مسابقتی کمیشن کی انکوائری میں ڈیری سیکٹر میں کارٹلائزیشن کا انکشاف

کراچی میں دودھ کی قیمتوں پر تین ڈیری ایسوسی ایشنز کی اجارہ داری، سرکاری ریٹ سے زائد نرخوں پر فروخت جاری، دودھ مافیا صارفین کی جیبوں سے سالانہ 47 ارب روپے نکوانے لگا، انکوائری رپورٹ

337

اسلام آباد: مسابقتی کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) نے کراچی میں دودھ کی قیمتوں میں اضافے اور کچھ عناصر کے قیمتوں پر اثر انداز ہونے کی شکایات کے حوالے سے انکوائری مکمل کر لی۔

انکوائری کے نتیجے میں انکشاف ہوا ہے کہ شہر قائد میں دودھ کی قیمتوں میں اضافہ تین ڈیری ایسوسی ایشنز کی ملی بھگت سے کیا جا رہا ہے جو پرائس فکسنگ اور کارٹلائزیشن میں ملوث ہیں۔

کراچی میں دودھ کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر ایک کنزیومر ایسوسی ایشن نے شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا جس کے بعد میڈیا رپورٹس پر سی سی پی نے نوٹس لیا اور انکوائری کا آغاز کیا تھا۔

انکوائری میں معلوم ہوا کہ شہر قائد اور گردونواح کے علاقوں میں دودھ کی سرکاری طور پر متعین شدہ قیمت پر فروخت نہیں ہوتی بلکہ سپلائی چین پر متعدد ایسوسی ایشنز کا اثرورسوخ ہونے کی وجہ سے قیمت بڑھا دی جاتی ہے۔

جب سرکاری قیمت 94 روپے فی لٹر تھی تو ڈیری فارمرز ایسوسی ایشن (ڈی ایف اے) نے قیمت 110 روپے فی لٹر سے بڑھا کر 120 روپے کر دی۔ دودھ کی سرکاری اور نجی قیمتوں کے مابین گہرے فرق کی وجہ سے شہر قائد کے شہری سالانہ بنیاد پر 47 ارب روپے کا بوجھ برداشت کر رہے ہیں۔

دوسری جانب مارکیٹ میں ناقص اور غیرمعیاری دودھ فروخت ہو رہا، عدم مسابقت کی وجہ سے قیمتوں میں بھی بہت زیادہ فرق ہے۔

سی سی پی کا کہنا ہے کہ ’’ دودھ دیسی گھی، مکھن، پنیر اور کئی دیگر اشیاء بنانے کیلئے استعمال ہوتا ہے، لیکن اس کی قیمت میں اتار چڑھائو مذکورہ مصنوعات کی قیمتوں پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔‘‘

کراچی میں دودھ کی مارکیٹ کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ شہر میں دودھ مضافاتی علاقوں میں موجود پانچ مویشی کالونیوں سے آتا ہے، ڈیری فارمر، ہول سیلرز اور ریٹیلرز دودھ کی سپلائی چین کا حصہ ہیں۔

ریٹیلرز کو دودھ ایک سالانہ معاہدے کے تحت دیا جاتا ہے جسے ’باندھی‘ کہا جاتا ہے، اس میں قیمت اور مقدار کا تعین متعدد ریٹیلر ایسوسی ایشنز کی جانب سے کیا جاتا ہے۔

کراچی اس حوالے سے پورے ملک میں امتیازی مقام رکھتا ہے کہ یہاں دودھ بھی ایک منڈی سے ملتا ہے جو بولٹن مارکیٹ میں واقع ہے۔

کراچی میں ڈیری فارمرز کی تین تنظیمیں ہیں، ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن آف کراچی (ڈی سی ایف اے کے)، ڈیری فارمرز ایسوسی ایشن کراچی (ڈی ایف اے کے) اور کراچی ڈیری فارمرز ایسوسی ایشن (کے ڈی ایف اے)۔

فروری 2021ء میں ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن آف کراچی کے نمائندوں کی کچھ ویڈیوز منظر عام پر آئیں جن میں وہ دودھ کی نظرثانی شدہ قیمتوں کا اعلان کر رہے تھے، اس کے بعد ایسوسی ایشن کے صدر نے مختلف ٹی وی پروگراموں آ کر کہنا شروع کر دیا کہ کراچی میں پرانی قیمت پر دودھ نہیں ملے گا۔ ڈیٹا سے معلوم ہوتا ہے کہ ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن کے اعلان کے فوری بعد کراچی میں دودھ کی قیمت بڑھ گئی۔

جولائی 2020ء میں کراچی میں دودوھ کی قیمت 110 روپے فی لٹر سے بڑھ کر 120 روپے فی لٹر ہو گئی جبکہ مارچ 2021ء میں یہ قیمت 120 روپے فی لٹر سے بڑھ کر 130 روپے تک جا پہنچی۔

لاہور، راولپنڈی اور اسلام آباد کے ساتھ موازنہ کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ صرف کراچی میں ایک قیمت پر دودھ فروخت ہوتا ہے اور باقی شہروں میں اس کی قیمت میں اتار چڑھائو آتا رہتا ہے، قیمتوں کی اس یکسانیت کے پیچھے بھی ڈیری ایسوسی ایشنز کا گٹھ جوڑ نظر آتا ہے۔

اس لیے مسابقتی کمیشن کا کہنا ہے کہ ڈیری ایسوسی ایشنز کے اقدامات مسابقتی ایکٹ 2010ء کے سیکشن 4 کی خلاف ورزی ہے۔ سی سی پی کی انکوائری کمیٹی  نے تجویز دی ہے کہ مذکورہ تینوں ایسوسی ایشنز کے خلاف مسابقی ایکٹ کے سیکشن 30 کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here