نیشنل پرائس مانیٹرنگ کمیٹی کے تحت ورکنگ گروپ کے قیام کی منظوری

ورکنگ گروپ اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں استحکام کے لئے 'مسٹری شاپنگ' کے علاوہ آٹا، چینی، دالوں، گھی، ٹماٹر، پیاز اور آلو کے سٹریٹجک ذخائر کے قیام کے لئے کام کرے گا

183

اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے نیشنل پرائس مانیٹرنگ کمیٹی (این پی ایم سی) کے تحت ورکنگ گروپ کے قیام کی منظوری دی ہے جو قیمتوں میں استحکام کے لئے مسٹری شاپنگ جیسی مشقیں کرنے کے علاوہ آٹا، چینی، دالوں، گھی، ٹماٹر، پیاز اور آلو کے سٹریٹجک ذخائر کے قیام کے لئے کام کرے گا۔

وزیر خزانہ نے واضح کیا ہے کہ ملک میں کارٹلائزیشن کی اجازت کسی کو نہیں دی جائے گی اور مسابقتی سرگرمیوں کے منافی اقدامات میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

نیشنل پرائس مانیٹرنگ کمیٹی کا اجلاس سوموار کو وزیر خزانہ شوکت ترین کی زیر صدارت منعقد ہوا، سیکرٹری خزانہ نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران قیمتوں کے حساس اعشاریے میں 0.7 فیصد کا معمولی اضافہ ہوا ہے جو پیوستہ ہفتے کے مقابلے میں ضروری اشیاء کی قیمتوں میں استحکام کو ظاہر کر رہا ہے۔

اجلاس میں سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کے رجحان کا جائزہ پیش کرتے ہوئے بتایا گیا کہ سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح گزشتہ دو ماہ میں 17.23 فیصد سے کم ہو کر 12.28 فیصد پر آ گئی ہے، اس طرح صارفین کے لئے قیمتوں کا حساس اعشاریہ 8.9 فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے جو گزشتہ سال 10.74 فیصد تھا، شہری اور دیہی علاقوں میں مہنگائی میں کمی کا رجحان دیکھنے میں آ رہا ہے۔

وزیر خزانہ شوکت ترین نے متعلقہ ضلعی انتظامیہ اور محکموں پر زور دیا کہ وہ عیدالاضحیٰ کے تناظر میں ضروری اشیاء بشمول سبزیوں کی قیمتوں کی کڑی نگرانی کو یقینی بنائیں تاکہ ناجائز منافع خوری کا خاتمہ ہو۔

وزیر خزانہ نے نیشنل پرائس مانیٹرنگ کمیٹی کی چھتری تلے ایک ورکنگ گروپ کے قیام کی بھی منظوری دی جو صوبائی چیف سیکرٹریز، ادارہ شماریات کے نمائندوں، وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق اور متعلقہ محکمہ جات کے نمائندوں پر مشتمل ہو گا۔

یہ ورکنگ گروپ قیمتوں میں استحکام کے لئے ‘مسٹری شاپنگ’ جیسی مشقیں کرنے کے علاوہ آٹا، چینی، دالوں، گھی، ٹماٹر، پیاز اور آلو کے سٹریٹجک ذخائر کے لئے بھی کام کرے گا۔ اس کا مقصد ناجائز منافع خوری کا خاتمہ اور ملک بھر میں اشیاء ضروریہ کی مناسب قیمتوں پر فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔

سیکرٹری صنعت و پیداوار نے کمیٹی کو بین الاقوامی مارکیٹ میں کوکنگ آئل کی قیمتوں کے رجحان پر بریفنگ دی، انہوں نے بتایا کہ سویابین اور پام آئل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد اس وقت قیمتوں میں کمی کا رجحان دیکھنے میں آ رہا ہے۔

وزیر خزانہ نے وزارت صنعت و پیداوار، مسابقی کمیشن اور ایف بی آر کو ہدایت کی کہ وہ بین الاقوامی مارکیٹ میں خوردنی تیل کی کمی کا فائدہ مقامی صارفین کو منتقل کرنے کے لئے اقدامات کو یقینی بنائیں۔

اس موقع پر مسابقتی کمیشن کے چیئرمین نے کمیٹی کو بتایا کہ کمیشن نے خوردنی تیل اور گھی کے شعبوں میں مبینہ اجتماعی پرائس فکسنگ سے متعلق بعض اطلاعات کی چیکنگ کے لئے انکوائری شروع کی ہے تاکہ اس بارے میں معلومات حاصل کی جا سکیں۔

وزیر خزانہ نے چیئرمین کو ہدایت کی کہ وہ مسابقتی سرگرمیوں کے منافی اقدامات کے تدارک کے لئے انکوائری کو یقینی بنائیں اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ کارٹلائزیشن کی کسی صورت بھی اجازت نہیں دی جائے گی اور ناجائز منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت اقدامات کئے جائیں گے۔

وزیر خزانہ نے صوبائی چیف سیکرٹریز، سیکرٹری خزانہ، سیکرٹری نیشنل فوڈ، سیکیورٹی، چیئرپرسن مسابقتی کمیشن اور ادارہ برائے شماریات کے ممبران پر مشمل ایک کمیٹی بھی قائم کی جو پرائس فکسنگ اور مسابقت کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کے لئے طریقہ کار طے کرے گی۔

وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے سیکرٹری نے کمیٹی کو بتایا کہ ملک بھر میں گندم کے وافر ذخائر موجود ہیں۔ ای سی سی کے فیصلے کے مطابق سٹریٹجک ذخائر کے قیام کے لئے گندم کی درآمد کے لئے اقدامات کئے جا رہے ہیں اور یہ پورا عمل بہت جلد مکمل ہو گا۔

سیکرٹری صنعت و پیداوار نے کمیٹی کو بتایا کہ 15 اگست تک ایک لاکھ ٹن چینی درآمد کرنے کے لئے انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ وزیر خزانہ نے ہدایت کی کہ چینی کی قیمتوں میں استحکام کے لئے اس کے سٹریٹجک ذخائر کو یقینی بنایا جائے۔  سیکرٹری نے بتایا کہ ملک میں چینی کے مناسب ذخائر موجود ہیں جو نئی پیداوار کے آنے تک کے لئے کافی ہے۔

اجلاس میں وفاقی وزراء، معاونین خصوصی، وزیراعظم کے مشیروں اور متعلقہ اداروں اور محکموں کے نمائندوں کے علاوہ صوبائی چیف سیکرٹریز نے بھی شرکت کی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here