تین سال پہلے لگتا تھا کہ بینک الفلاح ختم ہونے کے قریب ہے، یہ وہ وقت تھا جب اس بینک کا سرپرست ابوظہبی گروپ اسے فروخت کرنے کیلئے ممکنہ خریداروں کے ساتھ بات چیت میں مصروف تھا اور ایسا کیوں نہ ہوتا؟ درمیانے حجم کا یہ بینک ملک کے بگ فائیو گروپ میں جگہ بنانے کی صلاحیت رکھتا تھا مگر اب اس کی رینکنگ اور مارکیٹ شئیر دونوں کم ہو چکے تھے جس بناء پر اسے فروخت کرنے کا سوچا جانے لگا۔

اس بینک کے فروخت کی افواہوں کے باوجود آج 2021ء میں یہ بینک نہ صرف اپنی پوری طاقت کے ساتھ موجود ہے بلکہ اس کے پیرنٹ گروپ نے حال ہی میں عاطف باجوہ، جو پانچ سال تک بینک کے صدر رہنے کے بعد جون 2017ء میں  ذاتی وجوہات کی بنا پر مستعفی ہو گئے تھے، کو واپس لانے کا فیصلہ کیا اور فروری 2020ء میں ان کی واپسی ہو بھی گئی۔

ایک طرف دیکھا جائے تو یہ فیصلہ بہت پیچیدہ دکھائی دیتا ہے، آخر بینک الفلاح نے اپنی کشتی کو سنبھالا دینے کے لیے اپنے سابق صدر کو واپس لانے کا اقدام کیوں اُٹھایا؟ مگر دوسری طرف یہ فیصلہ منطقی بھی لگتا ہے۔ بینک الفلاح سے تین سالوں کی دوری نے باجوہ کو خود کو ثابت کرنے کا وقت دیا، جب پرافٹ کو حال ہی میں  دیے گئے ایک انٹرویو میں پوچھا گیا کہ کیا ان کی غیر موجودگی میں کچھ تبدیل ہوا؟ تو اس سوال کے جواب میں اگرچہ باجوہ نے محتاط اور شائستہ انداز اپناتے ہوئے اپنے پیش رو کے بارے میں کوئی تضحیک آمیز بات نہیں کی تاہم اس کا یہ بھی مطلب نہیں کہ انہوں نے اس راستے بارے کچھ نہیں کہا جس پر بینک ان کے بعد گامزن رہا۔

ان کا کہنا تھا ”جو چیز مجھے اچھی نہیں لگی وہ یہ تھی کہ ہم مارکیٹ میں اپنا شئیر کھو چکے تھے، میرے خیال میں ہمارے لوگوں میں سب سے آگے رہنے  کی خواہش موجود ہے۔ ہم کسی کو اپنے سے آگے نکلتا ہوا نہیں دیکھنا چاہتے۔ لہٰذا اس مسابقتی جذبے نے مجھے محسوس کرایا کہ شائد ہمیں کچھ مات ہو گئی ہے۔ میں نے سوچا کہ ہم کیا بہتر کر سکتے تھے اور کن چیزوں پر دھیان دینے کی ضرورت ہے؟ انہی چیزوں کو مد نظر رکھ کر حکمت عملی بنائی جاتی ہے۔”

اگر کوئی سمجھنا چاہے تو ابوظہبی گروپ کی جانب سے پیغام واضح ہے کہ بینک الفلاح واپس آ چکا ہے اور یہ وہ سب جو کھو چکا ہے اور اس سے زائد حاصل کرنے کے لیے واپس لوٹا ہے لیکن کیا عاطف باجوہ کی واپسی بینک الفلاح کو کھویا ہوا مقام واپس دلا سکے گی؟

بینک الفلاح کی تاریخ

پاکستان میں  نوے کی دہائی اور اس سے پہلے کے عرصے کے زیادہ تر بینکنگ کیرئیرز اور ان کی کہانیوں کا آغاز بینک آف کریڈٹ اینڈ کامرس انٹرنیشنل (بی سی سی آئی) سے ہوتا ہے۔  بینک الفلاح کی کہانی بھی بی سی سی آئی سے ہی جڑی ہے۔ بی سی سی آئی ماضی قریب میں بینکنگ سیکٹر کے عالمی منظر نامے میں سب سے بدنام بینک تھا اور اس کا آغاز پاکستان سے ہوا تھا۔ اس کے بانی آغا حسن عابدی تھے جنہوں نے اپنے بینکنگ کیرئیر کا آغاز 1946ء میں حبیب بینک سے کیا تھا اور 1959ء میں یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ قائم کیا، پھر 1972ء میں یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ کے قومیائے جانے کے بعد انہوں نے  بینک آف کریڈٹ اینڈ کامرس انٹرنیشنل قائم کیا۔

