کوریا پاکستان کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدہ پر دستخط کا خواہاں

ایف ٹی اے سے دونوں ملکوں کے درمیان تجارت و سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا، پاکستانی بزنس کمیونٹی اس سلسلے میں پنا کردار ادا کرے، کورین سفیر

231

اسلام آباد: پاکستان میں کوریا کے سفیر سو سانگ پیو نے پاکستان کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدہ (ایف ٹی اے) طے کرنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ملکوں کے مابین تجارت کے فروغ کے لیے آزاد تجارتی معاہدہ انتہائی ضروری ہے۔

بدھ کو کورین سفیر نے فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کی پاکستان کوریا بزنس کونسل کے چیئرمین سہیل نثار سے ملاقات کی، اس موقع پر تجارتی تعلقات کے فروغ سمیت دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

کوریا کے سفیر نے کہا کہ آزاد تجارتی معاہدے کے لئے ضروری ہے کہ پاکستانی تاجر برادری اپنی حکومت سے درخواست کرے کہ وہ کورین حکومت کے ساتھ اس حوالے سے بات چیت کو آگے بڑھائے تاکہ کورین سفارت خانہ اپنا کردار ادا کر سکے۔

اسلام آباد: کوریا کے سفیر سو سانگ پیو سے ایف پی سی سی آئی کی پاکستان کوریا بزنس کونسل کے چیئرمین سہیل نثارکی ملاقات

انہوں نے دونوں ملکوں کی تاجربرادری پر زور دیا کہ وہ جوائنٹ وینچرز میں دلچسپی کا مظاہرہ کریں اور معیشت کے مختلف شعبوں میں پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تجارت کو فروغ دینے کے لئے مشترکہ کوششیں کریں۔

انہوں نے بزنس ٹو بزنس میٹنگز، اعلیٰ سطحی تجارتی وفود کے تبادلے اور دوطرفہ نمائشوں کے انعقاد پر بھی زور دیا اور کورین سفارت خانے کی جانب سے اپنے ہر ممکن تعان کا یقین دلایا۔

پاکستان کوریا بزنس کونسل کے چیئرمین سہیل نثار نے کہا کہ کہ تجارت و سرمایہ کاری کے لحاظ سے پاکستان ایک پرکشش ملک ہے جو غیر ملکی سرمایہ کاروں اور تاجروں کو شاندار اور منافع بخش کاروباری مواقع فراہم کرتا ہے لہٰذا کورین تاجروں اور سرمایہ کاروں کو ان مواقع سے ضرور فائدہ اٹھانا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے تاجر ایک دوسرے کے ساتھ تجارتی روابط بڑھائیں اور اس بات کا جائزہ لیں کہ کن اشیاء کی تجارت سے پاکستان اور کوریا کے مابین دوطرفہ تجارت میں اضافہ ممکن ہے جو دونوں ملکوں کی معیشتوں کے لیے فائدہ مند ہو گی۔

سہیل نثار نے کورین سفیر کی جانب سے بزنس ٹو بزنس میٹنگز، نمائشوں کے انعقاد اور تجارتی وفود کے تبادلے کی تجاویز کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ ان پر عمل درآمد سے یقینی طور پر پاکستان اور کوریا کے مابین تجارتی حجم میں نمایاں اضافہ ہو گا اور کوریا کی ٹیکنالوجی میں مہارت سے بھی پاکستان مستفید ہوسکتا ہے۔

انہوں نے کورین سفیر کو ایف پی سی سی آئی کا دورہ کرنے کی بھی دعوت دی جسے انہوں نے قبول کرتے ہوئے یقین دہانی کروائی کہ وہ بہت جلد ایف پی سی سی آئی کراچی ہیڈ آفس کا دورہ کریں گے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here