جنوبی کوریا کے تعاون سے اسلام آباد میں جدید ترین آئی ٹی پارک کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا

آئی ٹی پارک کے قیام کیلئے جنوبی کوریا کے ایگزم بینک سے نہایت آسان شرائط پر قرض حاصل کیا گیا جس کی ادائیگی 40 برس کی آسان اقساط میں کی جائے گی، منصوبے کی مجموعی لاگت 13 ارب 72 کروڑ روپے سے زائد ہے، وفاقی وزیر آئی ٹی و ٹیلی کام سید امین الحق

233
اسلام آباد: وفاقی وزیر آئی ٹی و ٹیلی کام سید امین الحق جدید ترین انفارمیشن ٹیکنالوجی پارک کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کر رہے ہیں (تصویر: پی آئی ڈی)

اسلام آباد: جنوبی کوریا کی معاونت سے وفاقی دارلحکومت میں جدید ترین انفارمیشن ٹیکنالوجی پارک کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا۔

وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام سید امین الحق نے جنوبی کوریا کے پاکستان میں سفیر سوسنگ پایو کے ہمراہ اسلام آباد میں آئی ٹی پارک کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھا، یہ آئی ٹی پارک ڈیجیٹل پاکستان ویژن کی تکمیل کیلئے اور ملک میں ڈیجیٹلائزیشن کے فروغ کیلئے اہم ترین ثابت ہو گا۔

تقریب سنگ بنیاد میں سیکریٹری آئی ٹی شعیب احمد صدیقی، وزارت آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکشن کے اعلیٰ حکام پراجیکٹ ڈائریکٹر آئی ٹی پارک عامر احمد سمیت دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی۔

اس موقع پر اپنے خطاب میں وفاقی وزیر آئی ٹی و ٹیلی کام سید امین الحق نے کہا کہ یہ پاکستانی عوام کیلئے خوشخبری ہے کہ اسلام آباد میں سٹیٹ آف دی آرٹ سہولیات سے آراستہ جدید ترین آئی ٹی پارک قائم کیا جا رہا ہے، یہ پارک اسلام آباد کے علاقہ چک شہزاد میں 15 ایکڑ رقبے پر بنایا جا رہا ہے جو 12 منزلوں پر مشتمل ہو گا اس کی دو منزلیں زیر زمین ہوں گی۔

یہ بھی پڑھیے:

پاکستان کا آئی ٹی سیکٹر دیگر ممالک کے مقابلے میں پیچھے کیوں ہے؟

پاکستان کا نیشنل انکیوبیشن سینٹرز پراجیکٹ دنیا بھر میں ٹاپ 5 آئی ٹی منصوبوں میں شامل

انہوں نے کہا کہ 66 ہزار مربع میٹر سے زائد گنجائش کے اس منصوبے کی مجموعی لاگت 13 ارب 72 کروڑ روپے سے زائد ہے۔ آئی ٹی پارک کے قیام کیلئے جنوبی کوریا کے ایگزم بینک سے نہایت آسان شرائط پر قرض حاصل کیا گیا ہے جس کی ادائیگی انتہائی معمولی مارک اَپ پر 40 برس کی آسان اقساط میں کی جائے گی۔

وفاقی وزیر آئی ٹی کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل پاکستان ویژن کی تکمیل کیلئے ضروری تھا کہ آئی ٹی انفراسٹرکچر کو مربوط کرکے اس صنعت سے وابستہ افراد کو ایسا پلیٹ فارم مہیا کیا جائے جہاں سے وہ ناصرف آئی ٹی کے ذریعے ملکی معیشت کو استحکام دیں بلکہ ٹیکنالوجی کی منتقلی کے علاوہ ڈیجیٹل ورلڈ میں روپذیر تبدیلیوں سے بروقت آگاہ رہتے ہوئے خود کو ہم آہنگ بھی کرتے رہیں۔

