کورونا سے نمٹنے کیلئے مختلف چیزیں سرکاری فنڈز سے انتہائی مہنگے داموں خریدنے کا انکشاف

بلوچستان میں پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے تھرمل گن 21 ہزار 960 روپے، میٹرس 10 ہزار، رضائیاں  3 ہزار، این 95 ماسک 800 روپے کے حساب سے خریدے، سوا کروڑ روپے میں پانی کی چھوٹی بوتلیں خریدی گئیں

352

کوئٹہ: کورونا وائرس کی پہلی لہر کے دوران بلوچستان میں پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کی جانب سے مختلف اشیاء انتہائی مہنگے داموں خریدے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

ایران سے آنے والے زائرین کی وجہ سے فروری 2020ء میں جب بلوچستان میں کورونا وائرس پھیلنا شروع ہوا تو قرنطینہ سہولیات قائم کرنے اور دیگر امدادی کاموں کیلئے صوبائی حکومت نے پی ڈی ایم اے کو 2 ارب 23 کروڑ کے فنڈز فراہم کیے۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن ارکان کی جانب سے سوالات کے بعد پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے وبا سے نمٹنے کیلئے خرچ کیے گئے فنڈز کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔

ان تفصیلات کے مطابق وبا سے نمٹنے کیلئے پی ڈی ایم اے نے فروری 2020ء سے جون 2021ء تک مجموعی طور پر ایک ارب 80 کروڑ روپے خرچ کیے ہیں۔

قرنطینہ سینٹرز میں استعمال کیلئے مختلف اشیاء مارکیٹ سے انتہائی مہنگے داموں خریدی گئیں، درجہ حرارت چیک کرنے کیلئے تھرمل گن مارکیٹ میں زیادہ سے زیادہ سے 5 ہزار روپے میں مل جاتی ہے لیکن پی ڈی ایم اے نے تھرمل گنز 21 ہزار 960 روپے کے حساب سے خریدیں۔

قرنطینہ مراکز میں بستروں کیلئے پی ڈی ایم اے نے میٹرس 10 ہزار روپے اور رضائیاں  3 ہزار روپے کے حساب سے خریدیں۔ ایک کروڑ 22 لاکھ کی صرف پانی کی چھوٹی بوتلیں خریدی گئیں۔

اسی طرح ایک کروڑ 60 لاکھ روپے 20 ہزار این 95 ماسک خریدنے پر خرچ ہوئے اور یوں ایک این 95 ماسک 800 روپے میں پڑا، ڈاکٹروں کے حفاظتی لباس (پی پی ایز) 15 لاکھ میں خریدے گئے۔

اس کے علاوہ قرنطینہ مراکز میں مریضوں کے بچوں کیلئے کرکٹ بیٹ، بال، فٹ بال، گڑیا، لڈو اور  تاش بھی خریدے گئے جبکہ بچوں کی کھلونا کار، چاکلیٹ اور چپس بھی سرکاری فنڈز سے مہیا کیے گئے۔

دوسری جانب پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی بلوچستان نے ان اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام اشیاء کی خریداری ہنگامی حالات میں کی گئی، مارکیٹ میں مذکورہ اشیاء کی کمی کی وجہ سے مجبوراً مہنگے داموں خریدنا پڑیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here