ایف بی آر: 11 ماہ میں ٹیکس محصولات میں 18 فیصد اضافہ، 4170 ارب روپے جمع

جولائی 2020ء سے مئی 2021ء تک مقررہ ہدف 3994 ارب روپے سے 176 ارب روپے زائد ٹیکس اکٹھا کیا گیا، انکم ٹیکس گوشواروں میں 11.4 فیصد، کسٹمز ڈیوٹی میں 19 فیصد، سمگل شدہ اشیاء کی ضبطگی میں 29 فیصد اضافہ ہوا

174

اسلام آباد: رواں مالی سال کے 11 ماہ (جولائی تا مئی) کے دورنا فیڈرل بور ڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ٹیکس محصولات میں 18 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

ایف بی آر کے جاری کردہ اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ جولائی 2020ء سے لے کر مئی 2021ء تک کی مدت میں 4170 ارب روپے کا ٹیکس اکٹھا کیا جو مقررہ ہدف 3994 ارب روپے سے 176 ارب روپے زیادہ ہے جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصہ کے محصولات 3549 ارب روپے کے مقابلے میں 18 فیصد زائد ہے۔

اعلامیہ کے مطابق مئی 2021ء کے دوران 386 ارب روپے ٹیکس جمع ہوا جو مئی کے مقررہ ہدف 214 ارب روپے سے 168 فیصد اور مئی 2020ء کے جمع کردہ 229 ارب روپے کے مقابلے میں 69 فیصد زیادہ ہے۔

مئی 2021ء کے آخری دن کے اختتام تک اور بک ایڈجسٹمنٹ کی مد میں حاصل ہونے والی وصولیوں کے بعد محصولات میں مزید اضافہ متوقع ہے، رواں مالی سال کے گیارہ ماہ میں ایف بی آر کی مجموعی ٹیکس آمدن گزشتہ مالی سال کے 3674 ارب روپے کے مقابلے میں 19.4 فیصد اضافے سے 4386 ارب روپے رہی۔

ریفنڈز ادائیگی

ایف بی آر کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال کے دوران اب تک 216 ارب روپے کے ریفنڈز جاری کئے جا چکے ہیں جو پچھلے سال کے اس عرصہ کے 125 ارب روپے سے 42.3 فیصد زیادہ ہیں، ریفنڈز کی تیز تر ادائیگی اس بات کا ثبوت ہے کہ ایف بی آر مختلف صنعتوں کو درپیش لیکویڈیٹی مسائل کو حل کرنے میں کوشاں ہے۔

انکم ٹیکس گوشوارے

ترجمان ایف بی آر کے مطابق 31 مئی 2021ء تک ٹیکس سال 2020ء کے لئے انکم ٹیکس گوشوارے داخل کرنے والوں کی تعداد 29 لاکھ 31 ہزار ہو چکی ہے جو پچھلے سال اس عرصہ تک 26 لاکھ 31 ہزار کے مقابلے میں 11.4 فیصد زیادہ ہے، گوشوارں کے ساتھ ادا شدہ ٹیکس 52 ارب روپے رہا جو پچھلے سال 34 ارب روپے تھا، اس طرح ٹیکس ادائیگی میں 55 فیصد اضافہ ہوا۔

پوائنٹ آف سیل سسٹم

ایف بی آر نے پوائنٹ آف سیل سسٹم کے ساتھ منسلک ہونے والے بڑے ریٹیلرز کی تفصیلات بھی جاری کی ہیں جس کے مطابق 10 ہزار 767 سیل مشینیں پوائنٹ آف سیل سسٹم کے ساتھ منسلک کی جا چکی ہیں۔

کسٹمز ڈیوٹی

ترجمان نے بتایا کہ پاکستان کسٹمز نے رواں مالی سال کے گیارہ ماہ میں مقررہ ہدف 565 ارب روپے کے مقابلے 672 ارب روپے کسٹمز ڈیوٹی حاصل کی، اس طرح ہدف سے 19 فیصد یعنی 107 ارب روپے اضافی کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں جمع ہوئے۔

مئی 2021ء میں 64 ارب روپے کی کسٹمز ڈیوٹی حاصل ہوئی جبکہ مقرر کردہ ہدف 57 ارب روپے تھا، اس طرح 12 فیصد زائد کسٹمز ڈیوٹی حاصل ہوئی۔

سمگل شدہ اشیاء کی ضبطگی

ایف بی آر کے اعلامیہ کے مطابق رواں مالی سال کے گیارہ ماہ میں 52.5 ارب روپے کی سمگل شدہ اشیاء ضبط کی گئیں جو پچھلے سال 40.8 ارب روپے کی تھی، اس طرح ضبطگی میں 29 فیصد اضافہ حاصل ہوا۔

