خیبر پختونخوا کے 19 اضلاع میں سمال انڈسٹریل اسٹیٹس کے قیام کا فیصلہ

280

اسلام آباد: خیبر پختونخوا انڈسٹریل پالیسی 23-2020ء کے تحت صوبے کے 19 اضلاع میں سمال انڈسٹریل اسٹیٹس کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے۔

خیبر پختونخوا بورڈ آف انویسٹمنٹ (کے پی بی او آئی) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) حسن داﺅد بٹ نے سرکاری خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ رشکئی خصوصی اقتصادی زون میں سرمایہ کاروں کو دی جانے والی مراعات اور ہائی ٹیکنالوجیز کی بدولت اربوں ڈالر کی غیرملکی سرمایہ کاری سے صنعتی و معاشی سرگرمیاں تیز تر ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ تین سالہ صنعتی پالیسی کے نفاذ سے کاروباری اور ترقیاتی منصوبوں کو قابل عمل بنایا جائے گا جس سے تمام چیلنجز پر قابو پایا جا سکتا ہے جبکہ سی پیک کے تحت رشکئی خصوصی اقتصادی زون سے پاک چین تعاون مزید بہتر ہو گا۔

یہ بھی پڑھیے:

خیبر پختونخوا، صنعتوں کو سستی بجلی فراہم کرنے کی منظوری

خیبر پختونخوا حکومت کا وفاق کو بجلی بیچنے کی بجائے صنعتوں کو فراہم کرنے کا فیصلہ

خیبر پختونخوا بورڈ آف انویسٹمنٹ کے سی ای او کا کہنا تھا کہ کے پی انڈسٹریل پالیسی 23-2020ء سے پتہ چلتا ہے کہ رشکئی کو ترجیح دی گئی ہے جسے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) کے تحت چینی کاروباری اداروں اور دیگر غیرملکی کمپنیوں کے ساتھ مشترکہ منصوبوں کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سمال انڈسٹریل سٹیٹ جن اضلاع میں قائم کئے جا رہے ہیں اُن میں ایک ہزار کنال پر مشتمل پشاور ٹو، 452 کنال پر ایبٹ آباد ٹو، 400 کنال پر درہ آدم خیل، 500 کنال پر باجوڑ انڈسٹریل سٹیٹ شامل ہیں۔

اس کے علاوہ 500 کنال پر شاہ کس خیبر، 800 کنال پر وانا جنوبی وزیرستان، ایک ہزار کنال پر نورک شمالی وزیرستان، 400 کنال پر اورکزئی ، 600 کنال پر کُرم، 300 کنال پر ہنگو میں صنعتی علاقہ قائم کیا جائے گا۔

اسی طرح 400 کنال پر کوہستان، 400 کنال پر دیر لوئر، 450 کنال پر مانسہرہ ٹو، 400 کنال پر سوات، 800 کنال پر صوابی، ایک ہزار کنال پر مردان فور، 400 کنال پر شانگلہ اور ایک ہزار کنال بنوں ٹو انڈسٹریل سٹیٹ قائم ہوں گے، ان انڈسٹریل سٹیٹ کے قیام سے ملکی برآمدات میں اضافہ ہو گا اور مقامی صنعتوں کے فروغ کے ساتھ ساتھ روزگار کے ہزاروں مواقع پیدا ہوں گے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here