پاکستان کا آئی ٹی سیکٹر دیگر ممالک کے مقابلے میں پیچھے کیوں ہے؟

192

لاہور: کمپیوٹر سائسندان اورسابق چئیرمین پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (پی آئی ٹی بی) ڈاکٹر عمر سیف نے کہا ہے کہ آئی ٹی سیکٹر میں عدم سکلڈ افرادی قوت پاکستان میں آئی ٹی سیکٹر میں شرح نمو کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ 

ایک نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر عمر سیف نے کہا کہ پاکستان میں آئی ٹی انڈسٹری پھل پھول اور نمو کر رہی ہے۔ پاکستان سافٹ وئیر ایکسپورٹ بورڈ (پی ایس ای بی) کے مطابق رواں مالی سال کے دوران سکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) میں 2826 آئی ٹی کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئیں۔

کورونا وائرس کے سبب ای کامرس اور آن لائن ٹریڈنگ کی شرح نمو میں اضافہ ہوا جس نے کراچی، اسلام آباد اور لاہور کے ساتھ ابھرتے ہوئے سافٹ وئیر ٹیکنالوجی سینٹرز کے طور پر آئی ٹی سیکٹر کو فروغ دیا ہے۔

پی ایس ای بی کے مطابق رواں مالی سال کے دوران پاکستان کے آئی ٹی سیکٹر کی برآمدات گزشتہ سال کے مقابلے میں 40 فیصد اضافے سے 1.3 ارب ڈالر رہیں۔ پی ایس ای بی نے اس مالی سال کے اختتام تک پاکستان کی برآمدات 2.5 ارب ڈالر پہنچنے کی توقع ظاہر کی ہے۔

تاہم عمر سیف کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سرکاری سطح پر آئی ٹی برآمدات ایک ارب ڈالر سے 1.25 ارب ڈالر ہے لیکن حقیقی اعدادوشمار 3 ارب ڈالر سے ساڑھے 3 ارب ڈالر ہیں۔

یہ بھی پڑھیے:

8 ماہ میں پاکستان کو آئی ٹی برآمدات سے ایک ارب 29 کروڑ ڈالر سے زائد زرمبادلہ حاصل

پنجاب کی 9 یونیورسٹیوں میں نینو اور مائیکرو چپ ٹیکنالوجی کے منصوبے پر کام شروع

ڈاکٹر سیف نے کہا کہ “اس کی وجہ یہ ہے کہ آئی ٹی سیکٹر کی برآمدات کو دستاویزی شکل میں ریکارڈ نہیں کیا جاتا کیونکہ یہ آن لائن سافٹ وئیر برآمد کرتی ہے لہٰذا بے شمار ریونیو ترسیلاتِ زر کے تحت بُک کیا جاتا ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ زیادہ تر ریونیو پاکستان نہیں آتا جس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کی کئی آئی ٹی کمپنیاں بیرونِ ممالک رجسٹرڈ ہیں اس لیے انکی آمدن بیرونِ ممالک میں ہی رہتی ہے”۔

ڈاکٹر عمر سیف کا کہنا تھا کہ آئی ٹی سیکٹر جو ٹیکس ریجیم میں پہلے ٹیکس فری تھا لیکن اس پر ٹیکس عائد کرنا اس انڈسٹری کی شرح نمو کو متاثر کرے گا۔ پاکستان کی آئی ٹی برآمدات کا بھارتی آئی ٹی کی مصنوعات کے ساتھ مقابلہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارتی آئی ٹی برآمدات کا حجم 100 ارب ڈالر ہے جو پاکستانی برآمدات سے 30 گنا زیادہ ہے۔ “اس کی وجہ یہ ہے کہ بھارتی آئی ٹی انڈسٹری کے ملازمین 4.5 ملین سے زیادہ ہیں اس کے مقابلے میں پاکستان کی آئی ٹی کی افرادی قوت کی تعداد 125000 ہے”۔

عمر سیف نے کہا کہ پاکستان میں 6 سے 7 لاکھ افراد کو آئی ٹی انڈسٹری میں کام کرنا چاہیے۔ “اگر ہماری جامعات اس طرح کے لوگوں کی ترتیب کریں تو یہ ممکن ہے کیونکہ پاکستان کی تایخی صنعتیں ٹیکسٹائل اور زراعت ہیں جو کم ٹیکنالوجی کی حامل انڈسٹریز ہیں جن کے لیے ماہر افراد قوت کی ضرورت نہیں ہے۔ تاہم آئی ٹی سیکٹر کو اعلیٰ سکلڈ افرادی قوت کی ضرورت ہے”۔

انہوں نے کہا کہ “پاکستان کو اعلیٰ سکلڈ آئی ٹی کی افرادی قوت پیدا کرنے پر زور دینا چاہیے”۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here