نان ڈیوٹی پیڈ گاڑیاں غائب ہونے کا معاملہ، چاروں صوبائی سیکرٹریز برائے ایکسائز کی طلبی

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا ایف بی آر کی جانب سے بے نامی ایکٹ پر عمل درآمد کے طریقہ کار پر تحفظات کا اظہار، اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے قواعدوضوابط کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے تاکہ اس کا عملی نفاذ ممکن ہو سکے، چیئرمین کمیٹی

284

اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کو بتایا گیا ہے کہ ایف بی آر کے بے نامی ایکٹ کے تک اب تک 500 کیسوں کی نشاندہی کی گئی ہے اور 55 ریفرنس دائر کئے گئے ہیں۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس کمیٹی کے چیئرمین فیض اللہ کموکا کے زیر صدارت منعقد ہوا، چیئرمین ایف بی آر عاصم احمد نے بے نامی ایکٹ کے نفاذ کے بارے میں کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ  اب تک 500 کیسوں کی نشاندہی کی گئی ہے اور 55 ریفرنس دائر کئے گئے۔

کمیٹی کے ارکان نے ایف بی آر کی جانب سے بے نامی ایکٹ پر عمل درآمد کے طریقہ کار پر تحفظات کا اظہار کیا۔ کمیٹی کے چیئرمین نے کہا کہ اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے قواعد و ضوابط کا جائزہ لینا ضروری ہے تاکہ اس کا عملی نفاذ ممکن ہو سکے۔

چیئرمین ایف بی آر نے کمیٹی کو بتایا کہ ٹیکس گزاروں کو سہولیات کی فراہمی ایف بی آر کی اولین ترجیح ہے، شفافیت لانے کے لئے انسانی مداخلت کو کم سے کم کرکے آٹو میشن پر عمل درآمد تیزی سے جاری ہے اور اس وقت الیکٹرنک طریقے سے بیشتر نوٹسز کا اجراء ہو رہا ہے۔

کمیٹی نے چیئرمین ایف بی آر کو ہدایت کی کہ عوام میں بے نامی ایکٹ اور انسداد منی لانڈرنگ کے قوانین کے بارے میں شعور و آگاہی پھیلانے کے لئے اقدامات کئے جائیں۔

اجلاس میں نان ڈیوٹی پیڈ نیلامی کی گاڑیوں کے غائب ہونے کا معاملہ بھی زیر غور آیا، ایف بی آر کے ممبر کسٹمز نے بتایا کہ اس حوالے سے جو خبر جاری ہوئی ہے اس میں متعلقہ حکام کی رائے نہیں لی گئی اور حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا۔

کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ آئندہ اجلاس میں صوبائی سیکرٹریز برائے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کو طلب کیا جائے گا اور ان وضاحت لی جائے گی کہ گاڑیاں کہاں غائب ہو گئیں۔

اجلاس میں سٹیشنری اشیا پر ریگولیٹری ڈیوٹی کی لیوی کا معاملہ بھی زیر غور آیا، ممبر کسٹم نے کمیٹی کو بتایا کہ پنسل پر 20 فیصد کسٹم ڈیوٹی، 17 فیصد سیلز ٹیکس، 7 فیصد ایڈیشنل کسٹم ڈیوٹی اور 5.5 فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس عائد ہے۔

انہوں نے بتایا کہ نئے مالی سال کے بجٹ کی تیاری کے وقت پنسل کے مقامی تیارکنندگان نے پنسلوں کی درآمد کو روکنے کے لئے 10 فیصد ریگولر ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز دی تھی تاکہ مقامی صنعت کو فروغ دیا جا سکے۔

کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں سٹیشنری انڈسٹری سے وابستہ سٹیک ہولڈرز کو طلب کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ اجلاس میں سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان ترمیمی بل 2020ء کا شق وار جائزہ لیا گیا تاہم وقت کی کمی کی وجہ سے مکمل ریڈنگ نہیں ہو سکی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here