امریکا، ترکی اور امارات کی ائیرلائنز نے اسرائیل کیلئے پروازیں معطل کر دیں

ترکی کی ٹرکش ائیر لائنز، متحدہ عرب امارات کی اتحاد ائیر ویز، فلائی دوبئی اور ایمیریٹس ائیرلائنز کے علاوہ امریکا کی یونائٹڈ ائیرلائن، ڈیلٹا ائیرلائن اور امریکن ائیرلائن نے بھی تل ابیب کیلئے پروازیں عارضی طور پر معطل کر دی ہیں

262

استنبول: فلسطین اور اسرائیل کے مابین حالیہ کشیدگی اور اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ پر جارحانہ فضائی حملوں کی وجہ سے متعدد فضائی کمپنیوں نے تل ابیب کیلئے اپنی پروازیں معطل کر دی ہیں۔

ترک نشریاتی ادارے کے مطابق اسرائیل کے غزہ پر فضائی حملوں کے باعث متعدد ائیرلائنز نے حفاظتی اقدامات کے پیش نظر اپنی پروازیں معطل کر دی ہیں۔ ترکش ائیرلائن نے بھی استنبول سے تل ابیب کیلئے پروازیں تاحکم ثانی معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس سے قبل متحدہ عرب امارات کی اتحاد ائیرویز، فلائی دوبئی اور ایمیریٹس ائیرلائنز نے بھی اسرائیل کیلئے اپنی پروازیں عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ امریکا کی یونائٹڈ ائیرلائن، ڈیلٹا ائیرلائن اور امریکن ائیرلائن نے بھی تل ابیب کیلئے پروازیں عارضی طور پر روک دی ہیں۔

ادھر اسرائیل کی فوج کی جانب سے غزہ سمیت فلسطین کے دیگر علاقوں پر بمباری چھٹے روز بھی جاری رہی۔اطلاعات کے مطابق ہفتے کو اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ میں ہی مہاجر کیمپ کو نشانہ بنایا گیا اور حملے میں ایک ہی خاندان کے دس افراد جاں بحق ہو گئے۔

فلسطین میں حماس کے تحت کام کرنے والی وزارت صحت کے مطابق جمعہ کی شب کئی مقامات پر جھڑپیں بھی دیکھی گئیں جن میں 8 افراد جاں بحق اور 50 سے زیادہ زخمی ہوئے۔

فلسطین میں اسرائیلی عسکری کارروائی سے جاں بحق ہونے والوں کی مجموعی تعداد ہفتہ کو 139 ہو گئی جس میں 31 بچے بھی شامل ہیں۔ اب تک 900 سے زیادہ افراد زخمی بھی ہو چکے ہیں۔

ہفتے کو اسرائیلی طیاروں نے غزہ میں ایک 12 منزلہ عمارت کو نشانہ بنایا جس میں قطر کے ٹی وی چینل الجزیرہ اور امریکی خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) سمیت کئی میڈیا اداروں کے دفاتر قائم تھے۔

الجزیرہ ٹی وی کی جاری کردہ ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ 12 منزلہ عمارت فضائی حملے کے بعد لمحوں میں زمین بوس ہو رہی ہے اور آسمان کی جانب دھواں بلند ہو رہا ہے۔ غیرملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق الجلا ٹاور کے مالک نے میڈیا کو اسرائیلی حملے کے حوالے سے پہلے ہی خبردار کر دیا تھا اور عمارت کو خالی کرا لیا گیا تھا۔

دوسری جانب حماس کی طرف سے اسرائیل کی جانب راکٹ حملوں کا سلسلہ بھی جاری ہے، اسرائیل میں اب تک آٹھ افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here