’فلائی جناح‘ پاکستان کی فضائی حدود میں محوِ پرواز ہونے کو تیار

’فلائی جناح‘ پاکستان کی فروغ پذیر ایوی ایشن انڈسٹری میں سیرین ائیر اور ائیر سیال کے بعد ایک نیا اضافہ ہو گی جبکہ تین مزید ائیرلائنز لائسنس کے حصول کیلئے کوشاں ہیں

487

اسلام آباد: متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی ائیر عربیہ نے پاکستان کے لیکسن گروپ (Lakson Group) کے اشتراک سے ’فلائی جناح‘ کے نام سے کم لاگت ائیر لائن شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ائیرعربیہ گروپ اس سے قبل ایک شراکت داری کے نتیجے میں آرمینیا میں ’فلائی آرنا‘ کے نام سے فضائی سروس شروع کر چکا ہے۔

لیکسن گروپ کے ساتھ مجوزہ شراکت داری کے نتیجے میں ائیر عربیہ گروپ پاکستان میں مقامی اور بین الاقوامی روٹس کیلئے ایک ایسی ائیرلائن متعارف کروائے گا جو سستی سفری سہولیات فراہم کرے گی۔

فلائی جناح کے آپریشنز شروع کرنے کیلئے ضروری ائیر آپریٹنگ سرٹیفکیٹ (اے او سی) کے حصول کیلئے جلد کوششیں شروع کر دی جائیں گی جبکہ ائیرلائن کے طیاروں کی تعداد، روٹس اور لانچنگ کی تاریخ سمیت دیگر تفصیلات کا اعلان وقتاََ فوقتاََ کیا جائے گا۔

ایوی ایشن ذرائع کے مطابق تمام انضباطی تقاضوں کو پورا کرنے کے بعد توقع ہے کہ فلائی جناح آئندہ سال کے آغاز میں محو پرواز ہو گی۔

پاکستان کی فروغ پذیر ایوی ایشن انڈسٹری میں سیرین ائیر اور ائیر سیال کے بعد فلائی جناح ایک نیا اضافہ ہو گی جبکہ الویر ائیرویز (Alvir Airways) کی جانب سے بھی مقامی پروازوں کیلئے لائسنس کے حصول کی تگ و دو جاری ہے۔

جیٹ گرین ائیرلائن اور کیو ائیرلائن بھی سول ایوی ایشن اتھارٹی سے اے او سی کے حصول کیلئے کوشاں ہیں، پی آئی اے واحد لسٹڈ ائیرلائن ہے جبکہ نجی شعبے میں ائیربلیو سب سے پرانی فضائی کمپنی کا اعزاز رکھتی ہے۔

ائیر عربیہ کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’فلائی جناح سستی اور شاندار سفری سہولیات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ ناصرف سیاحت سے متعلق پاکستان کے تذویراتی وژن کیلئے معاون ثابت ہو گی بلکہ معاشی نمو اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کا سبب بھی بنے گی۔‘

ائیر عربیہ کے چیئرمین شیخ عبداللہ بن محمد الثانی کے مطابق ’ابتداء میں فلائی جناح کراچی سے اندرون ملک پروازوں کا آغاز کرے گی جبکہ بعد ازاں اپنے نیٹ ورک کو بین الاقوامی روٹس تک وسعت دے گی، اس کیلئے کم قیمت بزنس ماڈل پر عمل کیا جائے گا۔‘

لیکسن گروپ کے چیئرمین اقبال علی لاکھانی کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ فلائی جناح پاکستان میں سفر اور سیاحت کے شعبوں کی معاونت کے ساتھ ساتھ معاشی ترقی میں بھی تعمیری کردار ادا کرے گی۔

واضح رہے کہ انٹرنیشنل ائیر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے مطابق ائیرلائن انڈسٹری سپلائی چین اور سیاحت کے ساتھ مل کر پاکستان کے جی ڈی پی میں سالانہ تقریباََ تین ارب 30 کروڑ ڈالر حصہ ڈالتی ہے جو جی ڈی پی کے ایک فیصد کے برابر ہے۔

ادھر جمعہ کو چیئرمین ائیر عربیہ گروپ شیخ عبد اللہ بن محمد الثانی نے اسلام آباد میں وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کی۔ اس موقع پر وفاقی وزراء چوہدری فواد حسین اور غلام سرور خان بھی موجود تھے۔

ملاقات کے دوران پاکستان کی کمرشل ہوا بازی صنعت میں سرمایہ کاری کے امور پر گفتگو ہوئی، وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت پاکستان سرمایہ کاروں کے لئے آسانیاں پیدا کر رہی ہے، چاہتے ہیں کہ پاکستان سرمایہ کاروں کی ترجیحی منزل ہو۔ سیاحت کے فروغ کے لئےبیرونی ممالک سے کمرشل ایئر لائنز کی سرمایہ کاری کو خوش آمدید کہتے ہیں۔

بعد ازاں ایک ٹویٹ میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ وہ ایک نئی پاکستانی ایئر لائن ’’فلائی جناح‘‘ کے قیام کیلئے ایئر عریبیہ گروپ کی مقامی سرمایہ کاروں کے ساتھ شراکت داری کی کامیابی کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ ان کی حکومت پاکستان میں سیاحت کے شعبہ کی ترقی اور بیرونی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کیلئے پرعزم ہے، پاکستان میں سیاحت کے شعبہ میں بے پناہ مواقع موجود ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here