فیس بک کے نگران بورڈ کی سابق صدر ٹرمپ کا اکاﺅنٹ بند رکھنے کی حمایت

ٹرمپ کے اکائونٹ 6 جنوری کو کیپیٹل ہل بلڈنگ حملے کے اگلے دن معطل کیے گئے تھے کیونکہ صدر نے اپنے حامیوں کو تشدد پر اکسایا تھا

154

واشنگٹن: سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک کے بظاہر غیر جانبدار نگران بورڈ نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر فیس بک اور انسٹا گرام پر کچھ بھی پوسٹ کرنے پر عائد پابندی کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔

تاہم پینل نے اس امکان کو رَد نہیں کیا کہ سابق صدر اِن مقبول ویب سائٹس پر واپس آ سکتے ہیں، جہاں کروڑوں صارفین موجود ہیں۔

امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق پینل نے کہا ہے کہ فیس بک کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ لامحدود مدت اور کوئی معیار مقرر کئے بغیر ہمیشہ کے لیے معطلی کی سزا مسلط کرے۔ نگران پینل نے فیس بک کو چھ ماہ کی مدت دی ہے کہ وہ سابق صدر کے اکائونٹس معطل کرنے کے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے۔

یہ بھی پڑھیے:

یوٹیوب نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یوٹیوب چینل معطل کر دیا

ٹویٹر نے ٹرمپ کے حامیوں کے 70 ہزار اکائونٹ بند کر دیئے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ٹویٹر اکائونٹ مستقل بند

ٹرمپ کے حامیوں کا امریکی پارلیمان پر دھاوا، چار ہلاک، واشنگٹن میں کرفیو

فیس بک نے جو بورڈ تشکیل دیا ہے اس میں 20 ارکان شامل ہیں، جن میں قانونی امور اور انسانی حقوق کے ماہرین کے علاوہ صحافی بھی شامل ہیں۔

فیس بک کے پانچ رکنی پینل نے اس فیصلے کو تحریر کیا ہے جس کو پورے بورڈ کی اکثریت سے منظوری درکار ہے۔ اس کے بعد فیس بک پر لازم ہو گا کہ وہ اس فیصلے پر عمل درآمد کرے تاکہ یہ قانون کے خلاف نہ ہو۔

بورڈ کا کہنا ہے کہ اس کا مشن ہے کہ مشکل ترین سوالوں کے جوابات دیئے جائیں جو آن لائن آزادی اظہار کے گرد گھومتے ہیں کہ کس مواد کو ہٹایا جائے اور کس کو برقرار رکھا جائے۔

واضح رہے کہ سابق صدر ٹرمپ کے اکائونٹ 6 جنوری 2021ء کو واشنگٹن ڈی سی میں کیپیٹل ہل کی عمارت پر حملے کے اگلے دن معطل کیے گئے تھے جب صدر نے اپنے حامیوں کو کہا تھا کہ وہ قانون سازوں کا مقابلہ کریں جو بائیڈن کی نومبر کے انتخابات میں فتح کی توثیق کر رہے تھے۔

سوشل میڈیا پر اشتعال انگیز بیانات کی وجہ سے ٹویٹر نے صدر ٹرمپ کا اکائونٹ مستقل بند کر دیا تھا جبکہ یوٹیوب نے بھی ان کے چینل پر غیرمعینہ مدت تک پابندی عائد کر دی تھی، ٹرمپ کے حامیوں کے بھی 70 ہزار ٹویٹر اکائونٹ معطل کر دیے گئے تھے کیونکہ ان سے اشتعال انگیز مواد شائع ہو رہا تھا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here