بجلی کی طلب و رسد ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح 24 ہزار 284 میگاواٹ تک پہنچ گئی، حماد اظہر

تربیلا ڈیم کے 17 میں 10 پیداواری یونٹس سے بجلی کی پیداوار ایک ہزار 333 میگاواٹ ریکارڈ، 7 یونٹس بند رہے، سوئی نادرن نے پاور پلانٹس کو گیس فراہمی 685 ایم ایم سی ایف ڈی سے بڑھا کر 750 ایم ایم سی ایف ڈی کر دی

200

اسلام آباد: وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر نے کہا ہے کہ بجلی کی طلب و رسد ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح 24 ہزار 284 میگاواٹ تک پہنچ گئی ہے۔

بدھ کو اپنے ایک ٹویٹ میں حماد اظہر کا کہنا تھا کہ اس سے قبل جولائی 2018 میں 20 ہزار 811 میگاواٹ بجلی ترسیل کی گئی تھی، بجلی کی طلب و رسد کی بلند ترین سطح سے نہ صرف طلب اور پیداوار بلکہ ترسیلی استعداد میں اضافہ کی بھی عکاسی ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بجلی کی طلب و رسد کی یہ بلند ترین سطح کا یہ نیا ریکارڈ اس حقیقت کے باوجود قائم ہوا ہے کہ ملک کا سب سے بڑا تربیلا ڈیم رواں سال پیک سیزن کے دوران اپنی پیداوار کی صرف 25 فیصد بجلی کی پیدا کر رہا ہے۔

ادھر بدھ کو تربیلا ڈیم کے 17 میں 10 پیداواری یونٹس سے بجلی کی پیداوار ایک ہزار 333 میگاواٹ ریکارڈ کی گئی جبکہ 7 یونٹس بند رہے۔

ترجمان تربیلا ڈیم کے مطابق پانی کی سطح معمولی کمی کے بعد لیول 1436.70 فٹ ہو گئی، ڈیم میں پانی کی آمد کی آمد ایک لاکھ 32 ہزار 100 کیوسک اور اخراج ایک لاکھ 32 ہزار 500 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔

دوسری جانب وزارت توانائی کے ترجمان نے کہا ہے کہ بجلی کے شعبہ کو آر ایل این جی کی فراہمی 750 ایم ایم سی ایف ڈی تک بڑھا دی گئی ہے، ملک میں بجلی کی صورت حال بہتر ہے اور جمعہ 2 جولائی سے شام 5 بجے کے بعد کوئی لوڈ مینجمنٹ نہیں کی جا رہی۔

ترجمان نے اگست کے مہینہ میں آر ایل این جی فراہمی میں کمی کی خبروں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وزیر توانائی پہلے ہی سوئی نادرن کو ہدایت کر چکے ہیں کہ گرمیوں میں بجلی کی بہتر فراہمی کے لئے زیادہ گیس سپلائی کی جائے جس کے بعد سوئی نادرن نے 685 ایم ایم سی ایف ڈی سے بڑھا کر 750 ایم ایم سی ایف ڈی کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا اگرچہ پن بجلی کی پیداوار میں کوئی نمایاں بہتری نہیں آئی تاہم ملک میں متبادل ایندھن کے ذریعے بہتر منصوبہ بندی کرکے طلب پوری کی جا رہی ہے۔ آبی ذخائر میں پانی کی آمد و اخراج اور بجلی کی پیداوار سے متعلق دیگر عوامل کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔ متبادل ایندھن کی فراہمی کے ذریعے بجلی کی پیداوار کے لئے ایک متبادل پلان بھی تیار ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here