ڈالر کی اونچی اڑان، روپیہ 9 ماہ کی کم ترین سطح تک گر گیا

313

کراچی: پاکستانی روپے کی امریکی ڈالر کے مقابلے میں گراوٹ کا سلسلہ جاری رہا اور سوموار کو ڈالر 163 روپے کا ہندعہ عبور کر کے 9 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔

گزشتہ کاروباری ہفتے کے اختتام پر امریکی ڈالر کی خریدوفروخت 162 روپے پر ہوئی جب کہ رواں ہفتے کے پہلے روز انٹربینک مارکیٹ میں ڈٓالر 0.62 روپے مہنگا ہو کر 163.67 روپے کے برابر ہو گیا، یہ روپے کی قدر میں 13 اکتوبر 2020ء کے بعد سب سے زیادہ تنزلی ہے۔

انٹربینک کے علاوہ کاروباری ہفتے کے پہلے روز اوپن مارکیٹ میں بھی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی بے قدری جاری رہی اور ایک ڈالر 163.20/164.20 روپے پر ٹریڈ ہوا۔

گزشتہ سال اگست میں پاکستانی کرنسی امریکی ڈالر کے مقابلے میں تاریخ کی بدترین گراوٹ کا شکار ہو کر 168.43 روپے تک گر گئی تھی، بعد ازاں روپے کی قدر بحال ہوئی اور اپریل 2021ء میں ایک ڈالر 152.95  روپے کے برابر آ گیا۔

تاہم گزشتہ ہفتے سٹیٹ بینک کی جانب سے کرنٹ اکائونٹ خسارہ جی ڈی پی کے 2 سے 3 فیصد کے برابر رہنے کے اعلان کے بعد سے ڈالر کی اڑان اور روپے کی تنزلی کا سلسلہ شروع ہوا جو اب تک جاری ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ملک میں معاشی بحالی کے دوران درآمد کنندگان کی جانب سے دباؤ کے باعث ڈالر کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے جو مسلسل اس کی قدر میں اضافے کی وجہ بن رہا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here