پاکستان کے زرعی سیکٹر کے حوالے سے ایشیائی ترقیاتی بینک کا خدشات کا اظہار

اگر پیرس معاہدہ پر عمل درآمد کرتے ہوئے عالمی درجہ حرارت میں اضافہ کو 1.5 سینٹی گریڈ تک محدود بھی کر لیا جائے تو اس کے باوجود دنیا بھر میں گندم کی پیداوار میں پانچ فیصد جبکہ مکئی کی پیداوار میں چھ فیصد تک کمی کا خدشہ ہے، رپورٹ

173

اسلام آباد: ایشیائی ترقیاتی بینک نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے گندم اور مکئی کی بین الاقوامی پیداوار میں پانچ فیصد اور چھ فیصد کمی کا خدشہ ہے۔

ایشیائی ترقیاتی بینک نے ”کلائمیٹ رسک کنٹری پروفائل پاکستان” نامی اپنی حالیہ رپورٹ میں کہا ہے کہ موسمیاتی تغیرات کے باعث پاکستان میں زرعی شعبہ کو بالواسطہ اور بلاواسطہ مختلف مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر پیرس معاہدہ پر عمل درآمد کرتے ہوئے عالمی درجہ حرارت میں اضافہ کو 1.5 سینٹی گریڈ تک محدود بھی کر لیا جائے تو اس کے باوجود دنیا بھر میں گندم کی پیداوار میں پانچ فیصد جبکہ مکئی کی پیداوار میں چھ فیصد تک کمی کا خدشہ ہے۔

ایشیائی ترقیاتی بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد زرعی پیداوار کے حامل علاقہ کو سیراب کیا جاتا ہے جبکہ گندم، چاول، کپاس، گنا اور مکئی پاکستان کی اہم اور بڑی نقد آور فصلیں ہیں۔

اے ڈی بی نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے پاکستان میں زراعت کے علاوہ لائیو سٹاک کا شعبہ بھی متاثر ہوتا ہے جس کی وجہ سے لوگوں کے وسائل آمدنی پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں زراعت کا شعبہ مجموعی افرادی قوت کے 38 فیصد حصہ کو روزگار فراہم کرتا ہے جبکہ ملک کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں زرعی شعبہ 22 فیصد کا شراکت دار ہے جس کے باعث موسمیاتی تبدیلیوں سے تحفظ کے حوالہ سے زراعت انتہائی بنیادی اہمیت کی حامل ہے اور موحولیاتی تغیرات سے زراعت کو بچانے کیلئے اعلیٰ ترجیحات کے تحت اقدامات کی ضرورت ہے۔

بینک نے پاکستان میں پالیسی سازوں پر زور دیا ہے کہ پائیدار اقتصادی ترقی کے مطلوبہ اہداف کے حصول کو یقینی بنانے کیلئے زرعی شعبہ کو موسمیاتی تبدیلیوں کے نقصانات سے تحفظ فراہم کرنے کیلئے جامع حکمت عملی مرتب کر کے اقدامات کو یقینی بنایا جائے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here