رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کرنے والے بینکوں، مالیاتی اداروں کیلئے قوانین میں تبدیلی 

رئیل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹس (آرای آئی ٹیز) کے یونٹس میں بینکوں و ترقیاتی مالیاتی اداروں کی سرمایہ کاری پر خطرے کا بوجھ کم کرتے ہوئے 200 فیصد سے 100 فیصد کر دیا گیا، سٹیٹ بینک کا اعلامیہ

241

کراچی: سٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے رئیل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹس (آرای آئی ٹیز) کے یونٹس میں بینکوں و ترقیاتی مالیاتی اداروں (ڈی ایف آئیز) کی سرمایہ کاری پر خطرے کا بوجھ کم کرتے ہوئے 200 فیصد سے 100 فیصد کر دیا۔

مرکزی بینک سے بدھ کو جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق سٹیٹ بینک نے ہائوسنگ اور تعمیراتی شعبے کی ترقی کے لیے آر ای آئی ٹی میں بینکوں اور ڈی ایف آئیز کی سرمایہ کاری بڑھانے کی خاطر کفایتِ سرمایہ ضوابط (capital adequacy regulations) میں ترمیم کر دی۔

کفایتِ سرمایہ کے قواعدوضوابط میں ترمیم کے تحت رئیل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹس (آرای آئی ٹیز) کے یونٹس میں بینکوں اور ڈی ایف آئیز کی سرمایہ کاری پر خطرے کا بوجھ نمایاں طور پر کم کرتے ہوئے 200 فیصد سے 100 فیصد کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

بینکاری کے بڑے نام کے ساتھ بینک الفلاح کی کھیل میں واپسی!

سٹیٹ بینک: سٹارٹ اپس، فن ٹیک اور برآمدات کے فروغ کیلئے فارن ایکسچینج ریگولیشنز میں ترمیم

آر ای آئی ٹیز ایسی کمپنیاں ہیں جو عام لوگوں اور اداروں سے اکٹھی کی گئی رقوم کو رئیل اسٹیٹ میں بطور سرمایہ کاری لگاتی ہیں۔ قواعد میں مذکورہ بالا ترمیم سے بینک اور ڈی ایف آئیز اب اس قابل ہو جائیں گے کہ آر ای آئی ٹیز میں اپنی سرمایہ کاری بڑھا سکیں اور انہیں نسبتاََ بڑی رقم کا سرمایہ مختص کرنے کی ضرورت نہیں ہو گی۔

اس طرح بینکوں کو ملک میں رئیل اسٹیٹ کے شعبے کے فروغ میں مدد ملے گی، ضوابطی اقدامات کی مدد سے مالیاتی اداروں کی اضافی شراکت کے نتیجے میں آر ای آئی ٹیز کی مینجمنٹ کمپنیوں کو ترغیب ملے گی کہ وہ نئی آر ای آئی ٹیز شروع کریں جس سے ملک میں ہائوسنگ اور تعمیراتی شعبوں کی ترقی کے حکومت کے ایجنڈے کو مزید فروغ ملے گا۔

یہاں یہ تذکرہ بے محل نہ ہو گا کہ حکومت پاکستان کے مختلف اقدامات کے مطابق سٹیٹ بینک ہائوسنگ اور تعمیرات کے شعبے کی ترقی کے لیے فنانسنگ اور سرمایہ کاری کے ذریعے بینکوں اور ترقیاتی مالیاتی اداروں کی شرکت بڑھانے کے لیے متعدد ضوابطی اقدامات کرتا رہا ہے۔

قبل ازیں سٹیٹ بینک نے آر ای آئی ٹیز میں بینکوں اور ڈی ایف آئیز کی شرکت اور سرمایہ کاری میں اضافے کی حوصلہ افزائی کے لیے کارپوریٹ اور کمرشل بینکاری کی موجودہ پروڈنشل ریگولیشنز میں کچھ ترامیم کیں جس سے بینکوں اور ڈی ایف آئیز کو اپنی ایکویٹی کے 15 فیصد کے قریب آر ای آئی ٹیز میں سرمایہ کاری کرنے کا موقع ملا جبکہ پہلے یہ حد 10 فیصد تھی۔

مزید برآں سٹیٹ بینک نے بینکوں کو یہ اجازت دی ہے کہ وہ آر ای آئی ٹی مینجمنٹ کمپنیوں کے جاری کردہ حصص یونٹس بانڈز ٹی ایف سی سکوک میں سرمایہ کاری کو اپنے ہائوسنگ اور تعمیرات کی فنانس کے لازمی اہداف کے لیے کی جانے والی سرمایہ کاری میں شمار کر سکتے ہیں۔ سٹیٹ بینک کے کفایت سرمایہ ضوابط سے بینک رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے لیے ایک ہموار انداز میں چلتی ہوئی سرمایہ منڈی تشکیل دینے میں کردار ادا کر سکیں گے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here