کاروباری آسانی کیلئے سرمایہ کاری بورڈ نے ساتواں اصلاحاتی منصوبہ متعارف کرا دیا

گزشتہ دو سالوں میں پاکستان نے کاروباری آسانی کے عالمی انڈیکس میں 39 درجے ترقی کی اور 2018ء کے 147ویں نمبر سے 2020ء میں 108ویں نمبر پر آ گیا، رواں سال مزید بہتری کی توقع ہے، سیکریٹری سرمایہ کاری بورڈ فرینہ مظہر

232

اسلام آباد: سرمایہ کاری بورڈ (بی او آئی) نے کاروباری آسانیوں کا ساتوں اصلاحاتی منصوبہ متعارف کرا دیا جس کے تحت 2023ء تک پاکستان میں کاروباری آسانی کے حوالے سے جامع اصلاحات متعارف کرائی جائیں گی۔

بدھ کو مقامی ہوٹل میں سرمایہ کاری بورڈ کے کاروباری آسانیوں کی فراہمی کے ساتویں اصلاحاتی منصوبہ کی تعارفی تقریب منعقد ہوئی جس میں مشیر تجارت عبدالرزاق داﺅد نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔

تقریب میں عالمی بینک، انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن سمیت دیگر بین الاقوامی شراکت داروں کے علاوہ وفاقی اور صوبائی اعلیٰ حکام نےبھی شرکت کی۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داﺅد نے کہا کہ موجودہ حکومت نے معاشی ترقی اور کاروباری سرگرمیوں میں بہتری پر توجہ مرکوز کر رکھی ہے، مجموعی قومی پیداوار کے تناسب سے سرمایہ کاری کی شرح کا فروغ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

مشیر تجارت نے کہا کہ پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہے جنہوں نے وبا کی روک تھام، کاروباری سرگرمیوں کے فروغ اور معاشرے کمزور طبقات کے تحفظ کے لئے بہتر کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اوورسیز چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں کہا ہے کہ دو سال پہلے کے مقابلہ میں پاکستان میں کاروباری برادری کی توقعات میں 75 فیصد اضافہ ہوا ہے جس سے حکومت کے اقدامات پر کاروباری طبقہ کے اعتماد کی عکاسی ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: وزیراعظم کی پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی ہدایت

رزاق دائود نے کہا کہ حکومت کے اقدمات سے برآمدات اور سرمایہ کار ی کے حوالہ سے اعتماد بڑھا ہے جو کاروباری آسانی کیلئے اصلاحات کی وجہ سے ممکن ہوا۔

انہوں نے کہاکہ ہم نے معاشی شرح نمو کو مستحکم بنانا ہے تاکہ اس کی بڑھوتری کےتواتر کو جاری رکھا جا سکے، قومی معیشت درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہے تاہم درآمدات میں اضافہ کے بعض چیلنجز کا سامنا ہے جن پر قابو پا کر کرنٹ اکاﺅنٹ خسارے کو کم کرنے کی ضرورت ہے۔

مشیر تجارت نے کہا کہ حکومت جامع معاشی حکمت عملی کے تحت برآمدات کے اضافہ پر توجہ دے رہی ہے جس سے گزشتہ مالی سال کے دوران قومی درآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور مینوفیکچرنگ سمیت قومی معیشت کے مختلف شعبوں کی برآمدات بڑھی ہیں تاہم اس دوران خدمات کے شعبہ کی درآمدات میں 47 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے توقع ظاہر کی کہ رواں مالی سال  کے دوران برآمدات میں مزید اضافہ ہو گا۔ حکومت ٹیرف میں مسابقت اور کاروباری اخراجات میں کمی کے حوالے سے بھی اقدامات کر رہی ہے جس سے کاروباری ماحول میں مزید بہتری ہو گی۔ برآمدات کی بڑھوتری کے لئے خام مال کی برآمدت پر مراعات دے رہے ہیں۔

رزاق دائود نے مزید کہا کہ کاروباری آسانیوں کی اصلاحات کے 7ویں منصوبہ سے ملک میں کاروباری سرگرمیوں میں مزید بہتری ہو گی۔ رواں مالی سال کے دوران قومی معیشت کی ترقی کے مقررہ اہداف حاصل کر لیے جائیں گے۔ کاروبار میں اضافہ کے لئے مزید سہولیات بھی دیں گے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری سرمایہ کاری بورڈ فرینہ مظہر نے کہا کہ ملک میں کاروباری ماحول کی بہتری سے مقامی و غیرملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے، بدعنوانی پر قابو پانے اور احتساب کے عمل کو بہتر کرنے میں مدد ملی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: معاشی محاذ سے اچھی خبر، 2018ء کے بعد پاکستان کا بزنس کانفیڈنس انڈیکس مثبت قرار

انہوں نے کہا کہ عالمی بینک، بین الاقوامی فنانس کارپوریشن اور دیگر عالمی شراکت داروں کے تعاون سے پاکستان میں کاروباری آسانیوں کے فروغ کے لئے اصلاحات کا عمل جاری ہے، گزشتہ دو سالوں میں پاکستان نے کاروباری آسانی کے عالمی انڈیکس میں 39 درجے ترقی کی ہے۔

سیکریٹری سرمایہ کاری بورڈ کا کہنا تھا کہ 2018ء میں کاروباری آسانی کے انڈیکس میں پاکستان 147ویں نمبر پر تھا جبکہ 2020ء میں 108ویں نمبرپر آ گیا، توقع ہے کہ رواں سال میں مزید بہتری آئے گی۔

بورڈ آف انویسٹمنٹ کے ساتویں اصلاحاتی منصوبے کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کے تحت 2023ء تک پاکستان میں کاروباری آسانیوں کی فراہمی کے حوالے سے جامع اصلاحات متعارف کرائی جائیں گی۔

انہوں نے کاروباری آسانی کے حوالے سے عالمی بینک کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں نئے کاروباری تصورات اور مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع امکانات موجود ہیں، یہی وجہ ہے کہ ایس ای سی پی میں کمپنیوں کی رجسٹریشن میں 63 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

سیکرٹری سرمایہ کاری بورڈ نے کہا کہ کاروباری آسانی کے حوالہ سے وفاقی و صوبائی حکومتوں کے ساتھ مختلف اداروں کی کاوشیں قابل تحسین ہیں، بالخصوص پنجاب اور سندھ کی حکومتوں کے ساتھ ساتھ ایس ای سی پی، سرمایہ کاری بورڈ اور ای او بی آئی نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

فرینہ مظہر نے کہا کہ پاکستان نے کاروباری آسانیو ں کی فراہمی کی اصلاحات کے تحت 6 ایکشن پلان مکمل کر لئے ہیں اور ساتویں ایکشن پلان کا آغاز کیا جا رہا ہے جس کے تحت ٹیکس سمیت دیگر قوانین میں آسانیاں پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ معاشی ترقی پر خصوصی توجہ دی جائے گی جس سے براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ حاصل ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ عالمی اداروں نے اصلاحات کے عمل کو سراہا ہے تاہم اس حوالے سے بین الاقوامی شراکت داروں سے استفادہ کے تحت مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔ 2016ء میں اصلاحات کا کام سرمایہ کاری بورڈ کے ذمہ لگایا گیا تھا جس پر تیزی سے عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here