاس ادائیگی کے لیے نقد رقم نہیں تھی۔

ادھر نیوزی لینڈ نے افغانستان کے لئے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مزید 30 لاکھ نیوزی لینڈ ڈالر امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

نیوزی لینڈ کی وزیر خارجہ ننایا مہوٹا نے میڈیا کو بتایا کہ افغانستان میں جاری بحران سے خواتین اور بچے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، انہوں نے بھی اقوام متحدہ کے تخمینے کا حوالا دیتے ہوئے کہا رواں سال مئی کے بعد افغانستان میں بے گھر ہونے والے 10لاکھ سے زیادہ افراد میں 80 فیصد خواتین اور بچے شامل ہیں۔

نیوزی لینڈ کی طرف سے مذکورہ امدادی رقم اقوام متحدہ کے دو اداروں یونیسیف اور پاپولیشن فنڈ کو فراہم کی جائے گی، یہ دونوں ادارے خواتین اور بچوں کی مدد پر خصوصی توجہ مرکوز کرتے ہوئے افغان عوام کو امداد فراہم کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ حال ہی میں پاکستان نے اپنے مغربی ہمسائے کیلئے اشیائے ضروریہ کہ پہلی کھیپ بھیجی ہے جو خوراک اور ادویات پر مشتمل تھی۔

قبل ازیں 8 ستمبر کو چین نے افغانستان کیلئے 3 کروڑ ڈالر امداد کا اعلان کیا تھا، چینی وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ ’ہم افغانستان کی خودمختاری اور آزادی کا احترام کرتے ہوئے ملکی ترقی کے لیے ان کی مدد کریں گے، خوراک، ویکسین اور ادویات کی مد میں 3 کروڑ ڈالر سے زائد (20 کروڑ یوآن) امداد فراہم کی جائے گی جبکہ ویکسین کی 30 لاکھ خوراکیں بھی عطیہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here