عاطف باجوہ (صدر، سی ای او بینک الفلاح)

بی سی سی آئی نے کام کا آغاز کراچی کی میکلوڈ روڈ میں واقع عمارت (جہاں اب بینک الفلاح کا صدر دفتر ہے) سے کیا مگر یہ جلد ہی دنیا کا ساتواں بڑا نجی بینک بن گیا، اس بینک کے عروج کے ساتھ ہی عالمی بینکنگ انڈسٹری پاکستانی بینکاروں کی ایک پوری نسل سے واقف ہوئی۔  وہ مبینہ فراڈ جس کی وجہ سے برطانوی ریگولیٹرز کو 1991ء میں بی سی سی آئی کو بند کرنا پڑا وہ بینکنگ کی تاریخ کا ایک دستاویزی حصہ ہے لیکن اس بینک کے کاروبار کا ایک بہت بڑا حصہ جائز اور قانونی تھا مگر دنیا بھر میں بینک کی بندش کے نتیجے میں اس کے اثاثہ جات بے یارومددگار ہو گئے۔

یہ بھی پڑھیے: پانچ بڑے بینکوں کی بالادستی ختم ہونے کو ہے، مگر کیسے؟

پاکستان میں اس کے اثاثہ جات تین برانچوں کی صورت میں تھے جو کراچی اور لاہور میں واقع تھیں۔ 1992ء میں سٹیٹ بینک آف پاکستان نے ان برانچز کو قبضے میں لے کر انہیں حبیب کریڈٹ اینڈ ایکسچینج کا نام دے دیا۔ بی سی سی آئی کے پاکستان میں موجود اثاثوں پر قبضہ کرنے کا اقدام پاکستانی بینکاری کے شعبے کی ڈی ریگولیشن اور نجکاری کے ساتھ ہوا۔ 1997ء میں حبیب کریڈٹ اینڈ ایکسچینج کو بینکنگ کی دنیا کے ایک نئے ادارے، جسے مشرق وسطیٰ کے سرمایہ کاروں کی پشت پناہی حاصل تھی، نے خرید لیا یہ بینک الفلاح تھا۔

بینک الفلاح کے اکثریتی شیئرہولڈر، تقریباً 22 فیصد شئیرز کے مالک، شیخ نہیان بن مبارک النہیان ہیں۔ ان کے بھائی شیخ حمدان 2002ء سے بینک الفلاح کے بورڈ کے چئیرمین ہیں اور دونوں بھائی متحدہ عرب امارات کی وفاقی کابینہ کا حصہ ہیں۔

تاریخی مالیات

بینک الفلاح  کا شمار آج پاکستان کے بڑے بینکوں میں ہوتا ہے، 2005 میں، جب بینک الفلاح سات سال کا تھا، یہ اثاثہ جات کی مد میں الائیڈ بینک سے آگے نکل چکا تھا۔ گزشتہ دہائی کے تفصیلی تجزیے کے نتیجے میں کچھ مزید دلچسپ رجحانات سامنے آتے ہیں۔ پہلا تو یہ کہ 2009ء تک بینک کے ڈیپازٹس متواتر بڑھ رہے تھے اور اُس وقت یہ 324 ارب روپے کی سطح پر تھے۔ ان ڈیپازٹس میں 2012ء میں 13.9 فیصد اور 2014ء میں 15 فیصد اضافہ ہوا۔ 2013ء میں ڈیپازٹس 500 ارب روپے، 2018ء میں 700 ارب روپے اور 2020ء میں 800 ارب روپے کی سطح تک جا پہنچے۔ درمیان میں 2016ء اور 2017ء میں ڈیپازٹس میں اضافے کی رفتار قدرے کم رہی، مگر 2019ء اور 2020ء میں ان میں ایک بار پھر اضافے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

