رواں سال ایک ارب ڈالر کے ’مینوفیکچرڈ اِن پاکستان‘ موبائل فون برآمد کرنے کا ہدف مقرر

640

اسلام آباد: رواں مالی سال 2021-22ء کیلئے حکومت نے ایک ارب ڈالر کے ’مینوفیکچرڈ اِن پاکستان‘ موبائل فونز برآمد کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

حکومت کی جانب سے یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ناصرف ملک میں تیار ہونے والے موبائل فونز کی تعداد درآمد کردہ موبائل فونز سے بڑھ گئی ہے بلکہ پاکستان سے پہلی بار فور جی سمارٹ فونز بیرون ملک برآمد کیے گئے ہیں۔

اس حوالے سے جمعہ کے روز مشہور موبائل فون مینوفیکچرر کمپنیوں کے نمائندوں نے وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت و سرمایہ کاری رزاق دائود کے ساتھ ملاقات کی، ان میں سام سنگ، اوپو، ویوو، ٹیکنو، انفینکس اور انووی کے نمائندے شامل تھے۔

قبل ازیں رزاق دائود نے ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ ’مجھے بتایا گیا ہے کہ مقامی طور پر تیار کردہ موبائل فونز کی تعداد درآمد شدہ موبائل فونز کی تعداد سے بڑھ گئی ہے اور   برآمدات بھی شروع ہو گئی ہیں، اس پیش رفت سے عکاسی ہو رہی ہے کہ پاکستان کی موبائل فونز مینوفیکچرنگ پالیسی درست سمت میں گامزن ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے: 

سام سنگ کا موبائل فونز کی تیاری کیلئے پاکستانی کمپنی کے ساتھ معاہدہ

’21 کمپنیوں کو پاکستان میں موبائل فون مینوفیکچرنگ کی اجازت‘

مہنگائی کی شکایت کرتے پاکستانیوں نے 2.92 کھرب روپے کے موبائل فون درآمد کر لیے

انہوں نے اعدادوشمار کا حوالا دیتے ہوئے لکھا کہ جنوری سے جولائی 2021ء تک مختلف کمپنیوں کی جانب سے ایک کروڑ 22 لاکھ 70 ہزار موبائل فون پاکستان کے اندر تیار کئے گئے جبکہ اسی مدت میں تقریباََ 82 لاکھ 90 ہزار موبائل فون باہر سے درآمد کئے گئے۔

واضح رہے کہ 14 اگست کو پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ پاکستان نے مقامی طور پر تیار کردہ موبائل فونز کی برآمد شروع کر دی ہے اور ساڑھے پانچ ہزار ’میڈ اِن پاکستان‘ سمارٹ فونز کی پہلی کھیپ متحدہ عرب امارات کو بھیجی گئی ہے۔

پی ٹی اے کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ اس کے اجازت نامے کے تحت انووی ٹیلی کام (Inovi Telecom) نے دیگر ممالک کے لئے سمارٹ فونز کی برآمدات کا آغاز کر دیا ہے۔

پی ٹی اے کے مطابق ’ڈیوائس آئڈینٹٹی فیکیشن رجسٹریشن اینڈ بلاکنگ سسٹم (ڈی آئی آر بی ایس) کے کامیاب نفاذ اور حکومتی پالیسیوں بشمول موبائل مینوفیکچرنگ پالیسی کی بدولت پاکستان میں موبائل ڈیوائسز کی تیاری کے لئے سازگار ماحول پیدا ہوا ہے۔‘

یاد رہے کہ 10 اگست کو پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی نے لکی موٹر کارپوریشن کو سام سنگ کے سمارٹ فونز مقامی طور پر تیار کرنے کیلئے اجازت دی تھی۔

اس سے قبل 13 جولائی کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کو بتایا گیا تھا کہ پاکستان سالانہ 85 فیصد موبائل فون درآمد کرتا ہے جن پر کروڑوں ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ صرف ہوتا ہے تاہم رواں سال کے دوران 21 کمپنیوں کو مقامی سطح پر مینوفیکچرنگ کی اجازت دی گئی ہے۔

سیکریٹری وزارت صنعت و پیداوار نے کمیٹی کو بتایا تھا کہ موبائل فونز کی برآمدات کی حوصلہ افزائی کے لئے مقامی مینوفیکچررز کو 3 فیصد کا آر اینڈ ڈی الائونس دیا جاتا ہے، پاکستان میں تیار شدہ فونز کی مقامی مارکیٹ فروخت پر 4 فیصد وِد ہولڈنگ ٹیکس سے بھی استثنیٰ دیا گیا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here