’میرا پاکستان، میرا گھر‘ سکیم کیلئے 59 ارب روپے سے زائد کے قرضے منظور

اب تک بینکوں کو مجموعی طور پر 154 ارب روپے مالیت کی ہائوسنگ فنانس کی درخواستیں موصول ہو چکی ہیں جن میں سے 38 فیصد درخواستیں منظور ہو چکی ہیں، سٹیٹ بینک

351

کراچی: سٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے متعدد اقدامات اور حکومت کی مختلف رعایتی سکیموں کی وجہ سے ہائوسنگ فنانس میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

سٹیٹ بینک کے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق ’میرا پاکستان، میرا گھر‘ سکیم کے آغاز سے اب تک بینکوں کو مجموعی طور پر 154 ارب روپے مالیت کی ہائوسنگ فنانس کی درخواستیں موصول ہو چکی ہیں جبکہ 31 اگست 2021ء تک بینکوں نے اس مد میں 59 ارب روپے سے زائد کے قرضے منظور کیے ہیں۔

اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ ’میرا پاکستان، میرا گھر‘ سکیم کے تحت قرضوں کے اجراء کی رفتار بھی بڑھ گئی ہے جو شروع میں سست تھی جس کے متعدد اسباب میں سے ایک سبب مکاناتی یونٹوں کی دستیابی بھی تھی۔

سکیم کے تحت قرضوں کا اجراء 31 اگست 2021ء تک 11.5 ارب روپے ہو چکا ہے جس سے اگست 2021ء میں تقریباََ 3.8 ارب روپے اضافہ یا 49 فیصد نمو ظاہر ہوتی ہے، اب تک بینکوں نے قرض درخواستوں کی 38 فیصد رقم منظور کی ہے جبکہ منظور شدہ رقم کا 19 فیصد جاری کیا جا چکا ہے۔

سٹیٹ بینک کے مطابق منظوری اور اجرا کا یہ تناسب گزشتہ چند ماہ کے دوران اسی طرح بڑھا ہے کیونکہ بینکوں نے سستے مکانات کے لیے درخواستوں کو پراسیس کرنے کے لیے پروسیجرز اور ٹیکنالوجی میں مطلوبہ ابتدائی سرمایہ کاری کر لی ہے۔

یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ بینکوں نے مکانات کی تعمیر یا خریداری کے مختلف مرحلوں میں یہ رقوم جاری کی ہیں چنانچہ قرضوں کے اجرا کی رفتار اس بات پر منحصر ہے کہ تعمیراتی عمل اور خریداری کا پراسیس کس رفتار سے انجام دیا جاتا ہے۔

’میرا پاکستان، میرا گھر‘ سکیم کے گزشتہ سال اعلان کے بعد سے سٹیٹ بینک نے متعدد سازگار اقدامات کیے ہیں، مثال کے طور پر معیاری اور سادہ درخواست فارم، غیر رسمی آمدنی کے تجزیے کا ماڈل اختیار کرنا، محتاطیہ ضوابط میں نرمی کرنا، فیلڈ دفاتر میں ہیلپ ڈیسک قائم کرنا اور شکایات درج کرانے کے لیے پورٹل کی تشکیل، جسے تمام جغرافیائی علاقوں کے تمام بینکوں کے فوکل پرسن کا ایک نیٹ ورک مدد دیتا ہے۔

سٹیٹ بینک کی ہدایت پر بینک ’میرا پاکستان، میرا گھر‘ کی درخواستیں ملک بھر میں 8 ہزار سے زائد مخصوص برانچوں کے ذریعے وصول کر رہے ہیں، اس کے علاوہ سٹیٹ بینک نے اس سکیم کے تحت ہر بینک کے لیے اہداف مقرر کیے ہیں۔

درخواست دہندگان کی سہولت کے لیے ہر بینک کے اندر ایک ای ٹریکنگ سسٹم اور خصوصی جوائنٹ کال سینٹر بھی بنایا گیا ہے۔ نیا پاکستان ہاوسنگ ڈیولپمنٹ اتھارٹی (نیفڈا)اور بینکوں کا نمائندہ ادارہ پاکستان بینکس ایسوسی ایشن (پی بی اے) ’میرا پاکستان، میرا گھر‘ کو پورا تعاون فراہم کر رہے ہیں۔

توقع ہے کہ سٹیٹ بینک، حکومت اور بینکوں کی جاری کوششوں سے میرا پاکستان، میرا گھر کے لیے بینک قرضوں کا اجرا اگلے دنوں میں مزید تیز ہوگی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here