اگر پاکستانی بینکنگ انڈسٹری کے مجموعی ڈیپازٹس میں بینک الفلاح کے شئیر کی بات کی جائے تو بینک کا دراصل کم رہا، 2009ء میں بینک کا انڈسٹری ڈیپازٹس میں حصہ 7.5 فیصد تھا اور یہ اس کی تاریخ میں سب سے زیادہ تھا۔ 2015ء میں یہ شئیر 6 فیصد اور 7 فیصد کے درمیان رہا جبکہ اگلے پانچ سالوں کے دوران یہ مزید کم ہو کر 5 فیصد رہ گیا۔

بینک کے نان پرفارمنگ قرضے زیادہ تر کنٹرول میں ہی رہے۔ 2010ء سے  2019ء کے درمیانی عرصے میں ہر سال نان پرفارمنگ قرضوں کا جاری کیے جانے والے قرضوں کے مقابلے میں تناسب انڈسٹری کی اوسط سے کم رہا۔ 2010ء میں نان پرفارمنگ قرضوں کا مجموعی قرضوں میں حصہ  8.3 فیصد تھا، 2016ء میں یہ حصہ کم ہو کر 4.8 فیصد پر آ گیا اور اس کے بعد 2020ء تک یہ اتنا ہی رہا۔ گزشتہ برس اس حصے کو جاری کیے جانے والے قرضوں کی 4.3 فیصد کے برابر لے آیا گیا۔

2012ء سے 2015ء کے درمیانی عرصے میں بینک الفلاح کا ریونیو 17 ارب روپے سے بڑھ کر 37 ارب روپے اور 2019 میں 50 ارب روپے ہو گیا، بینک کی خالص آمدنی کے حوالے سے بھی یہی رجحان دیکھا گیا جو کہ 2015ء سے 2017ء کے درمیانی عرصے میں سات سے آٹھ ارب روپے تھی اور 2018ء میں یہ 10 ارب روپے تک بڑھ گئی۔

سی ای او کی تبدیلی

اب ابوظہبی گروپ نے بینک الفلاح کی باگ ڈور ایک بار پھر عاطف باجوہ کے ہاتھ دے دی ہے، عاطف باجوہ اس سے قبل مسلم  کمرشل بینک کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر، سونیری بینک کے صدر اور چیف ایگزیکٹیو آفیسر اور اے بی این ایمرو بینک کے کنٹری مینیجر کے طور پر کام کر چکے ہیں۔ مزید برآں وہ اوور سیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر اور پاکستان بزنس کونسل کے چئیرمین کے طور پر بھی اپنی خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔ پاکستانی بینکنگ انڈسٹری کے تناظر میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ عاطف باجوہ سٹی بینک کے سابق ملازم ہیں، انہوں نے سٹی بینک میں 1982ء میں شمولیت اختیار کی تھی، اس بینک نہ صرف  پاکستانی بینکنگ انڈسٹری کو نامور بینکار دیے ہیں بلکہ یہ مجموعی مالیاتی لیڈرشپ کی نرسری کی حیثیت رکھتا ہے۔ پاکستانی بینکوں کے کئی چیف ایگزیکٹیو آفیسرز اسی بینک سے نکلے ہیں، اس کے علاوہ ملک کے کئی وزائے خزانہ اور شوکت عزیز کی شکل میں ایک وزیراعظم بھی سٹی بینک میں کام کر چکے ہیں۔ یہاں یہ بتانا مناسب رہے گا کہ عاطف باجوہ اس وقت بلاشبہ پاکستانی بینکنگ انڈسٹری میں سب سے زیادہ ہائی پروفائل صدر ہیں۔

مگر اس کے باوجود بینک الفلاح میں ان کا دور کسی حد تک پیچیدہ اور متنازعہ رہا۔ اس کے لیے کچھ تاریخی حوالہ دینا ضروری ہے۔ جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے کہ بینک الفلاح ابو ظہبی گروپ کی ملکیت ہے۔ پاکستان میں یہ گروپ صرف بینک الفلاح کا ہی مالک نہیں بلکہ وطین ٹیلی کام بھی اس کی ملکیت ہے اور حال میں ٹیلی کام کمپنی جاز میں اپنے شئیرز فروخت کیے ہیں، اس کے علاوہ یہ گروپ پاکستان میں کروڑوں ڈالر مالیت کے رئیل اسٹیٹ پراجیکٹس کا بھی مالک ہے تاہم ان میں سے کئی منصوبے ایک عرصے سے التواء کا شکار ہیں۔

