’7.5 کھرب روپے سود ادائیگی مجموعی قرضوں میں 50 فیصد اضافہ کی وجہ بنی‘

سال 2020ء میں عالمی سطح پر جی ڈی پی کے تناسب سے قرضوں میں 13 فیصد اضافہ ہوا جبکہ پاکستان میں محض 1.7 فیصد کا اضافہ ہوا، ترجمان وزارت خزانہ

303

اسلام آباد: وفاقی وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا کے دوران جی ڈی پی کے تناسب سے پاکستان کے قرضوں کے حجم میں سب سے کم اضافہ ہوا ہے تاہم 7.5 کھرب روپے سود ادائیگی مجموعی قرضوں میں 50 فیصد اضافہ کی وجہ بنی۔

جمعرات کو وزارت خزانہ کی جانب سے گزشتہ تین برسوں سے سرکاری قرضوں میں اضافہ سے متعلق میڈیا رپورٹس پر اپنے ردعمل میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ میڈیا رپورٹس میں ملکی قرض میں اضافہ کی درپردہ وجوہات کو نظرانداز کیا گیا ہے، قرضہ میں اضافہ کے حوالے سے در پردہ اقتصادی حقائق کا تجزیہ کرنا ضروری ہے۔

ترجمان وزارت خزانہ کے مطابق مالی سال 2018ء کے اختتام تک مناسب کیش بفر کی عدم موجودگی میں مختصر مدت کے قرضوں کو ترجیح دی گئی اور افراط زر کے دباﺅ پر قابو پانے کیلئے قرضوں پر سود کی شرح بہت بڑھ گئی تھی، حکومت نے سود کی مد میں ساڑھے 7 کھرب روپے کی ادائیگی کی جو مجموعی قرضوں میں 50 فیصد اضافہ کی وجہ بنی۔

ترجمان نے بتایا کہ ماضی میں روپیہ کی قدر کو مصنوعی طور پر برقرار رکھا گیا تھا جس سے ادائیگیوں میں توازن کا بحران سامنے آیا، اس صورت حال کے تناظر میں مارکیٹ کی حرکیات کی بنیاد پر روپیہ کی قدر کا تعین ناگزیر پالیسی انتخاب تھا جس کی وجہ سے روپیہ کی قدر گرنے سے افراط زر اور شرح سود میں اضافہ ہوا۔

یہ بھی پڑھیے: جولائی میں وفاقی حکومت نے کتنے ارب ڈالر کا بیرونی قرضہ حاصل کیا؟

وزارت خزانہ کے ترجمان کے مطابق روپیہ کی قدرمیں کمی کی وجہ سے جی ڈی پی نمو کی شرح میں کمی ہوئی جبکہ درآمدات پر ٹیکسوں کی مد میں محصولات میں کمی آئی۔ بیرونی قرضوں میں 2.9 کھرب روپے (20 فیصد) اضافہ ہوا۔ یہ بات اہمیت کی حامل ہے کہ قرضوں میں یہ اضافہ نئے قرضہ کے حصول کی وجہ سے نہیں بلکہ روپے کی قدر میں کمی کا نتیجہ ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ کووڈ۔19 کی عالمگیر وبا کی وجہ سے اقتصادی سست روی کی کیفیت رہی جو بنیادی خسارہ میں زیادہ اضافہ پر منتج ہوئی۔ پرائمری خسارہ کی ادائیگی کیلئے 3.5 کھرب (23 فیصد) کا قرضہ لیا گیا، 1.0 کھرب روپے (7 فیصد) کا اضافہ حکومت کی ہنگامی ضروریات، سرکاری بانڈز کی فیس اور حقیقی قدر میں فرق کی وجہ سے لینا پڑا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے کیش بفر قائم رکھتے ہوئے سٹیٹ بینک سے قرضہ نہ لینے کا انقلابی اور اقتصادی طور پر درست فیصلہ کیا جس کی وجہ سے صرف ایک بار قرضہ میں اضافہ ہوا تاہم حکومت کے کیش میں اضافہ کی وجہ سے اسے متوازن بنایا گیا۔

ترجمان نے بتایا کہ قرضوں کو بہتر انداز میں سمجھنے کیلئے قرض کے مالیت کی بجائے مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے لحاظ سے قرضہ کی شرح کی پیمائش کرنی چاہیے، اس کی روشنی میں یہ بات قابل توجہ ہے کہ وبا کے دوران جی ڈی پی کے تناسب سے پاکستان میں قرضوں کے حجم میں سب سے کم اضافہ ہوا ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق مالی سال 2020ء میں عالمی سطح پر جی ڈی پی کے تناسب سے قرضوں میں 13 فیصد اضافہ ہوا جبکہ پاکستان میں محض 1.7 فیصد کا اضافہ ہوا ہے، جون 2021ء کے اختتام پر پاکستان کا جی ڈی پی کے تناسب سے قرضوں کا تناسب 4 فیصد کم ہوا ہے جو قرضوں کے بوجھ میں کمی کا اشارہ ہے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ گزشتہ تین سالوں میں قرضہ میں اضافہ بنیادی طور پر 19۔2018ء میں مشکل مگر ناگزیر پالیسیوں کے باعث ہوا، اگر اُس وقت مارکیٹ کی حرکیات کو مدنظر رکھا جاتا تو قرضوں کا بوجھ مزید کم ہو جاتا کیونکہ موجودہ حکومت نے مالی و زری استحکام کیلئے جامع اقدامات کئے ہیں۔

وزارت خزانہ کے ترجمان نے بتایا کہ مالی اور زری پالیسیوں میں بڑی ایڈجسٹمنٹس کی گئی ہیں اور آئندہ چند برسوں میں قرضوں میں پائیدار بنیادوں پر کمی آئے گی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here