ایرکسن اور سام سنگ نے عالمی پیٹنٹ معاہدے پر دستخط کر دیئے

معاہدے میں فائیو جی سمیت سیلولر ٹیکنالوجیز کا عالمی کراس پیٹنٹ لائسنس بھی شامل، یہ تصفیہ فریقین کے مابین پیٹنٹ سے متعلق تمام جاری قانونی تنازعات کا خاتمہ کرے گا

157

کراچی: ایرکسن اور سام سنگ کے مابین عالمی پیٹنٹ لائسنسوں کے سلسلے میں ایک کثیر المدتی معاہدہ طے پا گیا جس میں سیلولر ٹیکنالوجیز سے متعلق پیٹنٹ کا معاہدہ بھی شامل ہے۔

یہ کراس لائسنس معاہدہ یکم جنوری 2021ء سے نیٹ ورک کے بنیادی ڈھانچے اور موبائل فون سیٹس کی فروخت کا احاطہ کرتا ہے۔

دونوں کمپنیوں نے موبائل فون انڈسٹری کے معیار کے فروغ اور صارفین اور کاروباری اداروں کیلئے موبائل فون ٹیکنالوجی کے حوالے سے مسائل کا حل تلاش کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔

اس معاہدے سے دونوں کمپنیوں کے طرف سے امریکہ کے بین الاقوامی تجارتی کمیشن (یو ایس آئی ٹی سی) میں دائر شکایات کے خاتمے کے ساتھ ساتھ کئی ممالک میں جاری قانونی مقدمات کا خاتمہ بھی ہو جائے گا جو دونوں کمپنیوں کے مضبوط پیٹنٹ کی ترجمانی کرتا ہے۔ دونوں کمپنیوں نے معاہدے کو خفیہ رکھنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔

ایرکسن کے آئی پی آر لائسنس دینے والے محصولات کئی عوامل سے متاثر ہوتے رہیں گے، جیسا کے بنیادی طور پر میعاد ختم ہونے والے پیٹنٹ لائسنس معاہدوں کی تجدید، موبائل فون ہینڈ سیٹ مارکیٹ پر جیو پولیٹیکل اثرات، فور جی سے فائیوجی ٹیکنالوجی پر منتقلی اور کرنسی کے ممکنہ اثرات شامل ہیں۔

اس موقع پر ایرکسن کی چیف انٹلیکچول پراپرٹی آفیسر کرسٹینا پیٹرزسن کا کہنا تھا کہ ہمیں سام سنگ کے ساتھ معاہدہ کرنے پر خوشی ہے، یہ معاہدہ ہمارے پیٹنٹ پورٹ فولیو کی تصدیق کرتا ہے اور ایرکسن کے FRAND اصولوں پر عمل پیرا ہونے کے عزم کی نشاندہی کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پچھلی کئی دہائیوں کے دوران ایرکسن نے تحقیق و ترقی کے میدان اور عالمی معیار کے موبائل فون تیار کرنے میں نمایاں سرمایہ کاری کی ہے اور وہ ہر جگہ صارفین اور کاروباری اداروں کے مفادات کیلئے منصفانہ، معقول اور غیر امتیازی سلوک پر مبنی شرائط پر اپنے معیاری پیٹنٹ کو لائسنس دینے کیلئے پرعزم ہے۔

ایرکسن کا پورٹ فولیو 57 ہزار سے زائد منظور شدہ پیٹنٹ تک پھیلا ہوا ہے جس کو کمپنی کی تحقیق و ترقی کے میدان میں سالانہ 40 ارب سیک سے زائد کی سرمایہ کاری سے مزید تقویت ملتی ہے۔

فائیوجی میں نمایاں عالمی پوزیشن کے ساتھ کمپنی کو اپنی آئی پی آر آمدنی طویل مدت تک بڑھنے کی امید ہے جس سے پیٹنٹ پورٹ فولیو کی مجموعی قیمت میں مزید اضافہ ہوجائے گا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here