عاطف باجوہ نے اپنی ملازمت کے کنٹریکٹ میں پانچ سال کی توسیع کے باوجود حیران کن طور پر ذاتی وجوہات کی بناء پر 2017ء میں بینک الفلاح سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ ان کے جانے کے بعد فیصل بینک کے سابق سی ای او نعمان انصاری کو ان کا جانشین مقرر کیا گیا تھا۔ اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ  عاطف باجوہ کے دور میں بینک الفلاح نے تیزی سے ترقی کی مگر انڈسٹری ذرائع نے پرافٹ کو بتایا کہ کہ عاطف باجوہ کی اُس وقت ابو ظہبی گروپ کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر عدیل باجوہ کے ساتھ نہیں جم پائی۔

یہ بھی پڑھیے: پے پاک کو ڈیفالٹ ڈیبٹ کارڈ بنانے کی سٹیٹ بینک کی خواہش، لیکن بینکوں کو یہ کیوں قبول نہیں؟

عدیل باجوہ کو 2016ء میں ابوظہبی گروپ کا چیف ایگزیکٹیو آفیسر بنایا گیا جبکہ وہ اس گروپ کے ساتھ ایک دہائی سے زائد عرصے سے منسلک چلے آ رہے تھے، انہوں نے جنوبی ایشیا اور افریقہ میں گروپ کو متعدد کامیابیاں دلائیں، کہا جاتا ہے کہ عدیل باجوہ نے عاطف باجوہ سے کہا تھا کہ بینک الفلاح بہت زیادہ پیسہ خرچ کر رہا ہے، طویل عرصے سے گروپ کا حصہ ہونے کی وجہ سے شیخ النہیان نے بھی عدیل باجوہ کی طرفداری کی۔

تو اس سے کیا فرق پڑتا تھا کہ بینک الفلاح زیادہ پیسہ خرچ کر رہا تھا یا نہیں؟ دراصل اس کی وجہ گروپ کے ٹیلی کام بزنس کی مشکلات تھیں۔ ایک عرصے سے یہ افواہ زیر گردش ہے کہ ابو ظہبی گروپ پاکستان میں اپنے تمام کاروبار بند کرنا چاہتا ہے، یہاں تک کہ بینک الفلاح کو بھی فروخت کرنا چاہتا ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ 2017ء میں عاطف باجوہ کے بینک سے مستعفی ہونے کے پیچھے بھی بینک الفلاح کو فروخت کرنے کا ارادہ تھا۔ بینک کے اندرونی ذرائع کا کہنا تھا کہ ان (عاطف باجوہ) پر آپریٹنگ اخراجات کم کرنے کیلئے بے حد دباؤ تھا لیکن وہ اخراجات کم نہیں کر سکے، ایسا کرنے میں ناکامی کی ایک وجہ بینک کی اپنے ملازمین کو دی جانے والی انتہائی زبردست مراعات بھی تھیں۔

یہ کوئی اتفاق نہیں تھا کہ عاطف باجوہ کی جگہ نعمان انصاری کو بینک الفلاح میں لایا گیا، نعمان انصاری وہ شخص تھے جو بطور چیف ایگزیکٹیو آفیسر فیصل بینک کی انکم سٹیٹمنٹس میں ڈیڑھ ارب روپے کے اضافی آپریٹنگ اخراجات ختم کر چکے تھے۔ وہ 2014ء سے 2017ء تک فیصل بینک کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر کے عہدے پر کام کرتے رہے۔

انصاری کو لا کر بینک الفلاح کے سپانسرز نے واضح پیغام دیا کہ بینک کو فروخت کے لیے تیار کرنے کے لیے اس کے آپریشنز کو زیادہ بہتر اور منافع بخش بنایا جا رہا ہے۔ زیادہ منافع کا ممکنہ نتیجہ بینک میں ابو ظہبی گروپ کے شئیرز کی زیادہ قیمت کی صورت نکلنا تھا۔

