شمالی علاقوں کیلئے ماحول دوست ای ٹیکسی سروس کا افتتاح

آٹوموبائل کی تبدیلی گلگت بلتستان کے خوبصورت سیاحتی علاقوں میں ماحول دوست انقلاب لائے گی، سیاحت سے بہت بڑی آمدنی ہوتی ہے لہٰذا علاقے کو آلودہ نہیں کر سکتے، ملک امین اسلم

184

اسلام آباد: پاکستان میں ماحولیاتی تحفظ اور اکیسویں صدی کی جدید ٹیکنالوجی کو اپنانے کے وژن کے تحت شمالی علاقوں کے لئے ماحول دوست ای ٹیکسی سروس کا افتتاح کر دیا گیا۔

اس ای ٹیکسی سروس کا اجراء نیلم گروپ اور فیصل موورز نے مشترکہ طور پر کیا ہے، اس حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم کا کہنا تھا کہ اس ماحول دوست منصوبے کا مقصد ملک کے کاربن فٹ پرنٹ کو کم کرنا ہے جو ایک عالمی اجتماعی مقصد کا حصہ ہے، ایک مضبوط ڈی کاربونائزیشن ایکشن پلان پر عمل درآمد کے ساتھ شمالی علاقوں بالخصوص گلگت بلتستان کے قدرتی ماحول کو محفوظ رکھنے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ ای ٹیکسی سروس گلگت بلتستان کے لئے نہایت کارآمد ثابت ہو گی کیونکہ علاقے کو درجہ حرارت میں اضافہ کے شدید اثرات کا سامنا ہے، جی بی کے خوبصورت سیاحتی علاقوں میں داخل ہونے والی آٹوموبائل کی تبدیلی ماحول دوست نقل و حمل کے ذریعے وادی میں انقلاب لائے گی۔

امین اسلم نے کہا کہ وزیراعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید خان بھی اس منصوبے کا خیرمقدم کرتے ہوئے پرجوش ہیں کیونکہ انہیں بھی اس کے بورڈ میں شامل کیا گیا ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ گلگت بلتستان میں سیاحت کے وسیع امکانات موجود ہیں جبکہ اسے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا بھی سامنا ہے، ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اس کے ماحول کی حفاظت کریں کیونکہ پٹرول و ڈیزل پر چلنے والی گاڑیوں کا دھواں ماحولیات کے لئے نقصان دہ ہے، گلگت بلتستان کی سیاحت سے بہت بڑی آمدنی ہوتی ہے لہٰذا اسے آلودہ نہیں کر سکتے۔

انہوں نے کہا کہ ابتدائی طور پر ای ٹیکسی سروس وفاقی دارالحکومت سے مری اور نتھیاگلی تک شروع ہو گی جبکہ اس کے طاقت ور انجن اور بیٹری کی گنجائش گاڑی کو پہاڑی علاقوں میں آگے جانے میں مدد دے سکتی ہے۔

ملک امین اسلم نے کیا کہ ای وہیکلز کے فروغ کیلئے حکومت ملک بھر میں نصب ہونے والے چارجنگ سٹیشنوں پر مراعات میں اضافہ کر رہی ہے۔  ہم چین کی جانب سے پاکستان میں ای وی مینوفیکچرنگ یونٹس شروع کرنے کے خواہاں ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here