4 سال میں پہلی مرتبہ زرعی ترقیاتی بینک کے منافع میں 148 فیصد اضافہ

اپریل تا جون کے دوران بینک کو ٹیکس ادائیگی سے قبل 2 ارب 95 کروڑ روپے منافع، 484 شاخوں میں سے 279 شاخیں منافع میں رہیں، 2 لاکھ 17 ہزار 360 افراد نے قرضہ واپس کیا جس کا بینک کی بیلنس شیٹ پر مثبت اثر پڑا

250

اسلام آباد: چار سالوں میں پہلی بار زرعی ترقیاتی بینک کو کسی ایک سہ ماہی کے دوران ٹیکس ادائیگی سے قبل تقریباََ تین ارب روپے کا منافع حاصل ہوا ہے۔

غیر آڈٹ شدہ اعدادوشمار کے مطابق رواں سال کی دوسری سہ ماہی (اپریل تا جون) کے اختتام پر زرعی ترقیاتی بینک کو ٹیکس ادائیگی سے قبل 2 ارب 95 کروڑ روپے کا منافع حاصل ہوا ہے جبکہ گزشتہ سال کی دوسری سہ ماہی یں بینک نے ساڑھے تین ارب روپے کا خسارہ ظاہر کیا تھا۔

سال 2021ء کی دوسری سہ ماہی میں بینک کی گراس مارک اَپ انکم سال 2020ء کی اسی مدت کے 2.3 ارب روپے کے مقابلے میں 148 فیصد اضافے سے 5.7 ارب روپے ریکارڈ کی گئی۔

تاہم انٹرسٹ کی رقم ادا کرنے کے بعد بینک کا مجموعی منافع (net mark-up imcome) تین ارب روپے رہا جبکہ گزشتہ سال کی دوسری سہ ماہی میں بینک کو سود ادائیگی کے بعد 75 کروڑ 90 لاکھ روپے کا خسارہ ہوا تھا۔

اسی طرح رواں سال کی دوسری سہ ماہی میں ٹیکس ادائیگی کے بعد زرعی ترقیاتی بینک کو 62 کروڑ 10 لاکھ روپے منافع حاصل ہوا ہے جبکہ گزشتہ سال کی دوسری سہ ماہی میں ٹیکس ادائیگی کے بعد 5 ارب روپے کا خسارہ برداشت کرنا پڑا تھا۔

ستمبر 2017ء کے بعد کم و بیش چار سالوں میں پہلا موقع ہے جب زراعت کیلئے مختص پاکستان کے واحد بینک نے کسی سہ ماہی کے دوران منافع ظاہر کیا ہے۔

اس حوالے سے زرعی ترقیاتی بینک کے صدر شہباز جمیل کا کہنا ہے کہ اگر منافع کا موجودہ رجحان جاری رہا تو رواں سال دسمبر تک بینک خسارے سے نکل آئے گا۔

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے بینک کو خسارے سے نکال کر منافع بخش بنانے کیلئے نومبر 2019ء میں شہباز جمیل کو اس کا صدر تعینات کیا تھا تاہم بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تعیناتی میں مزید تین سال لگ گئے اور رواں سال ہی ارکان کی تعیناتی ہو سکی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ بینک کی ملک بھر میں 484 شاخوں میں سے 279 شاخیں منافع میں جا رہی ہیں جبکہ گزشتہ سال 162 شاخوں نے منافع ظاہر کیا تھا۔

گزشتہ سال ایک لاکھ 69 ہزار 678 قرض گیروں نے قرضہ واپس کیا تھا تاہم رواں سال یہ تعداد بڑھ کر 2 لاکھ 17 ہزار 360 افراد تک جا پہنچی ہے جس کا بینک کی بیلنس شیٹ پر مثبت اثر پڑا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here