بالآخر ایمازون نے پاکستان کی سیلرز لسٹ میں شمولیت کی تصدیق کر دی

726

لاہور: پاکستان کو معروف ای کامرس پلیٹ فارم ایمیزون کے فروخت کنندگان کی لسٹ میں شامل کر لیا گیا۔

اس حوالے سے وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت و سرمایہ کاری عبدالرزاق داؤد نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک ٹویٹ میں کہا کہ ایمازون نے بالآخر پاکستان کو اپنی فروخت کنندگان کی فہرست میں شامل کرنے کی تصدیق کر دی ہے۔

مشیر تجارت نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ یہ پاکستان کے ای کامرس سیکٹر کیلئے بڑی کامیابی ہے اور اس سے نوجوان انٹرپرینیورز بالخصوص خواتین کیلئے اپنا کاروبار کرنے کے وسیع مواقع میسر آئیں گے۔ ایمازون سے مکمل طور پر مستفید ہونے کے لیے بہت محنت کرنا پڑے گی، یہ ہمارے نوجوانوں کےلیے بہت اہم موقع ہے۔ انہوں نے اس مقصد کے حصول کے کوشش کرنے والوں کو مبارکباد بھی پیش کی۔

رزاق دائود نے ایمازون انٹرنیشنل سیلر سروس کے نائب صدر ایرک بروسارڈ کا بیان بھی شئیر کیا جس میں کہا گیا ہے کہ ’’ہمیں (ایمازون) یہ اعلان کرتے ہوئے بے حد خوشی ہو رہی کہ آج سے پاکستانی انٹرپرینیورز ہمارے پلیٹ فارم پر چیزیں فروخت کرنے کے اہل ہوں گے۔‘‘

ایمازون انٹرنیشنل سیلر سروس کے نائب صدر  کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’ہم پاکستان کی پرجوش بزنس کمیونٹی خاص طور پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے سیلرز کے ساتھ کام کرنے اور انہیں دنیا بھر کے کسٹمز کے ساتھ منسلک کرنے کے خواہشمند ہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھیے:

بڑی خبر! اب پاکستانی ایمازون پر براہ راست کاروبار کر سکیں گے 

وزارت تجارت نے ای کامرس کے حوالے سے نئے قوانین متعارف کرا دیے

سال 2020ء: وبا کے باوجود ای کامرس کا عالمی حجم 26 کھرب 70 ارب ڈالر ریکارڈ

وزارت تجارت سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دنیا کے سب سے بڑے ای کامرس پلیٹ فارم میں کی شامل ہونا قومی ای کامرس پالیسی کا اہم سنگ میل ہے جو وزارت تجارت، واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانہ، لاس اینجلس میں قونصلیٹ جنرل اور امریکہ میں پاکستانی کمیونٹی کی طرف سے ایمازون کے ساتھ 2019ء کی آخری سہ ماہی کے بعد پائیدار روابط کا نتیجہ ہے۔

وزارت تجارت کے مطابق قومی ای کامرس پالیسی کے تحت کاروباری برادری اور سرکاری شراکت داروں کے ساتھ متواتر بات چیت کا عمل جاری رہا جس کی وجہ سے پاکستانی فروخت کنندگان کو ایمازون تک رسائی ممکن ہوئی ہے۔

پاکستانی مینوفیکچررز کو ایمازون کے ذریعے دنیا بھر میں ای کامرس پلیٹ فارم حاصل ہو گیا ہے جہاں وہ برائے راست اپنی مصنوعات صارفین کو فروخت کر سکیں گے۔ مینوفیکچررز صارفین کی پسند کی مصنوعات تیار کر کے نہ صرف مسابقتی عمل میں شامل ہو سکیں گے بلکہ انہیں نئی منڈیوں تک رسائی بھی حاصل ہو گی۔

اس سے قبل 6 مئی کو مشیر تجارت رزاق دائود نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ ایمازون جلد پاکستان کو اپنی سیلر لسٹ کا حصہ بنا لے گی، ان کا کہنا تھا “ہم گزشتہ سال سے ایمازون کے ساتھ منسلک ہیں، یہ ہمارے نوجوانوں، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں (ایس ایم ایز) اور کاروبار کرنے والی خواتین کے لئے ایک بہترین موقع ہے”۔

مشیر تجارت وقتاََ فوقتاََ معیشت کی ترقی اور فروغ کیلئے ای کامرس کے اہم ترین کردار کو اجاگر کرتے رہتے ہیں، خاص طور پر کورونا وبا کے باعث معاشی بحران کے زمانے اس کی اہمیت اور بھی بڑھ چکی ہے۔

یاد رہے کہ رواں ماہ کے شروع میں پاکستان کو ایمازون کی تصدیق شدہ سیلر لسٹ میں رجسٹر ہونے کی منظوری دی گئی تھی اور اس حوالے سے تفصیلات بھی ایمازون کی ویب سائٹ پر جاری کی گئی تھیں۔

ٹیکنالوجی انڈسٹری کے ماہرین کے مطابق ایمازون کے تصدیق شدہ ممالک کی فہرست کا حصہ بننے کے بعد پاکستانی اب اپنی تفصیلات استعمال کرتے ہوئے ایمازون پر اکائونٹ بنا سکیں گے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایمازون اپنا کاروبار دنیا بھر میں پھیلانے کی پالیسی پر کاربند ہے اور اس وقت کئی ممالک میں کام کر رہی ہے جن میں امریکا، برطانیہ، آسٹریلیا، جرمنی، میکسیکو، برازیل، کینیڈا، فرانس، بھارت، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، جاپان اور دیگر کئی ممالک شامل ہیں۔

تاہم پاکستان ان ممالک میں شامل نہیں تھا اور پاکستانی سیلرز کو کسی دوسرے ملک سے خود کو رجسٹر کروانا پڑتا تھا، لیکن ایمازون کی سیلر لسٹ میں پاکستان کی شمولیت سے مقامی ای کامرس سیکٹر میں یقیناََ انقلاب  آئے گا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here