ایف بی آر: ٹیکس گوشواروں کی تعداد 11.4 فیصد، محصولات میں 55 فیصد اضافہ

ٹیکس سال 2020ء کے لیے 29 لاکھ 30 ہزار گوشوارے جمع کرائے گئے جبکہ 52 ارب روپے کی ٹیکس ادائیگیاں بھی کی گئیں

227

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے کہا ہے کہ ٹیکس سال 2020ء کے لیے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کروانے کی شرح میں 11.4 فیصد اور محصولات میں 55 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

ایف بی آر کے اعدادوشمار کے مطابق ٹیکس سال 2019ء کے دوران 26 لاکھ 30 ہزار ٹیکس گوشوارے جمع کرائے گئے تھے جبکہ ٹیکس سال 2020ء کے لیے گوشوارے جمع کرانے والوں کی تعداد 11.4 فیصد اضافے سے 29 لاکھ 30 ہزار تک جا پہنچی ہے۔

اس طرح ٹیکس سال 2019ء کے مقابلہ میں ٹیکس سال 2020 کے دوران ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والوں کی تعداد میں تین لاکھ کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

پنجاب ریونیو اتھارٹی نے 125 ارب کا سالانہ ٹیکس ہدف 11 ماہ میں ہی مکمل کر لیا

ایف بی آر: 11 ماہ میں ٹیکس محصولات میں 18 فیصد اضافہ، 4170 ارب روپے جمع

ایف بی آر رپورٹ کے مطابق ٹیکس سال 2020ء میں ٹیکس گوشواروں کے ساتھ 52 ارب روپے کی ٹیکس ادائیگیاں بھی کی گئیں جبکہ ٹیکس سال 2019ء کے دوران 34 ارب روپے کی ٹیکس وصولیاں ہوئی تھیں۔

اس طرح ٹیکس سال 2019ء کے مقابلہ میں ٹیکس سال 2020ء کے دوران گوشواروں کے ساتھ ٹیکس محصولات میں 18 ارب ر وپے یعنی 52 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

ایف بی آر کے مطابق جولائی 2020ء سے لے کر مئی 2021ء تک کی مدت میں 4170 ارب روپے کا ٹیکس اکٹھا کیا جو مقررہ ہدف 3994 ارب روپے سے 176 ارب روپے زیادہ ہے جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصہ کے محصولات 3549 ارب روپے کے مقابلے میں 18 فیصد زائد ہے۔

اعلامیہ کے مطابق مئی 2021ء کے دوران 386 ارب روپے ٹیکس جمع ہوا جو مئی کے مقررہ ہدف 214 ارب روپے سے 168 فیصد اور مئی 2020ء کے جمع کردہ 229 ارب روپے کے مقابلے میں 69 فیصد زیادہ ہے۔

مئی 2021ء کے آخری دن کے اختتام تک اور بک ایڈجسٹمنٹ کی مد میں حاصل ہونے والی وصولیوں کے بعد محصولات میں مزید اضافہ متوقع ہے، رواں مالی سال کے گیارہ ماہ میں ایف بی آر کی مجموعی ٹیکس آمدن گزشتہ مالی سال کے 3674 ارب روپے کے مقابلے میں 19.4 فیصد اضافے سے 4386 ارب روپے رہی۔

ایف بی آر کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال کے دوران اب تک 216 ارب روپے کے ریفنڈز جاری کئے جا چکے ہیں جو پچھلے سال کے اس عرصہ کے 125 ارب روپے سے 42.3 فیصد زیادہ ہیں، ریفنڈز کی تیز تر ادائیگی اس بات کا ثبوت ہے کہ ایف بی آر مختلف صنعتوں کو درپیش لیکویڈیٹی مسائل کو حل کرنے میں کوشاں ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here