غیرملکی سرمایہ کار کمپنیوں نے منافع کی مد میں 1.49 ارب ڈالر نکال لیے

جولائی 2020ء سے مئی 2021ء تک فنانشل سیکٹر سے 28 کروڑ 10 لاکھ ڈالر، فوڈ سیکٹر 22 کروڑ 90 لاکھ ڈالر، ٹیلی کام سیکٹر 18 کروڑ 40 لاکھ ڈالر، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن سیکٹر 9 کروڑ 70 لاکھ ڈالر اور ٹرانسپورٹ سیکٹر سے 13 کروڑ ڈالر کا منافع بیرون ملک منتقل کیا گیا

179

اسلام آباد: سٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے کہا ہے کہ گزشتہ مالی سال 2020-21ء کے 11 ماہ (جولائی تا مئی) کے دوران ملک میں کی جانے والی غیرملکی سرمایہ کاری سے حاصل منافع کی باہر منتقلی میں 23 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

سٹیٹ بینک کے اعدادوشمار کے مطابق جولائی 2020ء سے لے کر مئی 2021ء تک کی مدت کے دوران منافع جات کی منتقلی کا حجم بڑھ کر ایک ارب 49 کروڑ 60 لاکھ ڈالر رہا۔

پیوستہ مالی سال جولائی 2019ء سے لے کر مئی 2020ء تک کی مدت کے دوران غیر ملکی سرمایہ کاروں نے پاکستان میں اپنی سرمایہ کاری پر حاصل شدہ ایک ارب 21 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کا منافع بیرون ملک منتقل کیا تھا۔

سٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال میں سب سے زیادہ منافع جات فنانشل سیکٹر سے بھجوائے گئے جن کا حجم 28 کروڑ 10 لاکھ ڈالر رہا، اسی طرح فوڈ سیکٹر کے کاروبار میں کی گئی غیر ملکی سرمایہ کاری سے حاصل 22 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کے منافع جات بیرون ملک منتقل کئے گئے۔

مزید برآں گزشتہ مالی سال کے 11 ماہ کے دوران ٹیلی کام کے شعبہ سے 18 کروڑ 40 لاکھ ڈالر جبکہ تیل و گیس کی تلاش کے شعبہ سے 9 کروڑ 70 لاکھ ڈالر اور ٹرانسپورٹ کے شعبہ سے 13 کروڑ ڈالر کے منافع جات سرمایہ کار کمپنیوں کی جانب سے اپنے اپنے ملکوں کو بھجوائے گئے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here