پاکستان مہنگے داموں ایل این جی خریدنے پر مجبور کیوں ہوا؟ پٹرولیم ڈویژن کی وضاحت

ایل این جی کارگوز کی خریداری 15 ڈالر فی ایم ایم بی ٹو پر نہ کی جاتی تو فرنس آئل استعمال کرنا پڑتا جو زیادہ مہنگا پڑتا، نتیجتاََ ستمبر میں بجلی کی قیمت میں 20 فیصد اضافہ ہو جاتا، ترجمان پٹرولیم ڈویژن

558

اسلام آباد: پٹرولیم ڈویژن کے ترجمان نے مہنگے ایل این جی کارگوز کی خریداری کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایل این جی درآمد کرنے والے ممالک کے لئے عالمی اوسط کے مطابق ہے۔

ترجمان نے میڈیا میں شائع ہونے والی خبروں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی ماہانہ ایل این جی خریداری کا تقریباََ ایک تہائی حصہ ’سپاٹ‘ کی بنیاد پر ہوتا ہے جبکہ باقی دو تہائی طویل المدتی معاہدے کی بنیاد پر کی جاتی ہے جو بنیادی طور پر ایل این جی درآمد کرنے والے ممالک کیلئے عالمی اوسط کے مطابق ہے۔

ترجمان نے کہا کہ پاپوا نیوگنی میں ایکسون کی سہولت میں کمی اور چین اور جاپان میں زیادہ طلب کی وجہ سے سپلائی کے مسائل پیدا ہوئے اور سپاٹ ایل این جی کی قیمت میں 15 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو سے زائد کا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے تاہم پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ (پی ایل ایل) کے بورڈ کو رواں سال ستمبر کیلئے 4 ایل این جی سپاٹ ٹینڈر 15 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کی قیمت پر قبول کرنا پڑے۔

یاد رہے کہ حال ہی میں بلوم برگ نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ پاکستان بجلی گھروں کو ایندھن کی فراہمی یا بلیک آؤٹ سے بچنے کیلئے مہنگے داموں یعنی 15 ڈالر فی ایم ایم بی ٹو یو کے حساب سے ایل این جی کے چار کارگو خریدنے پر مجبور ہے جو 2015 میں ایل این جی کی درآمدات کے آغاز کے بعد سب سے مہنگی خریداری ہے۔

تاہم اس حوالے سے ترجمان پٹرولیم ڈویژن نے کہا کہ اگر پی ایل ایل مذکورہ ٹینڈر 15 ڈالر فی ایم ایم بی ٹو پر قبول نہ کرتا تو اسے متبادل ایندھن فرنس آئل استعمال کرنا پڑتا جو زیادہ مہنگا ہوتا ہے اور اس کے نتیجہ میں ستمبر میں بجلی کی قیمت میں کم از کم 20 فیصد اضافہ ہو جاتا۔

ترجمان نے کہا کہ اگر آر ایل این جی کی قلت کی وجہ سے موسم گرما میں بجلی کی طلب کو پورا کرنے کے لئے ڈیزل کا استعمال کیا جاتا ہے تو ستمبر میں بجلی کی پیداواری لاگت تقریباََ 50 فیصد زیادہ ہو گی، سسٹم میں وافر ایل این جی نہ ہو تو پھر صنعتی شعبہ کیلئے بھی لوڈشیڈنگ کرنا پڑتی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ یہ بات قابل ذکر ہے کہ خام تیل کی قیمتیں فی بیرل 75 ڈالر کے قریب ہیں اور رواں سال جنوری کے بعد سے درآمدی کوئلہ کی قیمتوں میں بھی تقریبا 45 فیصد کا اضافہ ہوا۔ کووڈ کے بعد معاشی سرگرمیاں کھلنے سے بین الاقوامی سطح پر توانائی سے تعلق رکھنے والی زیادہ تر مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔

پٹرولیم ڈویژن کے ترجمان نے کہا کہ ایل این جی کی سپاٹ خریداری کے وقت پر سوالات اٹھانے والوں کو یہ امر مدنظر رکھنا چاہیے کہ طلب و رسد کی صورت حال کے باعث بین الاقوامی کموڈیٹی مارکیٹ کا پیشگی اندازہ نہیں لگایا جا سکتا اور قیمتوں میں اتار چڑھاﺅ ہوتا رہتا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ حکومت تیل و گیس کی تلاش کیلئے بولی کا اگلا مرحلہ شروع کرکے ملک میں تیل و گیس کی پیداوار بڑھانے کیلئے بھرپور اقدامات کر رہی ہے اور اس سلسلہ میں رواں سال کے آخر تک نئے بلاکس میں تیل و گیس کی تلاش کا عمل آگے بڑھایا جائے گا۔

دوسری جانب ایک اخباری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ستمبر میں پی ایل ایل کی جانب سے قبول کردہ 4 سپاٹ ایل این جی کی ترسیل کے لیے بولیاں 15.2 سے 15.5 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کے درمیان تھیں جو 2015 میں ایل این جی کی درآمد کے آغاز کے بعد سے سب سے زیادہ قیمت ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پی ایل ایل نے ستمبر اور اکتوبر کے لیے تقریباً 8 بولیاں منسوخ بھی کیں جن میں قطر سے 13.79 سے 13.99 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کی بولیاں بھی شامل تھیں جبکہ دیگر بولیاں 16 ڈالر تک پہنچ گئی تھیں۔ 15.5 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کی بولی ایکس شپ کے لیے تھی، اختتامی ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک پر فروخت کی قیمت 20 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو سے زیادہ ہو گی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here