سندھ: تنخواہوں میں 20 فیصد، پنشن میں 10 فیصد اضافہ، کم از کم اجرت 25 ہزار مقرر

233

کراچی: سندھ حکومت نے مالی سال 2021-22ء کے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 20 فیصد اضافہ، مزدور کی کم سے کم اجرت 25 ہزار اور ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں 10 فیصد اضافہ کا اعلان کر دیا۔

بجٹ تقریر کے دوران سرکاری ملازمین کی تنخواہ اور مراعات میں اضافہ کا اعلان کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ حکومت کی کارکردگی اس کے ملازمین کی کارکردگی سے تعلق رکھتی ہے، حکومت سندھ ہر ملازم کو عزت کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور ہم ملازمین کی تنخواہوں میں بنیادی تنخواہ کا 20 فیصد اضافہ کرنے کی تجویز رکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے:

سندھ حکومت نے 25 ارب روپے خسارے کے ساتھ 1477 ارب کا بجٹ پیش  کر دیا

8 ہزار 487 ارب روپے کا وفاقی بجٹ پیش، تنخواہوں اور پنشن میں 10 فیصد اضافہ

پنجاب کا 2 ہزار 653 ارب روپے کا بجٹ پیش، کس شعبے کیلئے کتنے فنڈز مختص کیے گئے؟

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ مزدور طبقہ کی فلاح و بہبود کو مد نظر رکھتے ہوئے اور ان کی تنخواہ کو حکومت کے ملازمین سے مسابقت میں رکھتے ہوئے مزدور کی کم سے کم تنخواہ کو 17 ہزار 500 روپے سے بڑھا کر 25 ہزار روپے ماہانہ کرنے کی تجویز ہے۔

مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ کل تنخواہ اور کم سے کم تنخواہ یعنی 25 ہزار روپے کے فرق کو کم کرنے کے لئے سندھ حکومت کے گریڈ ایک سے پانچ تک کے ملازمین کے لئے ایک پرسنل الاﺅنس کی بھی تجویز ہے۔

انہوں نے کہا کہ پرسنل الاﺅنس کی شرح میں گریڈ ایک کو 1900 روپے ماہانہ، گریڈ 2 کو 1500 روپے ماہانہ، گریڈ 3 کو 900 روپے ماہانہ، گریڈ 4 کو 250 روپے ماہانہ، گریڈ 5 کو 250 روپے ماہانہ ملیں گے۔ مزید برآں نئے مالی سال میں حکومت سندھ کے ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں 10 فیصد اضافہ تجویز کیا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اور ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں بھی 10 فیصد اضافہ کیا ہے جبکہ پنجاب حکومت نے گریڈ ایک سے گریڈ 19 تک کے ملازمین کو 25 فیصد الائونس دینے کا اعلان کیا ہے، وفاقی اور پنجاب حکومت میں کم از کم اجرت 17 ہزار 500 سے بڑھا کر 20 ہزار کر دی گئی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here