سی پیک کے تحت 1100 کلومیٹر طویل روڈ نیٹ ورک مکمل

 850 کلومیٹر طویل شاہراہیں زیر تعمیر ہیں، 103 کلومیٹر نوکنڈی ماشوخیل ہائی وے کی تعمیر سے بلوچستان کا پورا دور دراز خطہ کھل جائے گا: سی پیک اتھارٹی

574

اسلام آباد: چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک ) کے تحت اب تک تقریباََ 1100 کلومیٹر طویل روڈ نیٹ ورک مکمل ہوچکا ہے جبکہ 850 کلومیٹر طویل شاہراہیں زیر تعمیر ہیں۔

سی پیک اتھارٹی حکام کے مطابق نئی موٹر ویز اور شاہراہیں اب پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پالیسی کے تحت تعمیر جا رہی ہیں، سی پیک اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کے تحت روڈ پروجیکٹس کی ترقی سے نہ صرف ملک کی درجہ بندی میں بہتری آئے گی بلکہ اس سے روڈ نیٹ ورک، نقل و حمل اور لاجسٹکس کا معیار بھی اچھا ہو گا۔

سی پیک کے 69 کلومیٹر طویل سیالکوٹ کھاریاں موٹر وے کا حال ہی میں وزیراعظم عمران خان نے سنگ بنیاد رکھا ہے جبکہ 62 کلومیٹر طویل ملتان لودھراں ہائی وے کی تعمیر بھی جلد شروع ہو گی۔ سکھر حیدرآباد موٹر وے کی تعمیر اگست 2021ء میں شروع ہو چکی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: سی پیک کا ایک اور منصوبہ مکمل، 660 کے وی مٹیاری لاہور ٹرانسمیشن لائن کمرشل بنیادوں پر فعال

سندھ اور پنجاب کے علاوہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سی پیک کے مغربی روٹ پر کام تیزی سے جاری ہے، سی پیک کے تحت نیا روڈ نیٹ ورک پاکستان کی ایران آمدورفت میں بہتری لائے گا جس سے دوطرفہ تجارت کو فائدہ ہو گا۔

سی پیک روڈ نیٹ ورک سے پسماندہ علاقوں میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں مدد ملے گی، ملک کے کم ترقی یافتہ علاقوں میں روڈ انفراسٹرکچر منصوبے شروع کیے جا رہے ہیں تاکہ انہیں دوسرے ترقی یافتہ علاقوں کے برابر لایا جاسکے۔

حال ہی میں وزیراعظم عمران خان نے 103 کلومیٹر طویل نوکنڈی ماشوخیل روڈ کا افتتاح کیا تھا۔ این 40 کو این 85 اور ایم 8 سے منسلک کرنے کے بعد ( سی پیک مغربی روٹ) چاغی نوکنڈی سیکٹر کو گوادر سے جوڑنے سے بلوچستان کا پورا دور دراز خطہ کھل جائے گا۔

نوکنڈی ماشوخیل منصوبہ بلوچستان کی بکھری آبادی کے لئے ایک بہت بڑی سہولت ہو گی۔ یہ بلوچستان کی ترقی اور وفاق پاکستان کو مضبوط بنانے کے لئے بہت اہمیت کا حامل منصوبہ ہے جو دو سالوں میں مکمل ہو گا اور بلوچستان میں تقریباََ چار ہزار افراد کے لئے براہ راست اور بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔

دوسری جانب وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سی پیک امور خالد منصور نے کہا ہے کہ سی پیک کے دوسرے مرحلے میں پاکستانیوں کے لیے روزگار کے بے شمار مواقع پیدا ہوں گے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خالد منصور نے کہا کہ خصوصی اقتصادی زونز میں تعمیر کیے جانے والے پیشہ ورانہ تربیتی مراکز میں ملک کے غیر ہنرمند مزدوروں کو تربیت دی جائے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) خشکی میں گھرے افغانستان کو تجارت اور کاروبار کرنے میں مدد دے گا۔ پاکستان خطے میں مینوفیکچرنگ کا مرکز بن رہا ہے۔ ملک زراعت جیسے مختلف شعبوں میں چینی مہارتوں سے بہت کچھ سیکھ سکتا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here