‘ہواوے پاکستان میں ایک ہزار سرکاری ملازمین کو تربیت فراہم کرے گی’

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے ہواوے کے وفد کی ملاقات، ملک میں نالج اکانومی اور ڈیجیٹلائزیشن کو فروغ دینے کی ضرورت پر گفتگو

138

اسلام آباد: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سرکاری اداروں کی کارکردگی اور خدمات کو موثر بنانے کیلئے ملک میں نالج اکانومی اور ڈیجیٹلائزیشن کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی صلاحیتوں اور وسائل کو درست سمت میں استعمال کرنے کیلئے حکومت سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔

سوموار کو چین کی ٹیکنالوجی کمپنی ہواوے کے نائب صدر برائے مشرق وسطیٰ لی شیانگ یو کی سربراہی میں ایک وفد نے صدر مملکت سے ملاقات کی، اس موقع پر سیکرٹری سائنس و ٹیکنالوجی ڈاکٹر ارشد محمود، سیکرٹری تعلیم فرح حامد، ایڈیشنل سیکرٹری آئی ٹی علی شیر محسود اور دیگر حکام بھی موجود تھے۔ ٹاسک فورس برائے سائنس و ٹیکنالوجی کے چیئرمین ڈاکٹر عطاء الرحمن نے بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کی۔

ہواوے کے نائب صدر برائے مشرقِ وسطیٰ لی شیانگ یو نے پاکستان میں آئی ٹی سے متعلق مہارتوں کے فروغ میں ہواوے کے کردار کے بارے میں پریزینٹیشن دی۔

انہوں نے بتایا کہ ہواوے نے 2018ء سے 2020ء تک دس ہزار ملازمتوں کی فراہمی اور 12 کروڑ ڈالر کے ٹیکس دے کر پاکستان کی معیشت میں اپنے حصے کا کردار ادا کیا ہے جبکہ ناگہانی آفات میں ریلیف کی حکومتی کوششوں میں معاونت کیلئے بھی 60 لاکھ ڈالر خرچ کئے ہیں۔

لی شیانگ یو کا کہنا تھا کہ ان کے ادارے نے پاکستان کے انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی میں ٹیلنٹ کو سامنے لانے کے لئے سال 2020ء میں 10 ہزار سرٹیفکیشن فراہم کی ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ہواوے وزارت آئی ٹی کے ساتھ مل کر ڈیجیٹل پاکستان ویژن کے تحت ایک ہزار سرکاری ملازمین کو تربیت فراہم کرے گا، سرکاری عہدیداران کی تربیتی پروگراموں کے لئے رجسٹریشن کی جائے گی۔

اس موقع پر صدر عارف علوی نے پاکستان میں آئی ٹی سے متعلق تربیت فراہم کرنے کیلئے ہواوے کے اقدامات کو سراہا۔ انہوں نے وزارت آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن کو ہدایت کی کہ مصنوعی ذہانت، بلاک چین، بگ ڈیٹا، کلائوڈ کمپیوٹنگ اور دیگر ٹیکنالوجیز کے شعبوں میں سرکاری ملازمین کی تربیت کے پروگراموں کے لئے ٹائم لائنز طے کی جائیں۔

صدر مملکت کا مزید کہنا تھا کہ جدید آئیڈیاز سامنے لانے کے علاوہ ڈیجیٹل پاکستان وژن کو جلد عملی جامہ پہنانے کے لئے ہواوے کے ساتھ تعاون کو فروغ دیا جائے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here