مگر یہ منصوبہ کارگر ثابت نہ ہو سکا۔ انڈسٹری ذرائع کہتے ہیں کہ بینک الفلاح کی فروخت کے لیے ابوظہبی گروپ چار ممکنہ خریداروں کے ساتھ بات چیت میں مصروف تھا جن میں فیصل بینک، حبیب اللہ خان کا بزنس گروپ، عارف حبیب اور سمیر چشتی کی سربراہی میں کام کرنے والا ایک کنسورشیم شامل تھا۔ چاروں ممکنہ خریداروں میں سے کسی کے ساتھ بھی سودا طے نہیں پا سکا کیونکہ ان میں سے کوئی بھی ابوظہبی گروپ کی جانب سے مانگی جانے والی قیمت ادا کرنے کو تیار نہیں تھا۔ فیصل بینک کے معاملے میں خیال دونوں بینکوں کے انضمام کا تھا جبکہ انڈسٹری ذرائع کے مطابق ہانگ کانگ میں سمیر چشتی کی سربراہی میں کام کرنے والا کنسورشیم بھی دونوں بینکوں (فیصل بینک اور بینک الفلاح) کو خریدنے اور ان کے انضمام کی کوشش میں مصروف تھا۔

(ایڈیٹڑ کا نوٹ: اس مضمون کے پہلے ورژن میں یہ دعویٰ کر دیا گیا تھا کہ سید بابر علی کا آئی جی آئی گروپ سمیر چشتی کے کنسورشیم کا حصہ تھا لیکن سمیر چشتی نے اس کی تردید کی ہے، ہم اس غلطی پر معذرت خواہ ہیں۔)

جب یہ سلسلہ جاری تھا تو عدیل باجوہ نے مارچ 2019ء میں ابوظہبی گروپ سے استعفیٰ دے دیا۔ ایک باجوہ کے جانے کے بعد شائد یہ وقت دوسرے باجوہ کی طرف لوٹنے کا تھا تاکہ وہ ایک بار پھر بینک الفلاح کو سنبھالنے کی ذمہ داری لیں۔

پرافٹ سے گفتگو میں عاطف باجوہ نے کہیں بھی اس تاریخ کا ذکر نہیں کیا اور ان کی گفتگو گروپ کی حمایت میں ہی تھی۔ انہوں نے کہا ”میرے خیال میں ہمارے پاس اب زیادہ موثر بورڈ ہے، زیادہ تر لوگ وہی ہیں اور وہ ہمیشہ سے ہی بہت مددگار ہیں، وہ انتظامیہ کی جانب سے آئیڈیاز کا انتظار کرتے ہیں اور پھر اس کی حمایت یا ان سے اختلاف کرتے ہیں، ایک پروفیشنل بورڈ کو ایسے ہی کام کرنا چاہیے۔ آپ جانتے ہیں کہ ہر شخص چئیرمین کی ہدایات اور حمایت  پر انحصار کرتا ہے، وہ بہت اچھے ہیں اور بینک کی ترقی کے لیے واضح سوچ بھی رکھتے ہیں۔”

سال 2020ء

جس برس بینک الفلاح میں عاطف باجوہ کی واپسی ہوئی اس سال بینک کی مالیاتی صورت حال کیا تھی؟ ایک گہری کھوج یہ ظاہر کرتی ہے کہ اگرچہ 2019ء کی نسبت بینک الفلاح کے ریونیو میں اضافہ ہوا تھا مگر اس کی خالص آمدن پچھلے سال کے مقابلے میں کم رہی۔ درحقیقت سات سالوں میں ایسا پہلی مرتبہ ہوا تھا کہ بینک کی بعد از ٹیکس آمدن گزشتہ برس کی نسبت کم رہی ہو۔

آئیے اس بات کا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں: سال 2020ء میں بینک الفلاح کی خالص انٹرسٹ انکم 44.7 ارب روپے رہی جو 2019ء کی 44.9 ارب روپے کے مقابلے میں کم تھی۔ مگر بینک کی نان انٹرسٹ انکم 2020ء میں 12.8 ارب روپے رہی جو کہ 2019ء میں 10.4 ارب روپے تھی۔ اس کیٹگری میں فیسوں اور کمیشن کی مد میں بھی بینک کی آمدن 2019ء کے چھ ارب روپے سے زائد یعنی 6.6 ارب روپے رہی۔ شئیرز پر منافع کی آمدن بھی 2019 کی 33 کروڑ 80 لاکھ روپے سے بڑھ کر 40 کروڑ 30 لاکھ روپے ہو گئی۔ مزید برآں بینک کی سیکیورٹیز میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور یہ 2019ء کی چھ کروڑ 48 لاکھ روپے سے بڑھ کر 2020ء میں دو ارب 30 کروڑ روپے تک پہنچ گئیں۔

