‘آئی ایم ایف کو بتا دیا عوام پر مہنگی بجلی اور ٹیکسوں کا بوجھ نہیں ڈال سکتے’

آئی ایم ایف نے پرسنل انکم ٹیکس کی مد میں 150 ارب روپے کا اضافی ٹیکس جمع کرنے کا کہا، حکومت پہلے ہی اس مد میں 113ارب روپے ٹیکس اکٹھا کر رہی ہے، امید ہے فنڈ کے ساتھ معاملات طے پا جائیں گے: وزیر خزانہ شوکت ترین

203

اسلام آباد: وزیرخزانہ شوکت ترین کا کہنا ہے انہوں نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو حکومت کا آئندہ مالی سال میں عوام پر نئے ٹیکسز اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ نہ ڈالنے سے متعلق آگاہ کر دیا ہے۔ 

وزیرخزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف کو واضح آگاہ کیا ہے کہ حکومت بجلی کی قیمتوں میں اضافہ اور نئے ٹیکسز عائد کر کے شہریوں پر مزید بوجھ نہیں ڈالے گی۔ شوکت ترین نے مزید کہا کہ “یہ وزیراعظم عمران خان کی طرف سے ریڈ لائن کھیجنچی گئی ہے تاہم آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں”۔

وزیر خزانہ نے اعتراف کیا کہ آئی ایم ایف نے حکومت سے آئندہ بجٹ میں ‘پرسنل انکم ٹیکس’ کی مَد میں اضافی 150 ارب روپے عائد کرنے کا کہا تھا جبکہ حکومت پہلے ہی اس مَد میں 113 ارب روپے ٹیکس جمع کر رہی ہے۔

تاہم آئی ایم ایف کو 5.8 کھرب روپے آمدن اکٹھی کرنے کا متبادل منصوبہ دیا گیا تھا انہوں نے مزید کہا کہ فیڈرل بورڈ برائے ریونیو (ایف بی آر) کا رواں مالی سال میں ٹیکس جمع کرنے کا ہدف 4.7 کھرب روپے سے آسانی سے پورا ہو گا۔

وزیر خزانہ شوکت ترین نے مزید کہا کہ آئندہ مالی سال میں بغیر کسی ہچکچاہٹ سے ٹیکس بیس وسیع کرنے کی ترجیح ہو گی لیکن 3.4 فیصد لوگوں کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کنڈکٹ کیا جائے گا اور جو قصوروار پائے گئے انہیں کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ “ہم آمدن اور اخراجات پر مثبت ٹیکسیشن کے ساتھ ٹیکس چاہتے ہیں جبکہ دیگر تمام ٹیکسز کو بتدریج ختم کیا جائے گا”۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here