گوادر فری زون سمیت سی پیک کے تحت متعدد منصوبوں کا افتتاح

گوادر خطے میں اقتصادی اور ترقیاتی سرگرمیوں کا محور بنے گا، وسطی ایشیا سمیت علاقائی ممالک کیلئے وسیع تر تجارتی مواقع پیدا ہوں گے، غیر ملکی سرمایہ کاروں کو ون ونڈو آپریشن کے تحت سہولیات فراہم کی جائیں گی، خطاب

256
گوادر: وزیراعظم عمران خان گوادر میں سی پیک کے تحت گوادر فری زون سمیت متعدد منصوبوں کا افتتاح کر رہے ہیں (تصویر: پی آئی ڈی)

گوادر: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ گوادر خطے میں اقتصادی اور ترقیاتی سرگرمیوں کا محور بنے گا جس سے نہ صرف پاکستان اور بلوچستان کو فائدہ ہوگا بلکہ وسطی ایشیا سمیت علاقائی ممالک کیلئے بھی وسیع تر تجارتی مواقع پیدا ہوں گے۔

سوموار کو وزیراعظم عمران خان ایک روزہ دورے پر گوادر پہنچے جہاں انہوں نے گوادر فری زون کا افتتاح اور اس کے فیز ٹو کا سنگ بنیاد رکھا۔

اس موقع پر چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی، وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری، وفاقی وزراء اسد عمر، علی زیدی، شاہ محمود قریشی، زبیدہ جلال کے علاوہ مشیر قومی سلامتی معید یوسف، چیئرمین سی پیک اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ اور دیگر بھی موجود تھے۔

اپنے خطاب میں وزیراعظم نے کہاکہ گوادر کے دورے کے ان کے دو مقاصد تھے، ایک تو گوادر فری زون کا افتتاح اور 2200 ایکڑ پر فری زون فیز ٹو کا سنگ بنیاد رکھنا تھا۔

وزیراعظم نے کہا کہ گوادر پاکستان کا فوکل پوائنٹ بنے گا جس سے پاکستان اور بالخصوص بلوچستان کو فائدہ ہو گا، یہاں توانائی اور پانی کے متعدد منصوبے شروع ہو چکے ہیں، گوادر ایئرپورٹ کی تعمیر جاری ہے، یہ گوادر کو دنیا سے ملائے گا، 500 بستروں کا ہسپتال بن رہا ہے، ان منصوبوں پر کام تیز ہونا چاہئے تھا لیکن ان کی رفتار سست رہی۔

گوادر: وزیراعظم عمران خان جنوبی بلوچستان کے ترقیاتی پیکج کے حوالے سے بریفنگ لے رہے ہیں (تصویر: پی آئی ڈی)

انہوں نے کہا کہ چینی اور دیگر غیرملکی سرمایہ کاروں کو گوادر میں بہترین سہولیات فراہم کی جائیں گی، اگر ہم انہیں بہتر خدمات فراہم نہیں کریں گے تو ایسے ممالک موجود ہیں جہاں پر ان کو بہتر سہولیات مل رہی ہیں، اسی لیے حکومت نے غیرملکی سرمایہ کاروں کیلئے وَن ونڈ آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہم اپنے محل وقوع اور چین کی دوستی سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، گوادر میں ووکیشنل انسٹیٹیوٹ کے قیام سے گوادر اور بلوچستان کے نوجوانوں کو فائدہ ہو گا، جیسے جیسے یہاں سرمایہ کاری بڑھے گی اور صنعتیں لگی گی تو یہاں پیشہ وارانہ مہارت کی حامل افرادی قوت کی ضرورت ہو گی۔

انہوں نے کہاکہ وفاقی حکومت نے بلوچستان کیلئے 730 ارب روپے کا پیکج دیا ہے، اتنا بڑا ترقیاتی پیکج پہلے کبھی صوبے کو نہیں دیا گیا، اس پیکج کے ذریعے دور دراز علاقوں کو آپس میں ملایا جا رہا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ گوادر میں یونیورسٹی بن رہی ہے، کامیاب پاکستان پروگرام کے تحت غریب گھرانوں کو آسان شرائط پر قرض فراہم کیا جائے گا، کسانوں کو سہولیات دی جائیں اور علاج کیلئے ہیلتھ انشورنس فراہم کی جائے گی۔

انہوں نے کہاکہ نیا پاکستان ہاﺅسنگ منصوبہ سست روی کا شکار رہا ہے کیونکہ ماضی میں بینکوں سے غریب افراد کو قرض دینے کی روایت نہیں رہی، اب یہ قرضے فراہم کئے جا رہے ہیں۔ گوادر میں کامیاب جوان پروگرام کے تحت وزارت بحری امور نے ماہی گیروں کی کشتیوں اور مچھلیاں پکڑنے کے جال بہتر بنانے کیلئے پروگرام بنایا ہے،

عمران خان کا کہنا تھا کہ گوادر وسطی ایشیا تک کے خطے کو آپس میں ملا رہا ہے، تاجکستان اور ازبکستان کے ساتھ ہمارے معاہدے ہوئے ہیں، وہ گوادر کے راستے تجارت کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ وزارت منصوبہ بندی نے بلوچستان کے وزیراعلیٰ کے ساتھ بیٹھ کر صوبے کیلئے بہت اچھا پیکج تیار کیا ہے، وزیراعظم آفس گوادر کے منصوبوں کی مکمل نگرانی کرے گا اور وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ سے بھی ہمارا رابطہ رہے گا تاکہ کسی قسم کی کوئی رکاوٹ پیش نہ آئے اور تمام منصوبوں پر پیش رفت کا ماہانہ جائزہ لیا جائے۔

تقریب سے وزیراعلی بلوچستان جام کمال، پاکستان میں چین کے سفیر نونگ رونگ اور چیئرمین سی پیک اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ نے بھی خطاب کیا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here