سٹیٹ بینک نے ضمانت نہ رکھنے والے چھوٹے کاروباروں کیلئے آسان قرضہ سکیم متعارف کرا دی

ایس ایم ایز سیکٹر جی ڈی پی میں 40 فیصد، برآمدی شعبہ میں 25 فیصد کا حصہ دار ہے، اس سکیم کا مقصد اُن کاروباری اداروں کو سہولت پہنچانا ہے جو بینک قرضوں تک رسائی کے لیے ضمانت رہن پیش نہیں کر سکتے

1437

کراچی: بینک دولت پاکستان نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں (ایس ایم ایز) کی مالیاتی وسائل تک رسائی آسان بنانے کے لیے حکومت کی شراکت سے ایس ایم ای آسان فنانس (صاف) سکیم متعارف کرا دی۔

مرکزی بینک سے جاری اعلامیہ کے مطابق صاف ری فنانس اور کریڈٹ گارنٹی سہولت ہے جو ایک وسیع مشاورتی عمل سے تیار کی گئی ہے اور اس کا مقصد ان ایس ایم ایز کی معاونت کرنا ہے جو قرض کے حصول کے قابل ہیں لیکن ان کی فنانس تک رسائی نہیں کیونکہ وہ سیکورٹی پیش نہیں کر سکتے جو بینک ضمانت کے طور پر مانگتے ہیں۔

سٹیٹ بینک بینکوں کو ری فنانس فراہم کرے گا جبکہ حکومت پاکستان شریک بینکوں کو جزوی کریڈٹ گارنٹی کے ذریعے معاونت مہیا کرے گی۔ یہ معاونت ابتدائی طور پر تین سال کے لیے فراہم کی جا رہی ہے تاکہ بینک ایس ایم ایز کو قرضہ جات سے متعلق ٹیکنالوجی، انفراسٹرکچر اور ٹیموں کی تشکیل میں سرمایہ کاری کر سکیں۔

وزیر خزانہ شوکت ترین نے سٹیٹ بینک کے اس اختراعی اقدام کا خیر مقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس اقدام کو آگے لے جانے میں کمرشل بینک بھرپور شرکت کریں گے، ایس ایم ای شعبہ پاکستان کی معیشت میں کلیدی کردار کا حامل ہے اور سمیڈا کے تخمینے مطابق جی ڈی پی میں 40 فیصد اور برآمدی آمدنی میں 25 فیصد کا حصہ دار ہے۔

تاہم، وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ایس ایم ایز کے لیے باضابطہ بینکنگ فنانس تک رسائی مشکل ہوتی ہے،31 مارچ 2021ء کو ایس ایم ایز فنانسنگ 444 ارب روپے تھی جو مجموعی نجی شعبے کے قرض کا صرف 6.6 فیصد ہے۔ اس کی کئی وجوہ ہیں جن میں نسبتاََ بلند قرضے کے نقصانات، بینکوں کے بلند لاگتی فنانس ماڈلز، ایس ایم ایز فنانس کے لیے درکار مناسب ٹیکنالوجی کا کم استعمال اور قابل قبول سیکورٹی کا فقدان شامل ہیں۔

شوکت ترین نے کہا کہ ایس ایم ایز اکثر بے حد مہنگے غیر رسمی قرضے لینے پر مجبور ہوتے ہیں اور انہیں اپنی ترقی کیلئے رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، غیر رسمی شعبے میں ایس ایم ایز کی اکثریت کے پاس ضمانت موجود نہیں اور وہ اس وقت کم از کم 25 فیصد کی شرح سے قرضے لے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سٹیٹ بینک کی صاف سکیم بنیادی طور پر ایسی ہی ایس ایم ایز کے لیے متعارف کرائی گئی ہے، ان چیلنجز پر قابو پانے کے لیے سٹیٹ بینک نے ایس ایم ایز اور بینک دونوں کے مسائل کو حل کرنے کے لیے ایک اختراعی طریقہ اختیار کیا ہے۔

سکیم کے تحت سٹیٹ بینک منتخب کردہ بینکوں کو تین سال کے لیے ری فنانس فراہم کرے گا۔ تین سال بعد یہ بینک ری فنانس کی رقم سالانہ دس مساوی اقساط میں واپس کریں گے۔

منتخب بینکوں کو سٹیٹ بینک سے ری فنانس سالانہ ایک فیصد کی شرح پر ملے گی اور وہ اس رقم سے ایس ایم ایز کو مستفید کریں گے جس کے لیے آخری صارف پر شرح منافع 9 فیصد سالانہ تک ہو گی جو غیر رسمی قرضوں کی لاگت کے مقابلے میں بہت پرکشش شرح ہے۔

صاف کے تحت وہ تمام ایس ایم ایز جو کسی بینک کے نئے قرض گیر ہوں گے، 10 ملین روپے تک قرضہ لینے کے اہل ہوں گے۔ رہن کے بغیر قرضہ ایس ایم ایز کو طویل المدتی ضروریات پوری کرنے کے لیے دستیاب ہو گا۔

یہ سکیم ستمبر 2021ء کے اواخر میں ایس ایم ایز قرض گیروں کو دستیاب ہو گی۔ سکیم کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ حکومتِ پاکستان خسارے کی صورت میں منتخب بینکوں کو 40 سے 60 فیصد کا رسک کوریج دے گی جس کا انحصار قرضوں کے حجم پر ہو گا۔

یہ رسک کوریج 40 لاکھ روپے تک کے چھوٹے قرضوں کے لیے 60 فیصد تک ہو گا، چالیس لاکھ روپے سے 70 لاکھ روپے تک کے درمیانے حجم کے قرضوں کے لیے 50 فیصد تک اور 70 لاکھ روپے سے ایک کروڑ روپے تک کے نسبتاََ بڑے قرضوں کے لیے 40 فیصد تک رسک کوریج دیا جائے گا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here