یوں بینک کی مجموعی آمدن 2019ء کی 55.2 ارب روپے سے بڑھ کر 2020ء میں 57.5 ارب روپے ہو گئی۔ تو غلط کیا ہوا؟ دراصل بینک کے اخراجات 29.8 ارب روپے سے بڑھ کر 32 ارب روپے ہو گئے۔ اس کے بعد کی پروویژنز تین ارب روپے سے بڑھ کر 7.6 ارب روپے ہو گئیں۔ یہ سب کچھ بینک کی آمدن 2019ء کی نسبت کم کرنے کے لیے کافی تھا۔

بینک الفلاح کی سالانہ رپورٹ برائے سال 2020ء کے مطابق دراصل بینک کے نان مارک اَپ اخراجات کا تعلق عملے کی بھاری مراعات، آئی ٹی سروسز، مینٹی نینس فیس اور 2019ء میں کھولی گئی نئی برانچز سے ہے، جس کا احساس 2020ء میں ہوا۔  اس کا مطلب یہ ہوا کہ آمدنی کے مقابلے میں بینک کی لاگت کی شرح 54.7 فیصد تک چلی گئی تھی جو 2019ء کی نسبت کافی زیادہ تھی۔

مگر اصل لاگت تو وہ تھی جس کے بارے میں رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ”سال 2020ء کے دوران کریڈٹ کو کمزور کرنے والے کلائنٹس کے خلاف ضمنی پروویژنز کے علاوہ بینک نے 4.25 ارب روپے کی جنرل پروویژن بھی لی۔ غیر یقینی پر مبنی معاشی حالات کی بناء بینک کو لگا کہ کچھ قرض خواہ کورونا وبا سے متاثر ہوں گے۔ ایسے بہت سے قرض لینے والوں نے سٹیٹ بینک کی اعلان کردہ  قرض مؤخر اور ری شیڈول کرانے کی سہولت سے فائدہ اٹھا لیا۔ لہٰذا یہ جنرل پروویژن اگلے سال کے لیے بفر کی سہولت کیلئے حاصل کی گئی ہے۔”

یہ بھی پڑھیے: غیر ملکی سرمایہ کار ایم سی بی بینک میں سرمایہ کاری کرنا کیوں پسند کرتے ہیں؟

اس رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ سٹیٹ بینک کی سکیم کے تحت بینک الفلاح نے 52 ارب روپے کے قرضے ری شیڈول کیے جبکہ مرکزی بینک کی ری فنانس سکیم کے تحت 300 اداروں کو 29 ارب روپے کے نئے قرضے جاری بھی کیے۔ یہ چیز تجزیہ کاروں کے لیے اچھا اشارہ ہے جو یہ کہتے ہیں کہ بڑی پروویژنز کی بکنگ دراصل بینکوں کے لیے اچھا اشارہ ہوتا ہے جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ کھاتوں کی صفائی کر رہے ہیں۔ پرافٹ سے بات چیت میں عاطف باجوہ نے پروویژنز کے حوالے سے اپنے مؤقف کو دہراتے ہوئے اور کہا کہ پروویژننگ نمبر دراصل کووڈ-19 کی وبا کے معاشی جھٹکوں سے بچاؤ کے لیے متعارف کروایا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ”ہمارے نان پرفارمنگ قرضے کی کوریج کی شرح کو دیکھیں۔ ہم 79 فیصد تک آ گئے تھے جو ہمارے اندازے میں تھوڑا کم تھا اور انڈسٹری کے مقابلے میں یہ واقعی کم تھا لہٰذا ہم اسے 90 فیصد تک لانا چاہتے تھے اور اس اضافی پروویژننگ کی بدولت ہم 91 فیصد تک پہنچ گئے۔ اب ہم اطمینان محسوس کر رہے ہیں کہ ہماری پروویژننگ پوزیشن اور کوریج درست سطح پر ہے۔ مزید کوئی دھچکا نہیں دیکھ رہے اور جو پروویژننگ ہم نے لی ہے وہ بھی ہماری مدد کرے گی۔”

بینک کے ساتھ کیا مسئلہ ہوا؟

جہاں تک عاطف باجوہ کی بات ہے تو ان کے نزدیک بینک دو پہلوؤں کے حوالے سے راستے سے بھٹک گیا تھا، پہلا پہلو تو بلاشبہ مالی تھا جبکہ دوسرا پہلو بینک کا اندرونی کلچر تھا۔

