اسلامی تعاون تنظیم کے تحت پاکستان میں پہلا تجارتی میلہ آئندہ سال منعقد ہو گا

57 اسلامی ممالک تجارتی میلے میں شرکت کریں گے، مسلم دنیا کے مابین حلال خوراک کی تجارت سمیت معاشی ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی، وزرائے خارجہ کے اجلاس، حلال فوڈ اور سیاحت پر کانفرنسوں کی میزبانی بھی پاکستان کرے گا

676

فیصل آباد: اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے زیر اہتمام پہلا تجارتی میلہ آئندہ سال پاکستان میں منعقد ہو گا اور اس میگا ایونٹ میں او آئی سی کے رکن 57 اسلامی ممالک شرکت کریں گے۔

اسلامی ممالک میں تعاون سے ان کی معاشی ترقی کیلئے نئی راہیں کھلیں گی، نیز مارچ 2022ء میں اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس  بھی پاکستان میں منعقد کیا جا ئے گا۔

او آئی سی کیلئے پاکستانی سفیر رضوان سعید شیخ نے فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف سی سی آئی) کے صدر احتشام جاوید کی قیادت میں ملنے والے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان او آئی سی کو معاشی طور پر متحرک اور فعال بنانے کیلئے کوشاں ہے، اسی لئے او آئی سی کے زیر اہتمام تاریخ کا پہلا تجارتی میلہ آئندہ سال پاکستان میں منعقد کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ او آئی سی میں 57 اسلامی ممالک شامل ہیں جس کا صدر مقام جدہ میں ہے، اقوام متحدہ کے بعد یہ دنیا کی دوسری بڑی تنظیم ہے جس کے پوٹینشل سے ابھی تک پوری طرح فائدہ نہیں اٹھایا جا سکا۔ نئے عالمی رجحانات کے تناظر میں اس تنظیم کو معاشی طور پر متحرک بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

پاکستانی سفیر نے تجارتی میلہ کو او آئی سی کی تاریخ میں ایک نیا قدم قرار دیا جس سے اسلامی ملکوں میں تعاون کے باعث ان کی معاشی ترقی کیلئے نئی راہیں کھلیں گی۔

یہ بھی پڑھیے:

حلال گوشت کی پیداوار میں پانچواں بڑا ملک پاکستان ایکسپورٹ میں 19ویں نمبر پر کیوں؟

نئے مالی سال کے پہلے ماہ 278 ملین ڈالر کی برآمدات کیساتھ ’مانچسٹر آف پاکستان‘ بازی لے گیا

انہوں نے بتایا کہ اسلامی ملکوں کی حلال خوراک کی ضروریات پوری کرنے کیلئے اس صنعت کو جدید اور سائنسی خطوط پر ترقی دینے کیلئے بھی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں اور اس سلسلہ میں اسلامی ملکوں کی ایک کانفرنس بھی پاکستان میں ہو گی۔

رضوان سعید شیخ کا مزید کہنا تھا کہ سیاحت کے فروغ کیلئے بھی اسلامی ملکوں کے درمیان تعاون کو فروغ دیا جائے گا اور اس بارے میں بھی ایک کانفرنس آئندہ سال پاکستان میں ہو گی۔

انہوں نے فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر احتشام جاوید سے کہا کہ وہ آئندہ سال او آئی سی کے زیر اہتمام ہونے والی ان تقریبات کی تیاری کریں اور ان میں قابل عمل تجاویز اور سفارشات کے ساتھ شرکت کریں تاکہ باہمی تعاون سے پاکستان کی ترقی کے علاوہ پوری امہ کے معاشی مسائل کو حل کرنے کی راہ ہموار کی جا سکے۔

پاکستان سفیر نے کہا کہ پاکستان او آئی سی کے اہم اور بانی رکن کی حیثیت سے اسلامی ملکوں کے درمیان مختلف شعبوں میں مشترکہ منصوبے شروع کرنے کی بھی حوصلہ افزائی کر رہا ہے تاکہ ایک دوسرے کے سرمایے اور تجربے سے پوری اسلامی دنیا فائدہ اٹھا سکے۔

مشترکہ منصوبوں کے ذریعے ٹیکنالوجی منتقلی بارے رضوان سعید شیخ نے احتشام جاوید سے کہا کہ وہ اُن شعبوں کی نشاندہی کریں جہاں نئی ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے تاکہ وہ او آئی سی کے رکن ممالک کی اجتماعی ترقی کیلئے ضروری اقدامات اٹھا سکیں۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ سعودی عرب میں پاکستان کے الگ سفیر تعینات ہیں تاہم وہ ان کی معاونت سے سعودی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں نئی صنعتوں کے قیام کیلئے ترغیب دینے کو تیار ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت دنیا میں آٹھ اہم اور قیمتی دھاتوں کی تجارت ہو رہی ہے اور بہت سے ملکوں میں بیک وقت ایک یا دو دھاتیں پائی جاتی ہیں مگر پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں آٹھ کی آٹھ اہم دھاتیں موجود ہیں۔

اس موقع پر احتشام جاوید نے بتایا کہ فیصل آباد قومی معیشت اور برآمدات میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ اگرچہ ٹیکسٹائل اس کی شناخت ہے مگر اب یہاں آئی ٹی، سرامکس، آٹو موبائل، موبائل فون، الیکٹرانکس اور فارما سوٹیکل سمیت دیگر شعبے بھی تیزی سے ترقی کر رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ فیصل آباد میں نئی سرمایہ کاری کیلئے یہاں جدید صنعتی علاقوں کے علاوہ سپیشل اکنامک زون اور سی پیک کے تحت خصوصی زون بھی قائم کئے جا رہے ہیں جہاں غیر ملکی سرمایہ کاروں کو خصوصی مراعات اور سہولتیں حاصل ہوں گی۔

انہوں نے مشترکہ منصوبوں کیلئے فیصل آباد کے صنعت کاروں کا بھی تفصیل سے ذکر کیا اور کہا کہ وہ خود بھی غیر ملکی سرمایہ کاروں سے مل کر مشترکہ منصوبہ شروع کرنے کو تیار ہیں۔

احتشام جاوید نے کہا کہ فیصل آباد ٹیکسٹائل کی معیاری مصنوعات برآمد کر رہا ہے جن میں نئی ٹیکنالوجی کے ذریعے مزید بہتری لائی جا سکتی ہے۔ انہوں نے او آئی سی کے سفیر کے ذریعے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو فیصل آباد کے صنعتی علاقوں اور سپیشل اکنامک زون کے دورے کی بھی دعوت دی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here