سٹیٹ بینک نے برآمدات سے متعلق فارن ایکسچینج مینوئل میں ترامیم کر دیں

فارن ایکسچینج مینوئل میں کی گئی کلیدی تبدیلیوں میں وہ ترامیم شامل ہیں جو پاکستان سنگل ونڈو کے فعال ہونے کے بعد برآمدی لین دین میں آسانی پیدا کریں گی، برآمدات کے لیے درکار الیکٹرانک فارم ای (ای ایف ای) کی ضرورت ختم ہو جائے گی، اعلامیہ

193

کراچی: سٹیٹ بینک نے پاکستان سے اشیاء کی برآمدات کے لیے زرمبادلہ کے قواعد و ضوابط (فارن ایکسچینج مینوئل، باب 12) میں ترامیم کر دیں۔

مرکزی بینک سے جمعہ کو جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق فارن ایکسچینج مینوئل میں کی گئی کلیدی تبدیلیوں میں وہ ترامیم شامل ہیں جو پاکستان سنگل ونڈو کے فعال ہونے کے بعد برآمدی لین دین میں آسانی پیدا کریں گی۔ اس کے ذریعے برآمدات کے لیے درکار الیکٹرانک فارم ای (ای ایف ای) کی ضرورت ختم ہو جائے گی۔

ایک ترمیم یہ کی گئی ہے کہ پاکستانی برآمدکنندگان کو بزنس ٹو بزنس ٹو کنزیومر (B2B2C) ای کامرس ماڈل کے تحت بین الاقوامی ڈیجیٹل مارکیٹس بشمول ایمیزون، ای بے، علی بابا کے ذریعے اپنی مصنوعات کی فروخت میں مدد فراہم کی جائے گی۔

ان قواعدوضوابط سے پاکستانی برآمد کنندگان بالخصوص ایس ایم ایز برآمدکنندگان کو اپنی مصنوعات بیچنے کے لیے لاکھوں بین الاقوامی صارفین تک پہنچنے کی راہ ہموار ہو جائے گی۔

یہ بھی پڑھیے:

ایف بی آر نے پاکستان سنگل ونڈو ہیڈ آفس کا افتتاح کر دیا

پاکستان سنگل ونڈو ایکٹ سے سالانہ 50 کروڑ ڈالر کی بچت ہو گی

کاروباری آسانی اور سرحد پار تجارتی انڈیکس میں بہتری، پاکستان ایشیا میں پہلے نمبر پر آ گیا

سٹیٹ بینک کی ای کامرس ایکسپورٹرز کیلئے ریگولیٹری فریم ورک میں تبدیلیوں کی تجویز

یوں بزنس کمیونٹی کے لیے نئے مواقع کی راہیں کھلیں گی جس کے نتیجے میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا اور پوری ویلیو چین میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ مارکیٹ کی حرکیات کو مدِنظر رکھتے ہوئے اور بدلتے ہوئے کاروباری ماحول کی رفتار کو برقرار رکھتے ہوئے سٹیٹ بینک متعلقہ سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مرحلہ وار مشاورت سے زرمبادلہ کے ضوابط میں ترمیم کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔

ان تبدیلیوں کا بنیادی مقصد موجودہ ہدایات کو آسان بناتے ہوئے غیر ضروری شرائط کو ختم کرنا اور سٹیک ہولڈرز کی سہولت کے لیے مجاز ڈیلرز کو زیادہ سے زیادہ اختیارات تفویض کرکے کاروبار میں آسانی کو فروغ دینا ہے۔

قبل ازیں سٹیٹ بینک اور پاکستان کسٹمز 2015ء میں باہمی اشتراک کرتے ہوئے وی بوک  (WeBOC)سسٹم میں ای ایف ای ماڈیول کا نفاذ کرکے دستی برآمدی فارم سے الیکٹرانک برآمدی فارم پر منتقل ہو گئے تھے۔

ای ایف ای ایک الیکٹرانک ڈیکلریشن ہے جو برآمد کنندگان پاکستان کسٹمز کو جمع کرواتے ہیں اور یہ ہر برآمدی کنسائمنٹ کی کلیئرنس کے لیے اشیا کی ڈیکلریشن کی فائلنگ سے قبل درکار ہوتا ہے۔

تاہم جب پاکستان سنگل ونڈو (پی ایس ڈبلیو) آپریشنل ہو جائے گا تو ای ایف ای کی شرط کو ختم کر دیا جائے گا، اس طرح برآمد کنندگان کے لیے کاروبار کرنے کی آسانی میں اضافہ ہو گا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here