قیمتی پتھروں، زیورات اور معدنیات کو منافع بخش برآمدی صنعت بنانے کا منصوبہ

پاکستان میں قیمتی پتھروں کی برآمدات سے سالانہ 5 ارب ڈالر کی صلاحیت موجود، ذخائر کے اعتبار سے دنیا میں آٹھواں نمر ہے، سرماہ کاری بڑھانے کیلئے جیمز اینڈ جیولری سٹی قائم کیا جائے گا، وزیراعظم کو بریفنگ

248

اسلام آباد: وزیرِاعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان 74 سال میں پہلی دفعہ قیمتی پتھروں، زیورات اور معدنیات کے شعبے کو برآمدی صنعت بنانے جا رہا ہے۔

بدھ کو قیمتی پتھروں، جیولری اور معدنیات سے متعلق ٹاسک فورس کا اجلاس وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت منعقد ہوا جس میں وفاقی وزیرِ صنعت خسرو بختیار، معاونِ خصوصی شہباز گل، چیئرمین جیمز اینڈ جیولری ٹاسک فورس انجینیئر گُل اصغر خان، عاطف خان، ٹاسک فورس کے ارکان اور متعلقہ اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔

اجلاس میں وزیرِاعظم کو ٹاسک فورس کی جیمز، جیولری اور منرلز کے شعبے کی تشکیل نو اور مجوزہ منرل سٹی پر سفارشات پیش کی گئیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ پاکستان میں قیمتی پتھروں کی برآمدات کے حوالے سے 5 ارب ڈالر سالانہ کی صلاحیت موجود ہے جس کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت پر مثبت اثرات اور لاکھوں نوکریاں پیدا ہوں گی۔

یہ بھی بتایا گیا کہ پاکستان میں اس وقت 99 قسم کے قیمتی پتھروں کے ذخائر موجود ہیں اور اس شعبے میں پیداوار کے حوالے سے پاکستان دنیا میں آٹھواں بڑا ملک ہے۔ مزید یہ کہ محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں سالانہ 200 ٹن سونے کی کھپت ہے، مؤثر قانون سازی اور بہتر انتظام سے اس شعبے کو  بڑی برآمدی صنعت میں تبدیل کیا جائے گا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ جیمز اور جیولری کو صنعت کا درجہ دیا جا چکا ہے اور ٹاسک فورس کے لائحہ عمل کے مطابق اس پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔ برآمدات کو بڑھانے پر خصوصی توجہ دی جائے گی جس کے لئے پاکستانی سفارت خانوں سے بھی مدد لی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیے:

اٹلی کا گلگت بلتستان میں قیمتی پتھروں سے متعلق تربیتی ادارہ قائم کرنے کا عندیہ

10 ماہ میں قیمتی پتھروں اور زیورات کی برآمدات سے 2 ارب 66 کروڑ روپے آمدن

اس کے علاوہ جیمز اینڈ جیولری سٹی کا قیام عمل میں لایا جائے گا جہاں وسائل کو ایک جگہ اکٹھا کرنے، شعبے کو درپیش مسائل کے حل کیلئے وَن ونڈو آپریشن فراہم کرنے اور سرمایہ کاروں کو مراعات فراہم کرنے کو یقینی بنایا جائے گا۔ ابتدائی طور پر موجودہ وسائل کو بروئے کار لا کر پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ ماڈل اپنایا جائے گا.

اجلاس کو بتایا گیا کہ پاکستان بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی کیلئے شعبے سے متعلق سرٹیفیکیشن بھی حاصل کرے گا۔ اس میں نہ صرف قیمتی پتھروں بلکہ قیمتی دھاتوں کے معیار وضح کیے جائیں گے بلکہ موجودہ معیار کو بین الاقوامی سطح پر لایا جائے گا۔

اس کے علاوہ اجلاس کو یہ بھی بتایا گیا کہ اس شعبے میں تحقیق کے وسائل کی موجودگی کے باوجود کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں کی گئی۔ لائحہ عمل کے مطابق تحقیق کے شعبے کو فعال بنا کر تمام جدید سٹینڈرڈز متعارف کروائے جائیں گے۔ اجلاس کو منرل سٹی کے قیام پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

وزیرِاعظم نے اس موقع پر کہا کہ حکومت معدنیات اور قیمتی پتھروں کے شعبے کے روایتی طریقوں کو بدل کر جدید ٹیکنالوجی سے اس شعبے کی تشکیل نو کر رہی ہے۔

وزیرِاعظم نے مزید ہدایت کی کہ ایسے تمام وسائل جو ضائع ہو رہے ہیں ان کو بروئے کار لایا جائے اور اس لائحہ عمل پر عملدرآمد کیلئے باقاعدہ شیڈول مرتب کرنے کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاروں کیلئے موجود رکاوٹوں کا تدارک کیا جائے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here