جعلی لائسنس رکھنے والے پائلٹس کے نام پبلک کرنے کی ہدایت

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ہوابازی نے امریکہ کی جانب سے فضائی کوریڈور استعمال کرنے کے اخراجات کی تفصیلات کرنے کی ہدایت کر دی، پی آئی اے کے تمام پائلٹس کی تفصیلات بھی طلب کر لیں

261

اسلام آباد: ایوان بالا کی قائمہ کمیٹی برائے ہوابازی نے ایوی ایشن ڈویژن اور اس کے ماتحت اداروں کے کام کے طریقہ کار، بجٹ، ملازمین کی تعداد، اداروں کو درپیش چیلنجز اور کارکردگی کو فروغ دینے کیلئے اٹھائے گئے اقدامات اور مستقبل کے منصوبوں کا تفصیل سے جائزہ لیا۔

گزشتہ روز ایوان بالا کی قائمہ کمیٹی برائے ہوابازی کا پہلا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر ہدایت اللہ کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اراکین کی باہمی مشاورت سے معاملات کو نہ صرف آگے بڑھایا جائے گا بلکہ مستقبل کا لائحہ عمل مرتب کر کے مسائل حل کیے جائیں گے۔

سینیٹر شیری رحمن نے کہا کہ گزشتہ ایو ی ایشن کمیٹی نے نہایت محنت سے کام کیا تھا اور کچھ فیصلے بھی کئے جس پر عمل درآمد ہونے سے اس کمیٹی کو فائدہ ہوتا اور اداروں کے معاملات بھی مزید بہتر ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ جنسی ہراسگی کے حوالے سے ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس نے معاملے کا تفصیل سے جائزہ لیتے ہوئے کچھ سفارشات مرتب کیں مگر ان پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔

قائمہ کمیٹی نے پی آئی اے کے سربراہ کی آئندہ اجلاس میں شرکت یقینی بنانے کی ہدایت کی، سیکرٹری ایوی ایشن نے قائمہ کمیٹی کو ایوی ایشن کے مشن، ماتحت اداروں، فنکشنز، تنظیمی ڈھانچے، ملازمین کی تعداد، بجٹ اور کارکردگی پر تفصیلی بریفنگ دی۔

انہوں نے بتایا کہ وزارت دفاع کے ایوی ایشن ونگ کو جون 2013ء میں کابینہ سیکرٹریٹ نے آزاد ڈویژن بنایا اور اس کے ماتحت سول ایوی ایشن اتھارٹی، پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن، ایئر پورٹس سیکورٹی فورس، محکمہ موسمیات اور ایئر کرافٹ حادثات بورڈ شامل کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے:

جعلی لائسنس سکینڈل، ایک پائلٹ، سول ایوی ایشن اتھارٹی کے پانچ افسر گرفتار

جعلی لائسنس : پی آئی اے انتظامیہ کی تازہ کاروائی میں متعدد ہواباز نوکری سے فارغ

انہوں نے بتایا کہ ایوی ایشن ڈویژن میں کل منظور شدہ آسامیوں کی تعداد 121 ہے جن میں سے 21 خالی ہیں، ایوی ایشن ڈویژن کا غیر ترقیاتی بجٹ 12 کروڑ 40 لاکھ روپے ہے جبکہ ترقیاتی بجٹ 3 ارب 55 کروڑ 80 لاکھ روپے ہے۔

سیکریٹری ایوی ایشن نے کہا کہ 2019ء میں نیشنل ایوی ایشن پالیسی بنائی گئی، مارچ 2019 میں نیو گوادر انٹرنیشنل ایئر پورٹ کا سنگ بنیاد رکھا اور جولائی 2021 میں پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی اور پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی دو آرڈینس کے ذریعے قائم کئے گئے، ڈرون پالیسی کا ڈرافٹ بھی کابینہ سے پارلیمنٹ کو منظوری کیلئے بھیج دیا گیا ہے۔

اراکین کمیٹی نے کہا کہ دیگر اداروں کی طرح اگر پی آئی اے کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کی طرف لایا جائے تو دیگر محکموں کی طرح پی آئی اے کو بھی فائدہ ہو سکتا ہے۔

