گھی اور تیل کی قیمتیں ’فکس‘ کرنے کا انکشاف، مسابقتی کمیشن کا بناسپتی ایسوسی ایشن کے دفاتر پر چھاپہ

پاکستان بناسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کا پلیٹ فارم خوردنی تیل اور گھی کی قیمتوں کو ملی بھگت سے فکس کرنے میں استعمال ہوتا ہے جو قانون کی خلاف ورزی ہے، کراچی، لاہور اور اسلاآباد میں ایسوسی ایشن کے دفاتر کی تلاشی کے دوران اہم ریکارڈ قبضے میں لے لیا، مسابقتی کمیشن 

513

اسلام آباد: مسابقتی کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) نے خوردنی تیل اور گھی کے سیکٹر میں مشتبہ مسابقت مخالف سرگرمیوں کی بنا پر کراچی، لاہور اور اسلاآباد میں پاکستان بناسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی وی ایم اے) کے دفاتر کی تلاشی لی ہے۔

سی سی پی کی جانب سے جمعرات کو جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان بناسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے خلاف مسابقتی ایکٹ 2010ء کے سیکشن 3 اور سیکشن 4 کی مبینہ خلاف ورزیوں کے حوالے سے تحقیقات جاری تھیں۔

کمیشن کے مجاز افسروں پر مشتمل تین مختلف ٹیموں نے پاکستان بناسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے دفاتر کی سرچ انسپیکشن کی اور اہم دستاویزات قبضے میں لے لیں۔ ایسوسی ایشن کے عہد یداروں نے انسپکشن ٹیموں کے ساتھ مکمل تعاون کیا اور مطلوبہ ریکارڈ ان کے حوالے کر دیا۔

یہ بھی پڑھیے:

مسابقتی کمیشن کی انکوائری میں ڈیری سیکٹر میں کارٹلائزیشن کا انکشاف

خوردنی تیل اور گھی کی قیمتوں میں اضافہ، مسابقتی کمیشن حرکت میں آ گیا

تحقیقات کے دوران سی سی پی کی انکوائری کمیٹی کو معلوم ہوا کہ پاکستان بناسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن، جو کہ 125 خوردنی تیل اور گھی تیار کرنے والی کمپنیوں کی ایسوسی ایشن ہے، مختلف برانڈز کے کوکنگ آئل اور گھی کی ریٹیل پرائس کی فکسنگ میں ملوث ہے۔

انکوائری کمیٹی کے پاس دستیاب ڈیٹا سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان بناسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن اپنی رکن ملز / کمپنیوں کے درمیان فریٹ چارجز کو سرکولیٹ کرتی ہے اور ہائی سپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کی قیمتوں میں اضافہ / کمی کے نتیجہ میں چارجز میں تبدیلی کرتی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ایسوسی ایشن کی سطح پر اس طرح کا گٹھ جوڑ اور ملی بھگت کمپی ٹیشن ایکٹ 2010ء کے سیکشن 4 کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔ اس طرح کے مسابقت مخالف رویوں سے پتہ چلتا ہے کہ بناسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کا پلیٹ فارم خوردنی تیل / گھی کی قیمتوں کو ملی بھگت سے فکس کرنے میں استعمال ہوتا ہے جو قانون کی خلاف ورزی ہے۔

انکوائری کمیٹی کے پاس قبضے میں لیے جانے والا ریکارڈ خوردنی تیل اور گھی کی قیمتوں میں حالیہ اضافے میں ایسوسی ایشن اور دیگر کمپنیوں کے ممکنہ کردار کے شواہد فراہم کرے گا۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ سی سی پی کمپی ٹیشن ایکٹ کے تحت معیشت کے تمام شعبوں میں آزادانہ مسابقت کو یقینی بنانے اور مخالف رویوں، جس میں ضروری اشیا کی قیمتوں کا تعین بھی شامل ہے، سے صارفین کو بچانے کے لیے پر عزم ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ دیکھا گیا ہے، حکومت کی جانب سے یوٹیلیٹی سٹورز پر پانچ اشیاء پر دی جانے والی سبسڈی میں گھی اور خوردنی آئل بھی شامل ہے لیکن کھلی مارکیٹ میں اچھے برانڈ کے گھی اور خوردنی تیل کی قیمت 300 روپے فی کلو گرام کے لگ بھگ ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here