اس حوالے سے بات کرتے ہوئے عاطف باجوہ کا کہنا تھا کہ “بینک کے لیے بلاشبہ 2020ء مالی طور پر ایک مشکل سال تھا، خاص کر جب آپ دوسرے بینکوں سے موازنہ کرتے ہیں تو سوال یہ ہے کہ ہمارے لیے مختلف کیا تھا؟ جب ہم اپنا مارکیٹ شئیر بڑھا رہے تھے تو اس وقت ہم ملک میں مارکیٹ شئیر کے حوالے سے پانچویں بڑے بینک کی پوزیشن کے لیے مقابلہ کر رہے تھے اور آپ جانتے ہیں کہ ہم اس ہدف کے بہت قریب پہنچ چکے تھے مگر آج ہم آٹھویں نمبر پر ہیں۔”

”اگر آپ بینکنگ انڈسٹری کے گزشتہ چند سالوں کو دیکھیں گے تو معلوم ہو گا کہ ہمارے بہت سے حریفوں نے اپنی ترقی کی ترفتار کو بڑھایا ہے، ہم بھی ترقی کی اپنی رفتار اور اس سلسلے میں توانائی واپس حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اور اس حوالے سے ہمیں بلاشبہ سب سے پہلے مختلف مصنوعات میں اپنے مارکیٹ شئیر کو دوبارہ سے حاصل کرنا ہو گا۔ مگر بینک چلانے کے لیے آپ کو لوگوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ جیسا کہ انتظامی امور کے حوالے سے ایک مشہور مقولہ ہے کہ ‘کلچر حکمت عملی کو ختم کر دیتا ہے۔’ یعنی آپ کی حکمت عملی چاہے جتنی مرضی مضبوط ہو اس کی کامیابی کا انحصار آپ کی ٹیم پر ہوتا ہے، اگر ٹیم کا کلچر ایک جیسا نہیں ہو گا تو وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی۔”

اور اس حوالے سے ہمارے ذرائع نے بتایا کہ بینک الفلاح کا کلچر جمود کا شکار ہو چکا تھا۔ ملازمین مسلسل چھوڑ کر دوسرے بینکوں میں جا رہے تھے۔ مبینہ طور پر عاطف باجوہ اپنی واپسی پر گروپ کے کچھ سربراہان کی موجودگی سے خوش نہیں تھے اور انہوں نے ان میں سے چند ایک کو ہٹانے یا الگ تھلگ کرنے کا عہد ک رکھا تھا۔ تاہم جب عاطف باجوہ سے اس بارے میں سوال کیا گیا تو تو انہوں نے اس کی تردید کر دی۔ اُدھر ذرائع کہتے ہیں کہ عاطف باجوہ کی واپسی کے ساتھ ہی بینک کا کلچر بدلنا شروع ہو گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستان قرضوں کے جال سے نکلنے میں ناکام کیوں؟

عاطف باجوہ خود بھی کلچر سے جڑے مسائل سے بہ خوبی واقف ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ”لوگوں کو ایک ہی کلچر کے تحت چلانے کی ضرورت ہے، یہ کلچر دراصل عزم و ہمت، ترقی پسندی، جدت، ٹیم ورک اور مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت پر مبنی ہونا چاہیے۔ جب کوئی ادارہ مسلسل تبدیلی کے عمل سے گزرتا ہے تو ان چیزوں پر توجہ کم ہو جاتی ہے۔ لہٰذا ہم اس توجہ کو واپس لانا اور ایک مستقل اور مستحکم کلچر بنانا چاہتے ہیں جو ادارے کو آگے لے کر جائے۔  یہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ ہمارے لوگوں میں مزید ہمت اور ترقی کی خواہش پیدا ہو۔”

جب اُن سے کہا گیا کہ بینک کا ہیومن ریسورس ڈیپارٹمنٹ مزید بہتر کارکردگی دکھا سکتا تھا تو عاطف باجوہ نے کہا ”صرف ہیومن ریسورس ڈیپارٹمنٹ کو ذمہ دار ٹھہرانا کسی طور منصفانہ نہیں، اگر ادارے میں کسی طرح کی کوئی ناراضگی ہوتی ہے تو اس کا تعلق اس کلچر سے ہوتا ہے جو ادارے میں پنپ چکا ہوتا ہے۔ قائد کے طور پر مجھے ذاتی طور پر ذمہ داری لینی ہو گی تاکہ میں یہ کبھی نہ کہہ سکوں کہ میرا ہیومن ریسورس ڈیپارٹمنٹ اچھی کارکردگی نہیں دکھا رہا کیونکہ یہ میری ذمہ داری ہے کہ ایسا ماحول قائم ہو جہاں ہر کوئی خود یہ محسوس کرے کہ اسے درست کام کیسے کرنا ہے۔”