سید امین الحق نے بتایا کہ آئی ٹی پارک کی تعمیر کے دوران بالواسطہ اور بلاواسطہ پانچ ہزار ہنرمندوں اور مزدوروں جبکہ بعدازاں 10 سے 15 ہزار سے زائد آئی ٹی ماہرین اور طلباء کو باعزت روزگار فراہم ہو گا جس سے آئی ٹی ایکسپورٹ میں نمایاں اضافے کے ساتھ پاکستانی ہنرمندوں کی بین الاقوامی شناخت میں مدد بھی ملے گی جبکہ براہ راست بیرونی و مقامی سرمایہ کاری کے مواقع بھی میسر آئیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ جلد ہی اسی طرز کا آئی ٹی پارک کراچی میں بھی قائم کیا جائے گا، آئی ٹی پارک میں ابتدائی طور پر 120 اسمال و میڈیم سٹارٹ اپس انٹرپرائزز کو تمام جدید سہولتوں سے آراستہ جگہ فراہم کی جائے گی۔ جدید ٹیسٹنگ لیبارٹریز، کلاس رومز، آئی ٹی و متعلقہ صنعتوں سے منسلک اکیڈمک سینٹرز، آڈیٹوریم اور دیگر سہولیات بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔

وفاقی وزیر نے پاکستان میں آئی ٹی پارکس انفراسٹرکچر پر روشنی دالتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں اس وقت مجموعی طور پر فعال سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارکس کی تعداد 15 ہے جن میں تین اسلام آباد میں، دو راولپنڈی، آٹھ لاہور، ایک کراچی اور ایک گلگت میں قائم ہیں جن کا مجموعی رقبہ تقریباََ 11 لاکھ مربع فٹ پر مشتمل ہے جس میں 100 سے زائد آئی ٹی کمپنیاں کام کر رہی ہیں اور براہ راست 10 ہزار افراد کو روزگار میسر ہے۔

وفاقی وزیر آئی ٹی و ٹیلی کام نے کہا کہ ان کی خواہش یہی ہے کہ ملک کے ہر چھوٹے بڑے شہر میں سافٹ وئیر ٹیکنالوجی پارکس کا جال بچھایا جائے کیونکہ ڈیجیٹل ورلڈ کا مقابلہ کرنے کیلئے اپنے نیٹ ورک میں توسیع کرنا لازم ہے، اسی صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ فوری طور پر کوئٹہ، گوادر، فیصل آباد، بنوں، سوات، مردان، سکھر حیدرآباد میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارکس کے قیام کے لیئے اقدامات کر رہا ہے۔

اس موقع پر اپنے خطاب میں جنوبی کورین سفیر نے کہا کہ 2019ء میں کوریا اور پاکستانی حکومت کے درمیان ایک معاہدہ ہوا تھا جس کے تحت کوریا کے اکنامک ڈیویلپمنٹ کوآپریشن فنڈ کے تحت پاکستان میں انفراسٹرکچر کی تعمیر کیلئے 50 کروڑ ڈالر کا انتہائی آسان شرائط پر قرض جاری کیا جانا تھا۔ آئی ٹی پارک کی تعمیر اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

یاد رہے کہ وفاقی وزارت آئی ٹی و ٹیلی کام نے موجودہ دور حکومت کے ابتدائی ڈھائی برسوں میں متعدد انقلابی اقدامات کیئے ہیں جن میں ٹیلی کام کے فروغ کیلئے ملک بھر میں آپٹیکل فائبر کیبل بچھانے اور دور دراز علاقوں میں براڈبینڈ سروسز کی فراہمی کیلئے 31 ارب روپے سے زائد کے منصوبے شروع کیئے گئے ہیں۔

اسی طرح رائٹ آف وے پالیسی، ٹیلی کام کو انڈسٹری کا درجہ دلانے اور ٹیکس میں نمایاں کمی جیسی اہم پالیسیوں کی منظوری حاصل کی گئی۔ ان اقدامات کے باعث آئی ٹی کی سالانہ برآمدی ترسیلات دو ارب ڈالر کے قریب پہنچ چکی ہے جبکہ 2023ء تک اس کا ہدف پانچ ارب ڈالر مقرر کیا گیا ہے۔

انٹرنیشنل ٹیلی کمیونیکیشن یونین کی جانب سے 2021ء کے انعامی مقابلے میں پاکستان کے بڑے شہروں میں قائم انکوبیشن سینٹرز کو دنیا کے ٹاپ فائیو چیمپیئن پراجیکٹس میں شامل کیا گیا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here