قائمہ کمیٹی نے سول ایوی ایشن اتھارٹی سے اوور فلائی چارجز کی تفصیلات طلب کر لیں۔ سینیٹر میاں رضا ربانی کے سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ امریکہ کی جانب سے فضائی کوریڈور استعمال کرنے کا بل سفارت خانے اور وزارت خارجہ امور کو بھجوا دیا گیا ہے، کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں اس کی تفصیلات طلب کر لیں۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ علامہ اقبال ایئر پورٹ لاہور کی کار پارکنگ کو وسیع کر دی گئی ہے، اب وہاں سارھے تین گاڑیاں پارک ہو سکتی ہیں۔ لاہور، فیصل آباد اور کوئٹہ کے ایئر پورٹس کے رن وے بہتر کیے جائیں گے، پشاور، فیصل آباد، کوئٹہ اور سکردو ایئر پورٹس کو اَپ گریڈ کیا گیا ہے اور تمام ایئر پورٹس پر مسافروں کی کورونا سکریننگ اور ٹیسٹنگ کی جاتی ہے۔

چیئرمین کمیٹی سینیٹر ہدایت اللہ نے کہا کہ پشاور ایئر پورٹ پر پارکنگ کا بہت زیادہ مسئلہ ہے، ایئر پورٹ پہنچنا بھی دشوار ہے، بہتری کیلئے اقدامات اٹھانے چاہئیں، اگر ممکن ہو تو ایئر پورٹ شہر سے باہر منتقل کیا جائے۔ کمیٹی نے پشاور ایئر پورٹ کا جائزہ لینے کا فیصلہ بھی کیا۔

قائمہ کمیٹی نے پی آئی اے کے تمام پائلٹوں کی تفصیلات آئندہ اجلاس میں طلب کر لیں، خاص طور پر کراچی طیارہ حادثے کے پائلٹ کے لائسنس کی تفصیلات بھی طلب کر لیں۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ 82 پائلٹو ں کے لائسنس جعلی تھے، ایف آئی اے میں چار انکوائریاں چل رہی ہیں۔ ملوث لوگوں کے چالان کئے گئے ہیں، کمیٹی نے جعلی لائسنس رکھنے والوں کے نام پبلک کرنے کی ہدایت کر دی۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ ملک کے 44 میں سے 27 ائیرپورٹس فنکشنل ہیں، 12 انٹرنیشنل اور 15 سے اندورن ملک پروازیں ہوتی ہیں اور 12 ایئرپورٹس کو بند رکھا گیا ہے۔ قائمہ کمیٹی نے پاکستان انٹر نیشنل ایئرلائنس کارپوریشن کے معاملات کے حوالے سے بریفنگ آئندہ اجلاس تک موخر کر دی۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ ملک بھر میں 100 میٹ اسٹیشن ہیں، چار ریڈارز کا م کر رہے ہیں مزید 8 کی ضرورت ہے جس سے ملک کی 90 فیصد کوریج ہو سکتی ہے۔ 40 خود کار میٹ اسٹیشن بنائے جا رہے ہیں۔ ایک خود کار میٹ اسٹیشن پر 5 ہزار ڈالر لاگت آتی ہے۔

سینیٹر عفنان اللہ نے کہا کہ پی آئی اے سے چھوٹے ملازمین کی برطرفی کے فیصلے پر نظر ثانی کی جائے۔ سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ کراچی ائیر پورٹ جنک یارڈ کی شبہیہ پیش کر رہا ہے وہاں پر جو جہاز کھڑے ہیں ان کے پارٹس نکال کر فروخت کئے جا رہے ہیں۔ جنرل ایریا کے حوالے سے بھی پالیسی کی ضرورت ہے اور ایئر ٹریفک کنٹرول کا شعبہ تو بہت ہی کمزور ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کراچی ایئر پورٹ پر دو رن ویز ہیں اگر ایک جہاز اترنے والا ہو تو جانے والے جہاز کو انتظار کرانا پڑتا ہے ان معاملات کو اَپ گریڈ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹرز صابر شاہ، فیصل رحمان، رضا ربانی، عون عباس، فیصل جاوید، سلیم مانڈوی والا، عفنان اللہ خان، دلاور خان اور شیر ی رحمان کے علاوہ وزیر ہوا بازی غلام سرور خان، سیکرٹری ایوی ایشن ڈویژن شوکت علی، ایڈوئزر سی ای او برائے پی آئی اے عامر حیات، ڈی جی سی اے اے خاقان مرتضی، سی ایس او اے ایس ایف، ڈی جی پاکستان محکمہ موسمیات اور دیگر اعلی حکام نے شرکت کی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here