’پاکستانی کمپنیوں کو 10 ہزار موٹرسائیکلز کے برآمدی آرڈر موصول‘

رواں سال گڈز برآمدات 31.2 ارب ڈالر اور سروسز برآمدات ساڑھے 7 ارب ڈالر تک لے جائیں گے، یوں مجموعی برآمدات کا ہدف 38.7 ارب ڈالر ہو گا، مشیر تجارت رزاق دائود

414

اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت و سرمایہ کاری عبدالرزاق دائود نے کہا ہے کہ رواں سال برآمدات کا ہدف 38.7 ارب ڈالر ہو گا، پاکستان سے موٹر سائیکلز اور موبائلز کی برآمد جلد شروع ہو گی۔

سوموار کو وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی ابلاغ ڈاکٹر شہباز گل کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے رزاق دائود کا کہنا تھا کہ 30 جون 2021ء تک گڈز برآمدات میں 25.3 فیصد اضافہ ہوا، جون میں برآمدات ریکارڈ سطح پر رہیں، جولائی میں برآمد ات 2 ارب 30 کروڑ ڈالر رہیں جو کہ اُس ماہ کی ریکارڈ برآمدات ہیں۔

انہوں نے کہا کہ برآمدات میں اضافے کے ساتھ ساتھ ’میک اِن پاکستان‘ پالیسی پر عمل پیرا ہیں، حکومت نے اس حوالے سے جامع اور ٹھوس حکمت عملی اپنائی ہے۔ایکسچینج ریٹ حقیقت پسندانہ ہے اور برآمد کنندگان کے بقایا جات ادا کئے گئے ہیں، بجلی و گیس کی قیمتوں کو مسابقتی سطح پر رکھا گیا ہے۔

مشیر تجارت نے کہا کہ گزشتہ سال برآمدات کا ہدف 31.3 ارب ڈالر کا تھا جس میں گڈز برآمدات کم و بیش 25 ارب ڈالر اور سروسز کی برآمدات 6 ارب ڈالر کے لگ بھگ رہیں، سب سے زیادہ 47 فیصد اضافہ آئی ٹی سیکٹر کی برآمدات میں دیکھنے کو ملا۔

یہ بھی پڑھیے: 

ملکی تاریخ میں پہلی بار آئی ٹی برآمدات 2  ارب ڈالر سے تجاوز کر گئیں

رواں سال برآمدات ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح 25.3 ارب ڈالر پر پہنچ گئیں

ٹیکسٹائل برآمدات 18.9 فیصد اضافے سے 13 ارب 74 کروڑ ڈالر سے تجاوز کر گئیں

ان کا کہنا تھا کہ رواں سال گڈز برآمدات 31.2 ارب ڈالر اور سروسز برآمدات ساڑھے 7 ارب ڈالر تک لے جائیں گے، یوں مجموعی برآمدات کا ہدف 38.7 ارب ڈالر ہو جائے گا۔ پاکستان برآمدات کو 40 ارب ڈالر سالانہ تک لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

رزاق دائود نے کہا کہ ملک میں موٹر سائیکلز کی پیداوار ریکارڈ سطح پر ہے، پاکستان سے موٹر سائیکلز اور موبائلز کی برآمد جلد شروع ہو گی۔ 10 ہزار موٹر سائیکلز کی برآمد کے آرڈر موصول ہو چکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ عامر اللہ والا نے ملک میں موبائل فیکٹری لگائی ہے جس سے مقامی سطح پر موبائل سازی شروع ہو چکی ہے، کورین کمپنی سام سنگ بھی پاکستان میں اپنا پلانٹ لگانے جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ پانچ سال میں ٹیکسٹائل برآمدات پر انحصار کم ہو جائے گا، دیگر شعبوں کی برآمدات میں بھی اضافہ کریں گے، رواں مالی سال ٹیکسٹائل برآمدات 20 سے 21 ارب ڈالر کے درمیان رہنے کی توقع ہے۔

رزاق دائود نے مزید کہا کہ پانچ سالہ تجارتی پالیسی میں جو اقدامات تجویز کئے گئے ہیں ہم ان پر پہلے ہی عمل کر رہے ہیں۔ موجودہ دور میں درآمدات بڑھنے کی وجہ خام مال کی درآمد ہے، گزشتہ سال مشینری کی درآمدات 10 ارب ڈالر اور پٹرولیم درآمدات 11 ارب ڈالر رہیں۔ کپاس کی درآمدات 1.3 ارب ڈالر بڑھی ہیں۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی ابلاغ شہباز گل نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان سے بڑے برآمد کنندگان کے وفد نے ملاقات کی ہے، وفد میں روایتی اور غیر روایتی شعبوں سے تعلق رکھنے والے برآمد کنندگان شامل تھے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کے مختلف شعبوں میں برآمدات کی صلاحیت تو موجود ہے لیکن یہ برآمدات نہیں ہو رہی تھیں۔ برآمد کنندگان نے وزیراعظم عمران خان کی پالیسی کو سراہتے ہوئے ان پر اعتماد کا اظہار کیا۔

شہباز گل کا کہنا تھا کہ برآمد کنندگان نے وزیراعظم کو اپنے مسائل سے بھی آگاہ کیا اور وزیراعظم نے انہیں یقین دلایا کہ حکومت ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔ وزیراعظم ذاتی طور پر ہر ماہ برآمدکنندگان کے مسائل سنیں گے جبکہ وزیر خزانہ ہر 15 دن بعد برآمد کنندگان سے ملاقات کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ سال کیلئے بڑے برآمدی اہداف رکھے گئے ہیں۔ پاکستان کا شمار موٹر سائیکل بنانے والے پانچ بڑے ملکوں میں ہوتا ہے اور یہ جلد چوتھے نمبر پر آ جائے گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ کورونا وبا کے بعد دنیا میں چینی کی قیمتیں 56 فیصد بڑھی ہیں، عالمی مارکیٹ میں اشیاء کی قیمتیں طلب و رسد کی بنیاد پر کنٹرول ہوتی ہیں۔ چینی کے شعبے میں کارٹلائزیشن کے خلاف لڑ رہے ہیں، اس سال چینی کی پیداوار کم ہونے کے باوجود دوگنا یعنی 29 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا گیا، گزشتہ سال چینی کی مد میں 15 ارب ٹیکس اکٹھا کیا گیا تھا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here