پاکستان اور ازبکستان نے ٹرانزٹ ٹریڈ، سٹرٹیجک پارٹنرشپ کے معاہدوں پر دستخط کر دیے

تجارت، سرمایہ کاری،  ثقافتی روابط کے فروغ، تاجروں اور سیاحوں کیلئے ویزہ عمل آسان بنانے، کسٹمز کے شعبہ میں تعاون کے معاہدے اور عسکری تعلیم کے شعبہ میں معاونت کے پروٹوکول پر دستخط کیے گئے

633

تاشقند: وزیراعظم عمران خان کے دورہ ازبکستان کے موقع پر پاکستان اور ازبکستان کے درمیان ٹرانزٹ ٹریڈ اور سٹرٹیجک پارٹنرشپ کے معاہدوں اور عسکری تعلیم کے شعبہ میں تعاون کے پروٹوکول پر دستخط ہوئے۔

دونوں ملکوں کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے سمجھوتوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کی تقریب کا انعقاد جمعرات کو تاشقند میں ہوا جس میں وزیراعظم پاکستان عمران خان اور ازبکستان کے صدر شوکت مرزایوف کے علاوہ پاکستانی وفد کے اراکین اور ازبکستان کے اعلیٰ سرکاری عہدیداروں نے بھی شرکت کی۔

پاکستان اور ازبکستان کے مابین سٹرٹیجک پارٹنرشپ کے معاہدے پر ازبکستان کے صدر شوکت مرزایوف اور وزیراعظم عمران خان نے دستخط کئے، تجارت اور سرمایہ کاری سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے سمجھوتوں سمیت ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے پر بھی دستخط ہوئے۔

یہ بھی پڑھیے:

ازبکستان کا گوادر سمیت دیگر پاکستانی بندرگاہوں کے ذریعے تجارت میں دلچسپی کا اظہار

پاکستان اور ازبکستان کا اقتصادی شراکت داری، دو طرفہ ترجیحی تجارتی معاہدہ طے کرنے پر اتفاق

دونوں ملکوں نے تاجروں اور سیاحوں کیلئے ویزہ عمل آسان بنانے کے معاہدہ پر بھی دستخط کئے، پاکستان اور ازبکستان میں عسکری تعلیم کے شعبہ میں تعاون کے پروٹوکول پر دستخط کئے گئے جبکہ دونوں ملکوں کے درمیان ثقافتی روابط کے معاہدے پر بھی دستخط ہوئے۔

ثقافتی روابط کے فروغ اور کسٹمز کے شعبہ میں تعاون کے معاہدے پر بھی دستخط کئے گئے، دونوں ملکوں نے دوطرفہ تزویراتی شراکت داری کے قیام کے معاہدے پر بھی دستخط کئے۔

اس سے قبل وزیراعظم عمران خان جمعرات کو دو روزہ دورے پر ازبکستان پہنچے تو تاشقند ائیرپورٹ پر وزیراعظم ازبکستان عبداللہ عارفوف نے ان کا پرتپاک خیرمقدم کیا، وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین، وزیرِ داخلہ شیخ رشید احمد، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وفاقی وزیر برائے بحری امور علی حیدر زیدی، وزیراعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف اور عاطف خان بھی وزیرِ اعظم کے ہمراہ ازبکستان کے دورے پر ہیں۔

مشترکہ اعلامیہ

پاک ازبک مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے ’وژن سنٹرل ایشیا‘ اور سیاسی، تجارتی، سرمایہ کاری، توانائی، سیکورٹی، دفاع اور عوامی رابطوں کے تحت دونوں ملکوں کے دو طرفہ تعاون کو مزید وسعت دی جائے گی۔

سی پیک کے تحت ٹرانسپورٹ کے نیٹ ورک، فائبر آپٹک کیبل، انرجی پائپ لائنز اور خصوصی اقتصادی زونز میں سرمایہ کاری کے بے پناہ مواقع دستیاب ہیں، اس لیے وسطی ایشیائی خطہ کے بہتر مفاد میں سی پیک کی بے پناہ صلاحیتوں سے استفادہ کیا جائے گا۔