مستقبل  کی منصوبہ بندی کیا ہے؟

پرافٹ سے گفتگو میں عاطف باجوہ نے بار بار بینک کی ڈیجیٹل حکمت عملی کا حوالہ دیا، ان کا کہنا تھا کہ ”ایک اہم عنصر ڈیجیٹل بینکنگ اور مالیاتی خدمات کے مستقبل میں سرمایہ کاری کرنا ہے، اس سلسلے میں جو ہم نے بنایا ہے اس حوالے سے ہماری پوزیشن بہت مضبوط ہے اور آج ڈیجیٹل طور پر سب سے زیادہ سودمند مصنوعات پیش کر رہے ہیں۔”

انہوں نے کہا کہ کورونا وبا کی وجہ سے صارفین روایتی ٹرانزیکشنز سے ہٹ کر ڈیجیٹل ٹرانزیکشنز کی جانب آئے ہیں، تاہم بینک کے اندرونی معاملات کو بھی اب ڈیجیٹل طور پر چلانے کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لیے کچھ فن ٹیک کمپنیوں کے ساتھ بات چیت بھی چل رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: ظفر مسعود: ایک کرشماتی شخصیت، کیا وہ بینک آف پنجاب کو ’بگ فائیو کلب‘ کا حصہ بنا پائیں گے؟

لیکن ہمیں جائزہ لینا ہو گا کہ آخر عاطف باجوہ نے اپنی گفتگو میں کچھ مخصوص الفاظ کا استعمال بار بار کیوں کیا ؟ؕ جیسے کہ ڈیجیٹل اور مارکیٹ شئیر۔ ان الفاظ سے یہ مطلب اخذ کیا جا سکتا ہے بینک الفلاح کہیں نہیں جا رہا، یہی وجہ ہے کہ عاطف باجوہ محتاط بھی ہیں اور وہ ترقی کے ہر حوالے کو آہستہ اور مستحکم انداز میں استعمال کر رہے ہیں۔ یہ گروپ اور مارکیٹ کو ان کی متوقع کارکردگی کے حوالے سے واضح اشارہ ہے۔

مگر مارکیٹ نے عاطف باجوہ کی واپسی پر کوئی ردِعمل نہیں دیا بالکل اسی طرح جیسا کہ اس نے نعمان انصاری کی تعیناتی کے موقع پر کیا تھا۔ غالباً اُس وقت یہ بات واضح تھی کہ بینک کو فروخت کیا جا رہا ہے اور یہ مارکیٹ شئیر کے دو گنا کے قریب قیمت حاصل کرنے میں کامیاب رہے گا۔ لیکن اب یہ واضح ہےکہ بینک کو فروخت کرنے کیلئے کوئی ڈیل زیغور نہیں۔ تاہم ایک چیز اب بھی واضح نہیں وہ یہ کہ بینک الفلاح کی مستقبل کی حکمت عملی کیا ہو گی اور عاطف باجوہ واپس کیوں آئے ہیں؟

سوال یہ ہے کہ کیا بینک الفلاح پانچ بڑے بینکوں کو ٹکر دے سکے گا؟ دو دیگر بینک بھی اس دوڑ کا حصہ ہیں، 31 دسمبر 2001ء تک میزان بینک کے ڈیپازٹس صرف تین ارب اور بینک الحبیب کے 25 ارب روپے تھے۔ مگر 30 جون 2020ء تک میزان بینک کے ڈیپازٹس ایک ہزار 45 ارب روپے جبکہ بینک الحبیب کے ڈیپازٹس ایک ہزار 42 ارب روپے تھے۔ یوں 2019ء میں میزان بینک نے بینک الحبیب سے ڈیپازٹس کے لحاظ سے ملک کے چھٹے بڑے بینک کی پوزیشن چھین لی۔

مگر اس کے برعکس بینک الفلاح آٹھواں بڑا بینک ہے۔ کیا یہ دوبارہ سے ترقی کا سفر شروع کر پائے گا؟ عاطف باجوہ اور ان کا گروپ اس حوالے سے کافی پرعزم ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here