ملک کی واحد کین بنانے والی کمپنی کا 26 فیصد شئیرز فروخت کرنے کا فیصلہ، 3.3 ارب آمدن متوقع

پاکستان ایلمونیم بیوریج کینز لمیٹڈ پاکستان اور افغانستان میں پیپسی اور کوکا کولا سمیت تمام بڑے کاربونیٹڈ مشروبات بنانے والے اداروں کو کین فراہم کرتی ہے، 93.8 ملین شئیرز کو آئی پی او کے ذریعے 35 روپے فی شئیر کے حساب سے سبسکرپشن کے لیے پیش کیا جائے گا

1621

کراچی: ملک کی المونیم کین بنانے والی واحد کمپنی پاکستان ایلمونیم بیوریج کینز لمیٹڈ (پی اے بی سی) نے سٹاک مارکیٹ میں ابتدائی عوامی پیش کش (آئی پی او) کے ذریعے 3.3 ارب روپے اکٹھا کرنے کا اعلان کیا ہے۔

کمپنی ابتدائی عوامی پیشکش کے ذریعے ادارہ جاتی اور انفرادی سرمایہ کاروں کو 26 فیصد شئیرز فروخت کرے گی جس کے لیے بُک بلڈنگ کا آغاز 22 جون کو کو ختم ہو گا جبکہ 29 جون اور 30 جون کو شئیرز عام پبلک کیلئے پیش کئے جائیں گے۔

کمپنی کی جانب سے 93.8 ملین یا 26 فیصد شئیرز کو آئی پی او کے ذریعے 35 روپے فی شئیر کی قیمت پر سبسکرپشن کے لیے پیش کیا جائے گا جس کے بعد بُک بلڈنگ میں کامیاب بولی دہندگان کو 75 فیصد شئیرز الاٹ کئے جائیں گے جبکہ بقیہ شئیرز کو عام عوام کے لیے اسٹرائیک پرائس پر سبسکرپشن کے لیے پیش کیا جائے گا۔

بُک بلڈنگ کے دوران سرمایہ کاروں کی دلچسپی کی بنیاد پر اسٹرائیک پرائس میں 40 فیصد (فی شئیر 49 روپے) تک کا اضافہ ہو سکتا ہے جس سے کمپنی 4 ارب 60 کروڑ روپے جمع کر سکتی ہے۔

پی اے بی سی نے 2017ء میں ملک میں مشروبات کے لیے ایلمونیم کین بنانے والی واحد مقامی کمپنی کے طور پر آپریشنز کا آغاز کیا تھا۔ اس وقت تک پاکستان اور افغانستان میں مشروبات بنانے والی کمپنیاں اپنے مشروبات کی پیکنگ کے لیے مہنگے درآمدی کین پر انحصار کرتے تھے۔

اب پی اے بی سی پاکستان اور افغانستان میں پیپسی اور کوکا کولا سمیت تمام بڑے کاربونیٹڈ مشروبات بنانے والے اداروں کو اپنے کین فراہم کرتی ہے۔ سال 2020ء میں کمپنی نے اپنی کل پیداوار کا 35 فیصد افغانستان کو برآمد کیا تھا۔

فیصل آباد کے سپیشل اکنامک زون میں 20.9 ایکڑ پر قائم سالانہ 700 ملین کین کی پیداواری صلاحیت کے ساتھ پی اے بی سی کو دس سالوں تک ٹیکس چھوٹ حاصل ہے۔ اگلے سال جولائی تک کمپنی اپنی پیداواری صلاحیت کو 36 فیصد بڑھا کر سالانہ 950 ملین کین تک لے جانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

پچھلے پانچ سالوں میں کمپنی کی آمدنی میں سالانہ 18.7 فیصد کے حساب سے اضافہ ہوا ہے، اپنے آپریشنز کے تیسرے سال (2020ء) کمپنی کا خالص منافع 2019ء کے مقابلے میں 314 فیصد اضافے کے ساتھ 61 کروڑ  7 لاکھ روپے رہا جبکہ 2021ء میں کمپنی کے خالص منافع میں مزید اضافہ کی توقع ہے۔

یورو مونیٹر انٹرنیشنل کے مطابق پاکستان کی سافٹ ڈرنک مارکیٹ کا سائز سالانہ 3.8 ارب لیٹر ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ بڑھتی ہوئی قوتِ خرید، اربنائزیشن اور سازگار آبادیات کے پس منظر میں اگلے پانچ سالوں میں یہ کھپت سالانہ 7 فیصد کے اضافے سے 5.3 ارب لیٹر تک پہنچ جائے گی۔

پی اے بی سی کی سب سے بڑی برآمدی مارکیٹ افغانستان ہے کیونکہ وہاں مشروبات کیلئے شیشے تیار کرنے کی مقامی سہولیت میسر نہیں ہے، افغانستان میں کوکا کولا اور پیپسی کی فرنچائز سمیت مشروبات کے بوٹلرز کے ساتھ معاہدے کی بدولت کمپنی کے پاس افغان مارکیٹ کا 50 فیصد سے زائد حصہ ہے۔

اس کے علاوہ پی اے بی سی نے حال ہی میں مختلف معاہدوں پر دستخط کئے ہیں اور امریکہ میں مشروبات بنانے والے اداروں کو برآمدات کا آغاز کر دیا ہے جبکہ کمپنی بنگلہ دیش اور عراق میں بھی مشروبات بنانے والے معروف اداروں کے ساتھ بات چیت کے عمل میں ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here