سپین کی پاکستان کیساتھ تجارتی و اقتصادی تعلقات کو وسعت دینے کیلئے تعاون کی یقین دہانی

سپین میں پاکستانی مصنوعات کے بارے میں آگاہی کا فقدان تجارت کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے جس کو بہتر باہمی روابط کے ذریعے دور کیا جا سکتا ہے، ہسپانوی کمرشل اتاشی کی اسلام آباد چیمبر کے دورہ کے موقع پر گفتگو

150

اسلام آباد: سپین اور پاکستان بہت سے شعبوں میں دوطرفہ تجارت کو فروغ دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں جس سے ابھی تک پوری طرح فائدہ نہیں اٹھایا گیا۔

ان خیالات کا اظہار  سپین کے سفارتخانے کے اقتصادی اور کمرشل اتاشی ایٹر سینٹیاگو گارین نے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کے دورے کے موقع پر تاجر برادری سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ سپین اور پاکستان کے درمیان تجارت کا حجم بہت کم ہے جبکہ پاکستان سپین کو زیادہ تر ٹیکسٹائل مصنوعات برآمد کرتا ہے تاہم دونوں ملکوں کے نجی شعبوں کے درمیان براہ راست روابط کو فروغ دے کر تجارت میں نمایاں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سپین میں پاکستانی مصنوعات کے بارے میں آگاہی کا فقدان تجارت کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے جس کو بہتر باہمی روابط کے ذریعے دور کیا جا سکتا ہے۔

سپین کے کمرشل اتاشی نے کہا کہ آم سمیت پاکستانی پھل برآمدات کی عمدہ صلاحیت رکھتے ہیں تاہم پاکستانی پھل برآمدکنندگان کو سپین سمیت یورپی یونین کی مارکیٹ میں بہتر مقام حاصل کرنے کے لیے سینیٹری اور فائٹو سینٹری (ایس پی ایس) سٹینڈرڈز پر پورا اترنا پڑے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو چاہیے کہ وہ تجارتی تنازعات کو حل کرنے کا آسان طریقہ کار تشکیل دے جس سے مزید غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان کی طرف راغب ہوں گے، سپین پاکستان کو بہت اہمیت دیتا ہے اور پاکستان کو یورپ کی منڈیوں میں داخل ہونے کے یکساں مواقع فراہم کرتا ہے۔

انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ سپین کا سفارت خانہ آئی سی سی آئی کے ساتھ دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی اور اقتصادی تعلقات کو مزید بہتر بنانے کیلئے تعاون کرے گا۔

اس موقع پر خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر یاسر الیاس خان نے کہا کہ پاکستان آم اور دیگر پھل، زرعی مصنوعات، ادویات، کھیلوں کا سامان، چمڑے کی مصنوعات، سرجیکل آلات اور آئی ٹی سمیت اپنی متعدد مصنوعات سپین کو سستے داموں برآمد کر سکتا ہے لہذا ہسپانوی درآمدکنندگان پاکستان سے مزید درآمدات کرنے پر توجہ دیں۔

انہوں نے کہا کہ سیاحت کے شعبے میں سپین کا تعاون پاکستان کی سیاحت کی صنعت کو بہتر فروغ دینے میں مدد دے سکتا ہے۔ پاکستان کاروبار اور سرمایہ کاری کے لیے ایک پرکشش مارکیٹ ہے لہٰذا سپین کی کمپنیاں پاکستان میں ٹیکنالوجی کی منتقلی کر کے سرمایہ کاری و جوائنٹ وینچرز قائم کر کے ویلیو ایڈڈ مصنوعات تیار کرنے کی کوشش کریں جس سے ان کے کاروبار کو فروغ ملے گا۔

یاسر الیاس نے کہا کہ پاکستان ہسپانوی کمپنیوں کو آئی ٹی اور سروسز کے شعبوں میں آئوٹ سورسنگ خدمات بھی فراہم کر سکتا ہے۔ آئی سی سی آئی ہسپانوی کمپنیوں کو پاکستان میں صحیح ہم منصبوں کے ساتھ کاروبار اور شراکت داری قائم کرنے میں ہرممکن تعاون کرے گا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here