ٹویٹر کے ساتھ تنازع، بھارت میں سماجی رابطوں کا مقامی پلیٹ فارم متعارف

کئی وزراء اور سرکاری اداروں نے ٹویٹر کی مخالفت میں مقامی تیار کردہ ویب سائٹ ’کوو‘ کا استعمال شروع کر دیا، استعمال کرنے والوں کی مجموعی تعداد 70 لاکھ سے بڑھ گئی

206

نئی دلی: امریکی سوشل میڈیا نیٹ ورک ٹویٹر کے ساتھ تنازعہ شدت اختیار کرنے کے بعد بھارت امریکی کمپنی کے مقابلے میں مقامی تیار کردہ سماجی پلیٹ فارم ’کوو (KOO)‘ کو فروغ دے رہا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق فروری میں مودی سرکار نے ٹویٹر کو کسان تحریک کے حوالے سے حکومت پر تنقید والے اکائونٹس معطل اور ٹویٹس حذف کرنے کے لیے کہا تھا تاہم ٹوئٹر نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا جس کے بعد سے فریقین کے درمیان تنازع شدت اختیار کر گیا۔

بھارتی قوانین پر عمل نہ کرنے پر ملک کی مختلف عدالتوں میں امریکی سوشل میڈیا کمپنی ٹوئٹر کے خلاف مقدمات بھی کے زیر سماعت ہیں۔

اس دوران بھارت کے وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اشونی ویشنا نے بھی ’کوو‘ پر اپنا اکاﺅنٹ بنا لیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت ٹویٹر کے مقابلے پر ملکی ساختہ سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم کو فروغ دے رہا ہے۔

بھارت کے مقامی نیٹ ورک ’کوو‘ کو استعمال کرنے والوں کی مجموعی تعداد 70 لاکھ سے بڑھ گئی ہے جبکہ صرف گزشتہ دو دنوں کے دوران’کوو‘ کو 10 گنا زیادہ یعنی 30 لاکھ بار ڈائون لوڈ کیا گیا ہے۔

وزیر برائے ٹیکنالوجی اشونی ویشنا نے ’کوو‘ پر اپنے ایک پیغام میں بین الاقوامی سوشل میڈیا کمپنیوں کے ساتھ سخت رویہ اختیار کرنے کا اشارہ بھی دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ سوشل میڈیا کمپنیاں ملک کے نئے سخت ضابطوں پر عمل کر رہی ہیں یا نہیں؟

مودی حکومت کے محکمہ تعلقات عامہ کے ایک افسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ سرکاری اداروں میں بھی ٹوئٹر کے متبادل ’کوو‘ کو استعمال کیا جائے۔‘

ساﺅتھ ایشن وائر کے مطابق بھارت میں ٹوئٹر کے ایک کروڑ 75 لاکھ سے زیادہ صارفین موجود ہیں۔ حکومت کے متعدد وزراء اور محکمے ٹوئٹر کے ساتھ ساتھ ’کوو‘ کا بھی استعمال کر رہے ہیں۔

بھارتی حکومت کی جانب سے ’کوو‘ کی بڑھتی ہوئی حمایت پر ٹوئٹر نے تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا لیکن امریکی کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ بھارت میں کئی وزیروں اور اعلیٰ افسروں کے ساتھ براہ راست کام کرتا ہے اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here