مئی میں 2.6 ارب روپے کی سمگل شدہ اشیاء ضبط کی گئیں جبکہ مئی 2020ء میں 1.5 ارب روپے کی اشیاء ضبط ہوئی تھیں۔ اس طرح ضبط شدہ اشیاء میں 74 فیصد اضافہ حاصل ہوا۔

دیگر آمدن

اِن لینڈ ریونیو اور کسٹمز کی طرف سے لئے گئے موثر انفورسمنٹ اقدامات کے باعث رواں مالی سال 175 ارب روپے کا اضافی ریونیو حاصل ہوا، 175 ارب روپے کے اضافی ریونیو میں اِن لینڈ ریونیو نے تقریباََ 100 ارب روپے حاصل کئے۔ ان انفورسمنٹ اقدامات میں بقایا جات کے علاوہ حاصل ہونے والی ریکوری، موثر آڈٹ، سلز ٹیکس کی بہترین مانیٹرنگ، پی او ایس کے ساتھ منسلک ریٹیلرز، ٹیکس نیٹ کا پھیلا اور ودہولڈنگ ٹیکسز کی موثر مانیٹرنگ شامل ہے۔

اسی طرح پاکستان کسٹمز کی طرف سے بھی موثر انتظامی اقدامات کے باعث رواں مالی سال 75 ارب روپے کا اضافی ریونیو حاصل ہوا، ان اقدامات میں چائے، ٹائرز، ٹیکسٹائل، الیکٹرونکس ، پام آئل اور پٹرولیم مصنوعات کے خلاف اینٹی سمگلنگ آپریشنز شامل ہیں۔

کسٹمز کی طرف سے لئے گئے انتظامی اقدامات میں اشیاء کی نیلامی، انڈر انوائیسنگ کے خلاف کارروائی، کورٹ کیسز کا تصفیہ، بقایا جات کی ادائیگی، ڈربز سسٹم اور آڈٹ شامل ہیں۔

رواں مالی سال جولائی تا مئی 2021ء کے دوران جن ٹاپ سیکٹرز سے ریونیو حاصل ہوا ان میں آٹو سیکٹر سے 108 ارب روپے حاصل ہوئے جو پچھلے سال 72 ارب روپے سے 51 فیصد اضافی ہیں، بینکوں سے 117 ارب روپے کا ٹیکس جمع ہوا جو پچھلے سال کے 87 ارب روپے کے مقابلے میں 34 فیصد زائد ہے۔ سیمنٹ سیکٹر سے 127 ارب روپے حاصل ہوئے جو پچھلے سال کے 97 ارب روپے کے مقابلے میں 31 فیصد زائد ہیں۔

اسی طرح پی او ایل سے 577 ارب روپے آمدن ہوئی جو پچھلے سال کے 516 ارب روپے کے مقابلے میں 12 فیصد زائد ہے، تمباکو سیکٹر سے رواں سال 129 ارب روپے حاصل ہوئے جو پچھلے سال کے 104 ارب روپے کے مقابلے میں 24 فیصد اضافی ہیں، چینی سیکٹر سے 53 ارب روپے ریونیو حاصل ہوا جو پچھلے سال کے 31 ارب روپے سے 74 فیصد زیادہ ہے۔

رواں مالی سال کسٹمز ڈیوٹی کولیکشن کے ٹاپ آئٹمز میں سے گاڑیوں سے 98 ارب روپے حاصل ہوئے جو پچھلے سال کے 52 ارب روپے سے 86 فیصد اضافی ہے، آئرن اور سٹیل سے رواں مالی سال اب تک 53 ارب روپے کسٹمز ڈیوٹی حاصل ہوئی جو پچھلے سال کی 42 ارب روپے سے 24 فیصد زیادہ ہے، مشینری اور مکینیکل اپلائنسز سے رواں سال 38 ارب روپے کسٹمز ڈیوٹی حاصل ہوئی جو پچھلے سال کے 30 ارب روپے سے 26 فیصد زیادہ ہے۔

ڈائیریکٹوریٹ جنرل انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن اِن لینڈ نے رواں مالی سال جولائی تا مئی 2021ء کے دوران 1491 تفتیشی رپورٹس اور ریڈ الرٹس ایف بی آر کے ذیلی دفاتر کو بھیجیں جو 228 ارب روپے کے ریونیو سے متعلق ہیں۔

اکتوبر 2018ء سے مئی 2021ء تک ڈایریکٹوریٹ جنرل نے اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010ء کے تحت 146 شکایات درج کیں جو 52 ارب روپے کے ریونیو سے متعلق ہیں۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل نے سگریٹ کے 7527 کارٹنز ضبط کئے ہیں جن میں سات کروڑ 52 لاکھ سے زائد سگریٹ تھے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here