اعلامیہ کے مطابق پاکستان اور ازبکستان ثقافتی تعلقات اور عوامی سطح پر رابطوں کو مزید فروغ دیں گے، دونوں ملکوں کی یونیورسٹیوں، تحقیقی اداروں، لائبریریز اور عجائب گھروں کے مابین تعاون بڑھایا جائے گا۔

دونوں ملکوں کی اعلیٰ ترین قیادت نے وسط ایشیا کو بحیرہ عرب سے ملانے کیلئے تاشقند، مزار شریف، کابل، پشاور ریلوے منصوبے کی تعمیر کے لئے اپنی حمایت کا اعادہ کیا تاکہ براستہ افغانستان کراچی، گوادر اور بن قاسم بندرگاہوں تک پہنچا جا سکے۔

دونوں رہنمائوں نے مذاکرات کے عمل کے تسلسل اور سیکورٹی اور دفاع کے شعبوں میں مثبت تعاون پر بھی آمادگی کا اظہار کیا۔ پاکستان اور ازبکستان کی دفاع کی وزارتوں کی سطح پر دوطرفہ تعاون کی صورتحال پر اطمینان کا اظہار کیا گیا، مشترکہ فوجی مشقوں اور تربیت کے حوالے سے تعاون جاری رکھنے اور مختلف شعبوں کے ماہرین سمیت دفاعی وفود کے باہمی تبادلوں پر اتفاق کیا گیا۔

فریقین نے ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے پر دستخط کا خیرمقدم کیا جو دوطرفہ تجارت میں توسیع کیلئے اہم ہے، دونوں رہنمائوں نے تجارت، اقتصادی اور تکنیکی تعاون سے متعلق تسلسل کے ساتھ مشترکہ پاک ازبک بین الحکومتی کمیشن کے اجلاسوں اور دونوں ملکوں کے درمیان مشترکہ بزنس کونسل کے کردار کی اہمیت پر بھی زور دیا اور دونوں ملکوں کے چیمبر آف کامرس و انڈسٹریز اور پرائیویٹ سیکٹر کے مابین براہ راست کاروباری تعلقات قائم کرنے پر اتفاق کیا۔

دونوں رہنماؤں نے مشترکہ سرمایہ کاری کی سہولت کے لئے دونوں ممالک کے سرمایہ کاروں کے لئے زیادہ سے زیادہ سازگار ماحول پیدا کرنے کی ضرورت کو تسلیم کیا اور زراعت، دوا سازی، ٹیکسٹائل، چمڑے، توانائی، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور کیمیائی صنعتوں کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا۔

ازبکستان کے صدر نے پنجاب اور پشاور یونیورسٹیوں میں علی شیر نووئی اور ظہیر الدین محمد بابر سٹڈی سنٹر قائم کرنے کے عمل کو سراہا اور علی شیر نووئی اور بابر فائونڈیشن ازبکستان کے ساتھ تعاون کا خیرمقدم کیا۔

دونوں رہنمائوں نے سیاحت میں تعاون کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا اور روشن فکر اسلام اور برداشت کو فروغ دینے کی غرض سے اسلامی تعاون تنظیم کی اجتماعی کوششوں کیلئے مشترکہ اقدامات کی حمایت کی۔ فریقین نے تعلیمی اور ثقافتی تحقیق میں تعاون کو سراہا اور ازبک اور پاکستانی محققین اور ماہرین کی جانب سے اسلامک انسائیکلو پیڈیا کی تدوین پر کام جلد از جلد شروع کرنے پر اتفاق کیا۔

ازبکستان کے صدر شوکت مرزایوف نے بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت پر وزیراعظم عمران خان کا شکریہ ادا کیا، وزیراعظم عمران خان نے ازبکستان میں پاکستانی وفد کا پرتپاک خیرمقدم اور میزبانی پر ازبکستان کا شکریہ ادا کیا اور صدر شوکت مرزایوف کو مناسب وقت میں پاکستان کے دورہ کی دعوت دی، ازبک صدر نے دورہ کی دعوت قبول کر لی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here