’سخت مالیاتی نظم و ضبط سے سرکاری اداروں کا خسارہ 143 ارب روپے تک کم ہو گیا‘

وزیر خزانہ کی فنانس ڈویژن کو سرکاری اداروں کی کارکردگی سے متعلق رپورٹ جون 2020ء تک پیش کرنے، ماہانہ اور سہہ ماہی کارکردگی کا جائزہ لینے کی ہدایت

250

اسلام آباد: حکومت کی جامع اصلاحات اور سخت مالیاتی نظم و ضبط سے سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر ہوئی ہے اور مالی سال 2018-19ء میں ان اداروں کا خسارہ 143 ارب روپے تک کم ہو گیا ہے۔

بدھ کو وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین کی زیر صدارت سرکاری اداروں کے حوالہ سے کابینہ کمیٹی (سی سی او ایس او ایز) کا اجلاس منعقد ہوا۔

وزارت خزانہ کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق اس موقع پر سیکرٹری خزانہ نے کمیٹی کو گزشتہ سالوں کے دوران سرکاری اداروں کی کارکردگی کے بارے میں بریفنگ دی اور مالی سال 2013-14ء سے لے کر مالی سال 2018-19ء کے دوران سرکاری اداروں کی کارکردگی کا جامع تجزیہ پیش کیا۔

کمیٹی نے کہا کہ حکومت کی جامع اصلاحات، بورڈ آف ڈائریکٹرز سمیت دیگر عہدیداروں کی بروقت تعیناتی اور سخت مالیاتی نظم و ضبط سے سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر ہوئی ہے اور مالی سال 2017-18ء کے 286 ارب روپے خسارہ کے مقابلہ میں اِن اداروں کا نقصان مالی سال 2018-19ء میں 143 ارب روپے کم ہوا ہے۔

سیکرٹری خزانہ نے اجلاس کو مزید بتایا کہ نیشنل ہائی ویز اتھارٹی کے علاوہ دیگر اداروں نے مالی سال 2018-19ء میں 31 ارب روپے نفع کمایا ہے جبکہ مالی سال 2019-20ء کے لئے سرکاری اداروں کی کارکردگی رپورٹ ستمبر 2021ء تک تیار کر لی جائے گی۔

کابینہ کمیٹی نے متعلقہ وزارتوں  اور ڈویژنوں اور بالخصوص معاون خصوصی ڈاکٹر عشرت حسین کے قابل قدر کردار کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ شراکت داروں کی مشاورت سے سرکاری اداروں کی تشکیل نو اور بحالی کے لئے جامع تجاویز مرتب کی جائیں۔

اس موقع پر وزیر خزانہ شوکت ترین نے فنانس ڈویژن کو ہدایت کی کہ جون 2020ء تک تفصیلی رپورٹ تیار کر کے کابینہ کو پیش کی جائے۔

اس کے علاوہ انہوں نے اداروں کو بہتری کی جامع تجاویز کی تیاری کے لئے ماہرین سے معاونت حاصل کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ مقررہ اہداف کے مقابلہ میں سرکاری اداروں کی ماہانہ اور سہہ ماہی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے۔

اجلاس میں وفاقی وزیر نجکاری محمد میاں سومرو، مشیر تجارت عبدالرزاق داﺅد ، معاون خصوصی برائے ادارہ جاتی اصلاحات ڈاکٹر عشرت حسین، وفاقی سیکرٹری خزانہ، سیکرٹری پاور سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here