بجٹ 2021-22ء: سود ادائیگی کیلئے 3.1 کھرب، دفاع کیلئے 1.35 کھرب روپے مختص کرنے کا امکان

سرکاری امور کی انجام دہی پر اٹھنے والے اخراجات کیلئے 500 ارب، سبسڈی کیلئے 660 ارب، مختلف گرانٹس کی مد میں 1.1 کھرب روپے مختص کیے جانے کا امکان ہے، ذرائع

377

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2021-22ء کے بجٹ میں قرضوں پر سود سے متعلقہ ادائیگیوں کے لیے 3.1 کھرب روپے مختص کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق جاری مالی سال 2020-21ء کے بجٹ میں اندرونی اور بیرونی قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے 2.85 کھرب روپے مختص کیے گئے تھے۔

ذرائع نے بتایا کہ رواں مالی سال دفاعی اخراجات کے لیے 1.27 کھرب روپے کا بجٹ مختص کیا گیا تھا جبکہ آئندہ مالی سال 2021-22ء کے بجٹ میں حکومت دفاعی اخراجات کے لیے 1.35 کھرب روپے مختص کرنے پر غور کر رہی ہے۔

اس کے علاوہ ذرائع کا کہنا ہے کہ سرکاری امور کی انجام دہی پر اٹھنے والے اخراجات کے لیے حکومت 500 ارب روپے مختص کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، گزشتہ بجٹ میں اس مد میں 485 ارب روپے رکھے گئے تھے۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ ایف بی آر نے حکومت کو آئندہ مالی سال کے لیے ٹیکس ریونیو کا ہدف 5.82 کھرب روپے اور نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 2.09 کھرب روپے رکھنے کی تجویز دی ہے۔

حکومت کی جانب سے مختلف شعبوں میں سبسڈی کے لیے آئندہ بجٹ میں 660 ارب روپے رکھے جانے کا امکان ہےجو کہ رواں مالی سال کے بجٹ میں سبسڈی کےلیے مختص بجٹ سے 200 ارب روپے زیادہ ہے۔ مختلف گرانٹس کی مد میں 1.1 کھرب روپے رکھے جانے کا امکان ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here