’مینوفیکچرڈ اِن پاکستان‘ سمارٹ فونز کی برآمد شروع، پہلی کھیپ متحدہ عرب امارات بھیج دی گئی

میڈ اِن پاکستان سمارٹ فونز کی برآمدات نجی کمپنی انووی ٹیلی کام نے شروع کیں، کمپنی کو محض چار ماہ قبل پی ٹی اے سے مقامی سطح پر موبائل فون سازی کی اجازت ملی ہے

1335

لاہور: پاکستان نے مقامی طور پر تیار کیے گئے سمارٹ فونز کی برآمد شروع کر دی ہے اور میڈ اِن پاکستان سمارٹ فونز کی پہلی کھیپ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کو بھیجی گئی ہے۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اجازت نامے کے تحت انووی ٹیلی کام (Inovi Telecom) نے دیگر ممالک کے لئے سمارٹ فونز کی برآمدات کا آغاز کر دیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’فور جی سمارٹ فونز کے ساڑھے 5 ہزار یونٹس کی پہلی کھیپ ’مینوفیکچرڈ اِن پاکستان‘ ٹیگ کے ساتھ متحدہ عرب امارات کو برآمد کی گئی ہے۔‘

پی ٹی اے نے اس اہم کامیابی پر انووی ٹیلی کام کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ملک میں موبائل ڈیوائسز کی تیاری کے حوالے سے نظام کی ترقی کے لیے مشترکہ کاوشوں کا نتیجہ ہے۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کا کہنا ہے کہ ڈیوائس آئڈینٹٹی فیکیشن رجسٹریشن اینڈ بلاکنگ سسٹم (ڈی آئی آر بی ایس) کے کامیاب نفاذ اور حکومتی پالیسیوں بشمول موبائل مینوفیکچرنگ پالیسی کی بدولت پاکستان میں موبائل ڈیوائسز کی تیاری کے لئے سازگار ماحول پیدا ہوا ہے۔

واضح رہے کہ ان پالیسیوں کے نتیجے میں پی ٹی اے کی جانب سے انووی ٹیلی کام پرائیویٹ لمیٹڈ کو 9 اپریل 2021ء کو موبائل مینوفیکچرنگ کی اجازت دی گئی تھی جس کے چار ماہ کے اندر کمپنی نے پاکستان میں بنائے گئے موبائل فون برآمد کرنا شروع کر دئیے ہیں۔

یاد رہے کہ 10 اگست کو پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی نے لکی موٹر کارپوریشن کو سام سنگ کے سمارٹ فونز مقامی طور پر تیار کرنے کیلئے اجازت دی تھی۔

اس سے قبل 13 جولائی کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کو بتایا گیا تھا کہ پاکستان سالانہ 85 فیصد موبائل فون درآمد کرتا ہے تاہم رواں سال کے دوران 21 کمپنیوں کو مقامی سطح پر مینوفیکچرنگ کی اجازت دی گئی ہے۔

سیکریٹری وزارت صنعت و پیداوار نے کمیٹی کو بتایا تھا کہ موبائل فونز کی برآمدات کی حوصلہ افزائی کے لئے مقامی مینوفیکچررز کو 3 فیصد کا آر اینڈ ڈی الائونس دیا جاتا ہے، پاکستان میں تیار شدہ فونز کی مقامی مارکیٹ فروخت پر 4 فیصد وِد ہولڈنگ ٹیکس سے بھی استثنیٰ دیا گیا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here